تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

اوباما کی بھارت یاترا

imran farooqبھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر صدر اوباما دوسری دفعہ بھارت یاترا کیلئے آئے تھے ۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندرمودی سے اُنہوں نے چوتھی بار ملاقات کی ۔ اس سے پہلے دونوں رہنما ستمبر میں واشنگٹن ، پھر جی- 20 سربراہی اجلاس آسٹریلیا اور 2014 ؁ء میں میانمار میں منعقدہ مشرقی ایشیاء کے سربراہی اجلاس میں ملا قات کر چکے ہیں ۔ دونوں رہنما معمولی پس منظر کے ساتھ اپنے اپنے ملک میں تبدیلی کے علمبردار بن کر منتخب ہوئے ہیں ۔ باراک اوباما دوبارہ انتخاب میں حصہ نہیں لینگے لیکن وہ اپنے ملک میں اقتصادی صو رتحال کو بہتر بنانے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں تاکہ اُنکی پارٹی اگلے الیکشن میں سُر خرو ہو سکے ۔
اوباما اور نر یندر مودی ملاقات میں فوجی تعاون میں اضافہ ،باہمی تجارت ، موسمی تبدیلی اور بھارت کے سول نیو کلیئر سیکٹر میں سر مایہ کاری جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ سول نیو کلیئر سیکٹر میں سر مایہ کاری کا معاہدہ 2002 ؁ء میں ہوا تھا ۔ لیکن بھارتی قانون کے تحت نیو کلیئر سیکٹر میں سرمایہ کا ری کا معاملہ تعطل کا شکار ہو گیا تھا ۔ لہذا اس معاہدہ کی تجدید کرتے ہوئے اِس ضمن میں عملی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ۔ فوجی تعاون کے معاہدوں میں آئر کرافٹ کیریر ز اور جیٹ انجن ٹیکنالوجی کے مطالعہ اور مشترکہ پیدا وار میں تعاون اور فوجی و بحری مشقوں کا درجہ بڑھانا شامل ہے ۔ اِ س نئی سٹریٹیجک پارٹنر شپ میں امریکہ کی اپنی ترجیحات ہیں۔ جن کا مقصد چین کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کرنا ہے کہ ایشیاء میں امریکہ کا سیاسی و اقتصادی غلبہ قائم رہ سکے ۔ حالیہ امریکی اقدامات خطہ میں طاقت کا توازن بگاڑنے کا پیش خیمہ ثابت ہونگے ۔ امریکہ بھارت جیسی بڑی منڈی تو حاصل کر لے گا ۔ لیکن اِس خطہ کو ایک نئی سرد جنگ میں دھکیل دے گا ۔ امریکہ کیطرف سے بھارت کے نیو کلیئر سیکٹر میں سرمایہ کاری دوسرے ملکوں کو بھی سرمایہ کاری کی دعوت دے گی ۔ کشمیر کا مسئلہ نہ حل ہونے تک انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہی رہیں گے ۔ اور اسطرح پاکستان بھی اپنی بقاء کیلئے نیو کلیئر سیکٹر میں توازن حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا ۔ امریکہ کو اِس صورتحال کو مدِّ نظر رکھنا چاہیئے تا کہ علاقہ سٹریٹیجکلی (Strategically) عدم توازن کا شکار نہ ہو ۔ اور ہتھیار جمع کرنے کی دوڑ کو روکا جا سکے ۔
دوسری طرف پاکستان میں بھی امریکہ کے بارے میں خیالات اور تصورات میں واضح تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ ہمارے دانشور اوباما کا پاکستان نہ آنا ہماری حکومت کی ناکامی گردانتے ہیں ۔ دوسرا ہمارے ہاں ہر بُرائی کی جڑ امریکہ کو سمجھا جاتا ہے ۔ اور یوں معاملات کو ٹھپ کر دیا جاتا ہے ۔ ہمارے دانشوروں کے نزدیک ایشیاء میں امریکی مفادات کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں پاکستانی قوم نے پیش کی ہیں لیکن امریکی نوازشات کا حقدار بھارت ٹھہرتا ہے ۔ روس -افغان جنگ میں جنرل ضیاء نے تین سو ملین ڈالر کی امدا د کو مونگ پھلی قرار دیا تھا ۔ جس کے بعد امریکیوں نے ڈالر ز بوریوں میں ڈال کر بھیجے تھے ۔ ہمارے اربابِ اختیار کے وارے نیارے ہو گئے لیکن عوام کو دہشتگردی، فاقے ، پاور بریک ڈاؤن جیسے تحفے ملے ۔ کسی بھی حکمران نے کبھی بھی امریکہ سے ٹیکنالوجی طلب نہیں کی ۔ ڈالرز کا مطالبہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار سے آج تک جاری ہے۔ لہذا امریکی ہمارے بارے میں اِس تصور کے قائل ہیں کہ اِنہیں رقم دے کر خریدا جا سکتا ہے ۔ ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو اِس سلسلہ میں ٹھوس اقدامات کرنا ہونگے ۔ دنیا کے ممالک باہمی تعلقات اور ترجیحات کا تعین اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں ۔ ترجیحات بدلنے سے تعلقات کی نوعیت بھی تبدیل ہو جاتی ہے ۔ چین جیسا ترقی یافتہ ملک بھی اپنے اقتصادی معاہدات کو طے کرتے ہوئے امریکہ کی خوشنودی کو مدِّ نظر رکھتا ہے ۔ پاک ، ایران ، بھارت گیس پائپ لائن سمجھوتہ کیلئے چین نے پا کستان کوپانچ سو ملین ڈالر فراہم کرنا تھے ۔ لیکن امریکہ کے اعتراض پر چینی حکومت پیچھے ہٹ گئی ۔ جبکہ انڈیا کو امریکہ نے منصوبہ سے دستبردار ہونے کیصورت میں سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کی پیشکش کی تھی ۔ تاکہ وہ اپنے پاور سیکٹر کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ اِسی طرح دنیا کے دیگر ممالک بھی امریکہ خوشنودی کو پیشِ نظر رکھتے ہیں ۔ ہمیں بھی امریکی بالادستی کو مقدم جانتے ہوئے فیصلہ سازی میں اپنی مستقبل کی ضروریات کے مطابق ترجیحات کا تعین کرنا چاہیئے

یہ بھی پڑھیں  نگارامرتا پریتم

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker