تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

ضمنی الیکشنز – ایک نقطۂ نظر

imran farooqاین اے 122کے ضمنی الیکشن میں سردارایاز صادق نے عبدالعلیم خاں کو تقریباً ڈھائی ہزار ووٹوں سے شکست دے دی ۔ دونوں متحارب اُمیدواروں نے اس الیکشن میں کثیر سرمایہ خرچ کیا ۔ الیکشن کمیشن نے بے بس تماشائی کا کردار ادا کیا ۔ اس ضمنی الیکشن میں سردار ایاز صادق کی کامیابی کے چار اہم پہلو ہیں ۔ (1) عبدالعلیم کامقابلہ سردار ایاز صادق سے نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تھا ۔ (2) پی ۔ٹی ۔آئی کے حامی ووٹرز کو جنرل الیکشن کے نتائج کی روشنی میں اپنی کامیابی کا عکس دھندلا نظر آتا تھا ۔ (3) ہماری سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ عوام نے ہمیشہ طاقتور کا ساتھ دیا ہے ۔ (4) مجموعی ٹرن اوور (Turn Over) 43فیصد رہا ۔ اگر یہ 50فیصد سے تجاوز کر جاتا تو پی ۔ٹی ۔آئی واضح مارجن سے کامیابی حاصل کر لیتی ۔
ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم میں عمران خان کی آمد سے حکومتی پارٹی کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ حلقہ کی عوام کیطرف سے عمران خان کی پزیرائی دیکھ کر مسلم لیگ (ن) نے وفاقی وزراء اور حمزہ شہباز ( ڈی فیکٹو وزیرِ اعلیٰ) کو میدان میں اتارا ۔ لاہور کے تمام ایم ۔ این ۔ایز اور ایم ۔پی ۔ ایز کو پورے حلقہ میں ڈور ٹو ڈور رابطہ کے فرائض سونپے گئے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے محکموں میں ملازمتیں دی گئیں ۔ ماروی میمن کے ذریعے حقداران کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے چیک جاری کیے گئے ۔ ترقیاتی کاموں کے وعدے کیئے گئے ۔ یہ تمام باتیں اخبارات اور ٹی وی چینلز کی زینت بن چکی ہیں ۔
2013کے جنرل الیکشنز میں لاہور کے حلقوں میں ٹرن اوور پچاس فیصد یا اس سے زائد رہا ۔ نوجوان نسل اور عورتوں کی بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے تھے ۔ اُنہیں اُمید تھی کہ ملک میں تبدیلی آئیگی لیکن پرانے چہروں کی کامیابی نے اُنہیں مایوس کر دیا ۔ اُنکے اعتماد اور جذبات کو ٹھیس پہنچی ۔ مزید بریں ذیادہ تر ووٹر ز کے نزدیک محض ایک نشست کی کامیابی سے حکومتی سطح پر کوئی تبدیلی ممکن نہیں تھی ۔ لہذاووٹر ز کی اکثریت نے عدم دل چسپی کا اظہا ر کیا ۔ نتیجتاً ٹرن اوور 43 فیصد رہا ۔ سیاسی کارکنان اور گلیوں محلوں کی اشرافیہ کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے حکومتی زعماء کی خوشنودی درکار ہوتی ہے ۔ ایسی تمام قوتیں سردار ایاز صادق کی حمائیت میں سرگرداں رہیں ۔ عبدالعلیم خاں کے بارے میں میڈیا پر منفی پراپیگنڈا کی بھر مار تھی ۔ اُنہیں لینڈ مافیا قرار دیا گیا ۔ مخالف رہنماؤں نے واویلا مچایا کہ علیم خاں نے حلقہ میں موٹر سائیکلیں اور موبائل فونز وغیرہ تقسیم کیئے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ چیزیں نوکریوں کا نعم البدل ہو سکتی ہیں ؟ اعلیٰ ھذاالقیاس عبد العلیم خاں نے یہ الیکشن بُہت اچھا لڑا ۔
این اے 122اور 144کے الیکشنز میں پاکستان تحریک انصاف کی تنظیمی خامیاں عیاں ہو ئی ہیں ۔ بہت سارے مقامی رہنماؤں اور کار کنان نے پارٹی کے اُمیدواروں کی حمائیت میں کھل کر حصہ نہیں لیا ۔ چوہدری سرور کا کردار انتہائی شاندار رہا ہے ۔ این اے 122 میں اچھرہ کی آرائیں برادری نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ میرے نزدیک میاں اظہر کی سر گرم شرکت اشد ضروری تھی ۔ اچھرہ سے میاں عثمان کے بیٹے عبدالمنان مسلم لیگ (ن) سے ناراض تھے ۔ پی ۔ٹی ۔آئی کے زعماء کو چاہیئے تھا کہ بروقت اُن سے رابطہ کرتے ۔ چوہدری سرور صاحب ابھی اِ ن امور سے آگاہ نہیں ہیں ۔ بہر حال اُن کا کردار لائقِ تحسین ہے ۔ وہ محنتی ،دیانتدار اور زیرک شخص ہیں ۔ این اے 144میں پی ۔ٹی ۔آئی کے ایم۔ پی ۔اے مسعود شفقت ربیرہ اور اوکاڑہ کی مقامی قیادت نے پارٹی کے نامزد کردہ اُمید وار اشرف سوہنا کی بجائے چوہدری ریاض الحق جج کا ساتھ دیا ۔ اُنکے جلسوں میں بھی شرکت کی ۔ ان حالات میں پی ۔ٹی ۔آئی کی اعلیٰ قیادت اور خاص طور پر کپتان کو اپنی پارٹی کی تنظیمی خامیوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
ایک تجزیہ کے مطابق اِن ضمنی الیکشنز میں مسلم لیگ (ن) کا گراف چھ فیصد نیچے آیا ہے اور پی۔ٹی ۔آئی کا گراف 8فیصد بلند ہوا ہے ۔ این اے122 کی ذیلی ایم ۔پی ۔اے کی سیٹ بھی مسلم لیگ (ن) ہار گئی۔ اسی طرح این اے144 میں مسلم لیگ (ن ) کا نامزد امیدوار بھاری مارجن سے شکست کھا گیا ۔ یہ تمام اُمور مسلم لیگ (ن) کیلئے لمحۂ فکریہ ہیں ۔ حکومتی جماعت کو این اے 122 میں کامیابی پر بغلیں بجانے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ لاہور کومسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ پورے پنجاب کے فنڈز لاہور پر صرف کیے جارہے ہیں ۔ ایا ز صادق کی معمولی بر تری اور ایم ۔پی۔اے کی سیٹ پر شکست حکومتی کارکردگی پر عوامی ردِ عمل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیں  چنیوٹ: بند کمرے میں حکمرانی کی بھیک مانگنے والے آج دشمن بن گئے، منظوروٹو

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker