آصف یٰسین لانگوپروفیسر مظہرتازہ ترینفیصل اظفر علویکالم

اوبامہ کہتے ہیں کہ ڈرون حملے قانونی ہیں اور ہماری جنگ اسلام سے نہیں ۔

asif langoveنام نہاد سپر پاو ر امریکہ کے صدر باراک اوبامہ نے گزشتہ روز انٹر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطا ب میں کچھ ایسی باتیں کیں ہیں جن باتوں صرف اور صرف جھوٹ ، تضاد، اور دنیا کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ اس کی باتیں بظاہر درست لگتی ہیں مگر حقیقت میں سیاہ کو سفید کہہ کر پیش کرنا کے مترادف ہے ۔ باراک اوبامہ کہتے ہیں کہ ” اسلامی جمہوریہ پاکستا ن میں ہمارے ڈرون حملے جائز ہیں ، ڈرون حملے انسانی جانیں بچاتے ہیں۔ ڈرون حملے کی اخلاقی اور قانونی حیثیت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ امریکی اقدامات کو بین الاقوامی حما یت حاصل ہے۔القاعدہ اور حامی گروپوں کے علاوہ کسی اور کے لئے استعمال نہیں ہونگے۔ ” لیکن حقیقت میں ڈرون حملے دنیا کے بیشتر ممالک کی نظر میں پاکستان میں 100% لوگ اس کو غیر قانونی اورغلط تصور کرتے ہیں کیونکہ پاکستانی عوام دیکھ رہا ہے کہ اس میں صرف اور صرف بے گناہ شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ پاکستانی عوام اپنی آنکھوں دیکھتی ہے کہ ایک 5سالہ بچی،20سالہ جوان لڑکی اور لڑکا، 90سال کے عمر میں سفید ریش بوڑھے اور بوڑھیاں ہلاک ہو رہی ہیں جو کسی بھی اینگل میں دہشت گرد تصور تک نہیں ہوتے ہیں۔ بھلے عالمی دنیا اور امریکا کی اپنی عدالتیں و اسمبلیاں اسے قانونی قرار دیں مگر وہ حقیت سے بہت دور نظر آتے ہیں۔ اپنی طاقت کی زور غلط کو درست اور درست کو غلط ثابت کر سکتا ہے لیکن حقیقت کو چھپا نہیں سکتا ہے۔ جہاں تک ڈرون حملے سے انسانی جانیں بچانے کا بات ہے تو امریکا اندھا ہو چکا ہے ۔امریکا کو ہزاروں بے گناہ مقتول نظر نہیں آ رہے ہیں جو ڈرون کا شکار ہوئے ہیں۔ رہی بات امریکی اقدامات کو بین الاقوامی حما یت تویہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جدید دور میڈیا کا ہے اور پاکستان کی میڈیا بلخصوص نام نہاد بڑے بڑے ادارے جو ڈرون حملوں کی کوریج صرف اس طر ح کرتے ہیں کہ "امریکا کی ڈرون حملے میں 20 یا 30 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں ” درحقیقت وہ سب کے سب بے گناہ شہری ہی ہوتے ہیں ۔ ناپاک میڈیا بھی غلط تاثرات پیش کرتی ہے ، بات کو گماکر پیش کرتی ہے۔ اب شہریوں کو دہشت گرد قرار دیں گے تو دور بیٹھی دنیا ضرور تصور کرے گی کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو امریکا ڈرون حملے سے قتل کر رہا ہے تو امریکا کو حمایت ہی حاصل ہو سکتا ہے نہ کہ کوئی مخالفت۔۔۔۔۔ اس بات میں بھی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لئے ہیں شہریوں کو نہیں،ڈرون حملے احتیاط کے ساتھ اور القاعدہ کو نشانہ بنانے کے لئے ہیں ڈرون حملے القاعدہ اور حامی گروپوں کے علاوہ کسی اور کے لئے استعمال نہیں ہوگا۔ اب امریکی صدر تو جھوٹ بول رہا ہے دنیا کی کوئی بھی تحقیقاتی ٹیم آ کر ڈرون حملے سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں ہزاروں کی فہر ست کو اٹھا کر تحقیق کر لے کتنے دہشت گرد تھے ؟ اور کتنے بے گناہ شہری تھے ۔ یقیناً99% لوگ بے گناہ عام شہری جس میں معصوم بچے ، بچیاں، خواتین ،بوڑھے شہریوں کی فہرست ہوگی۔ باقی ممکن ہے کہ 1% وہ لوگ ہونگے جو حقیقت میں بے گنا ہ ہونگے یا اپنی دفاع جان و مال یا ریاست کی دفاع کرنے والے ہونگے بھلے وہ امریکہ کی نظر میں دہشت گردی ہی کیوں نہ ہوں؟ باراک اوبامہ کہتے ہیں کہ ” امریکا کی اسلام سے کوئی جنگ نہیں ہے ۔ افغانستان سے اپنا آپریشن مکمل کر کے ہی خطے سے نکلناہے۔” درحقیقت امریکی صدر کا یہ بیان بھی بالکل غلط ہے کیونکہ اگر امریکا کا اسلام سے دشمنی نہیں ہے تواسلامی ریاستوں میں اُ س ناپاک فوج کیا کر رہی ہے ؟ پاکستان میں ڈرون حملے ، افغانستان ، عراق پر قبضہ ، مصر ،شام اور لبیا میں نیا جنگی سلسلہ، فلسطین میں اسرائیلی ساتھیوں سمیت قبضہ، و دیگر تمام اسلامی ریاستوں پر گزشتہ 12سالوں سے جبری قبضہ ہے یہ سارے اسلامی ریاست ہیں۔ امریکی صدر کوئی ایک بھی ایسی ملک بتائے جہاں پرامریکا فوج موجود ہو، امریکی قبضہ ہو یا امریکہ کی مداخلت ہو وہ ملک غیر اسلامی ریاست ہو۔ جناب کوئی ایسی ریاست نہیں ہے۔ جس جس ریاست میں آج ہزاروں مسلمانوں کو زندہ جلایا جا رہا ہو ۔ بے گناہ قتل عام ہو وہ سارے مسلم ریاست ہیں ۔ خاص بات یہ کی سب کی حالات امریکہ مداخلت کے بعد بہت زیادہ سنگین ہوئے ہیں۔ رہی بات افغانستان سے فوج واپس لے کرجانے کی تو یہ ڈائیلوگ گزشتہ دس سالوں سے سنتے آ رہے ہیں۔ باراک اوبامہ کہتے ہیں کہ ” دہشت گردوں کے خلاف زمینی کاروائی سے امریکا کے خلاف نفرت بڑھ سکتی ہے۔ کسی بھی ممالک میں فوجی آپریشن کرنا مطلب مزید دشمن پیدا کرنا ہے ۔” شرم بھی نہیں آتی اسے کہ خود کہتا ہے کہ کسی بھی ممالک میں فوجی آپریشن کرنا مطلب مزید دشمن پیدا کرنا ہے لیکن امریکہ نے خود ہی پاکستان، افغانستان اور عراق میں فوجی آپریشن شروع کیا ہو ا مطلب امریکہ چاہتا ہے کہ اس کے دشمن بڑ جائیں۔اگر امریکہ امن پرست ہے تو ایک دہائی سے اسلامی ریاستوں پر فوجی آپریشن کر کے دشمنی کیوں مول رہا ہے۔ رہی بات زمینی کاروائی کی تو امریکہ جدید ٹیکنالوجی کے بَل پر اسلامی ریاستوں سے جنگ لڑ رہا ہے مگر ناکام ہے۔ اسے پتہ ہے ایک سچا مسلمان دس کافر کے برابر ہے۔ تو فضائی سہارا لئے کر ڈرون حملے کر کے حد ف پورا کر یگا ۔ جو کہ درحقیقت ڈرون حملے امریکا کے لئے پاکستان بھر میں بلکہ عالم دنیا میں شدید نفر ت کا باعث ہے۔ باراک اوبامہ کہتے ہیں کہ ” افغانستان میں القاعدہ کے اہم رہنماؤں پر حملے 2014ء کے آخر تک جاری رہیں گے” اس کا کہنے کا مطلب ہے کہ جو جو افغانستان کی بات کریگا وہ القاعدہ کا اہم رہنماء ہے جسے قتل کیئے بغیر افغانستان سے واپس نہیں جائیگا۔ باراک اوبامہ کہتے ہیں کہ ” انھوں نے کہا امریکا کو آزادی کی قیمت کا اندازہ ہے۔نائن الیون میں دہشت گردوں کا گروہ امریکا پر حملہ اور ہوا۔اسامہ کو اس کے انجام تک پہنچایا جا چکا ہے ۔امریکہ 10برسوں سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ۔اسامہ کی موت سے امریکا محفوظ ہو گیا ۔اب جنگ کا دور ختم ہو نے والا ہے۔القاعدہ کے ساتھ جنگ کے مثبت نتائج سامنے آئے۔” امریکہ خود آزاد ہے تو آزادی کا مزا چکھ رہا ہے ۔ ہر ظالم کو زوال نصیب ضرور ہوتا ہے۔ اگر امریکہ آزادی کی قدر کرتا ہے تو افغانستان ، عراق پر قبضہ کیوں؟ اور فلسطین و مقبو ضہ کشمیر انڈیا و اسرائیل کی قبضہ پر خاموش کیوں؟ انڈیا اور اسرائیل میں اپنی فوج نہیں بھیجتی ؟ نائن الیون مطلب امریکا پر ایک بار حملہ ہوا ہے تو امریکہ ہزار بار کیوں حملے کر رہا ہے ؟ اگر اب اسامہ کی موت سے امریکہ محفو ظ ہے تو مزید جنگ کو کیوں جاری رکھا ہوا ہے؟ باراک اوبامہ کہتے ہیں کہ ” دہشت گردوں کے خلاف ہم نے بھی اپنی کچھ اخلاقیات ترک کر دیں۔” صارفین حضرات! اوبامہ نے درست کہا ہے کہ دہشت گردی کی خلاف جنگ میں اخلاقیات ترک کر دیں واقعی میں امریکا کی جنگ میں ہزاروں بے گنا ہ معصوم بچے شہید ہوئے ہیں ،خواتین ، بوڑھے بھی شہید ہوئے ہیں۔ مساجد اور اسکولز بھی متاثر ہوئے ہیں۔اسلامیات اور اخلاقیات کی دائرے میں ایک بے گنا ہ کی قتل پوری انسانیت کا قتل ہے تو امریکا نے ایک نہیں بلکہ لاکھوں بے گناہوں سے نائن الیون کا عیوض لے لیا ہے۔ امریکا نے تمام اخلاقی حدود پار کر دیئے ہیں۔ باراک اوبامہ کہتے ہیں کہ ” القاعدہ کی قیادت افغانستان اور پاکستان میں شکست کے قریب ہے ، شدت پسند شام اور لبیا میں جمع ہو گئے ہیں۔القاعدہ کی شاخیں کئی ممالک میں کام کر رہی ہیں۔” وقت ہی بتائے گا کہ کون شکست کھا گیا ہے ۔ الیکن امریکا نے شام اور لبیا میں اپنے مظالم کو چھپانے اور وہاں بھی ڈرون حملوں کے لئے انٹرنیشنل ڈیفنس یونیو رسٹی کے طلباء و طالبات سے جھوٹ بول کر ان کی دلی حمایت کے لئے شدت پسندوں کو لبیا و شام کی طرف دھکیل دی ہے۔ درحقیقت لبیا و شام میں مسلمانوں کو زندہ جلا کر کو ئلہ کرنے والے شدت پسند نہیں بلکہ امریکہ فوجی ہیں ۔ باراک اوبامہ کہتے ہیں کہ ” پاکستانی حکومت نے اسامہ کے خلاف آ پریشن میں تعاون کیا ” اس میں حقیقت ہے کہ حکومت پاکستان نے اسامہ کے خلاف آپریشن میں امریکا کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ جو مشرف کی غلطی ہے کہ ڈرون حملوں کی اجازت نامہ اور امریکا دوستی کو وسیع کر دیا جس کی سز ا ہم بھگت رہے ہیں۔ امریکی صدر کی تمام بیانات میں جھوٹ اور تضاد ہے۔امریکاکے ڈرون حملے غیر قانونی ہیں۔اس کا جنگ عالم اسلام سے ہے ۔ اور امریکی جنگ ایک غیر اخلاقی جنگ ہے جس کی تصدیق خود ہی پانے باتوں کر گئے ہیں۔ پاکستان ایران اور افغانستا ن مل کر امریکا کا منہ توڑ جواب دیں تو تمام اسلامی ریاستوں میں امریکہ قبضہ ختم ہوگا اور لبیا جیسے ممالک میں معصوم بچوں کو زندہ جلانے کا سلسلہ بھی ختم ہو جائیگا۔note

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ: گرین پاکستان پروگرام کا مقصد وطن عزیز کو سرسبز اور ماحول کو انسان دوست بنانا ہے.میاں یاور زمان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker