تازہ ترینعلاقائی

اوکاڑہ صوبہ پنجاب کا اہم ترین،گنجان آباد اور جنوبی پنجاب کا اختتامی ضلع ہے

okaraاوکاڑہ(ڈسٹرکٹ رپورٹر)اوکاڑہ صوبہ پنجاب کا اہم ترین،گنجان آباد اور جنوبی پنجاب کا اختتامی ضلع ہے جو تین تحصیلوں اوکاڑہ،دیپالپوراوررینالہ خور د پر مشتمل ہے یہاں قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی نو سیٹیں ہیں ان حلقوں کا موجودہ حالات میں سیاسی جائزہ لیا جائے تو اسکی صورتحال کچھ یوں بنتی کہ این اے 143سے چوہدری ندیم عباس ربیرہ ،کیپٹن (ر)ڈاکٹر لیاقت علی کوثر،موجودہ ایم این اے کیپٹن (ر)رائے غلام مجتبیٰ کھرل ،ق کے ضلعی صدر سابق ایم این اے رائے محمد اسلم کھرل،رائے نور محمد کھرل جیسی قد آور شخصیات امیدواروں کے روپ میں سامنے آچکی ہیں مگر ابھی تک مسلم لیگ ن اورتحریک انصاف نے اپنے کسی بھی امیدوار کو فائنل نہیں کیاالبتہ پیپلز پارٹی نے رائے غلام مجتبیٰ کھر ل کو اپنا آئندہ امیدوار نامزد کردیا ہے جو اس حلقہ میں مضبوط امیدوار گردانے جاتے ہیں پی پی185سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہوگاکیونکہ پچھلے الیکشن کے نتائج کے مطابق موجودہ ایم پی اے رائے عمر فاروق کھرل بطور آزاد امیدوار اورپیپلز پارٹی کے امیدوارمحمود خان لشاری ایڈووکیٹ کے مابین ایک سخت مقابلہ کے بعد رائے عمر فاروق20009ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے جبکہ مسلم لیگ ن کے حادثادتی امیدوارانور پاشااب مسلم لیگ میں نہیں رہے آئندہ الیکشن میں انہی امیدواروں کے مابین ہی مقابلہ ہوگاپی پی 189سے پچھلے دونوں انتخابات میں اس سیٹ پر مسلم لیگ ق کے امیدوار ہی کامیاب ہوئے ان میں موجودہ ایم پی اے چوہدری ندیم عباس ربیرہ بھی شامل ہیں جو مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے ہیں اب وہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن لرنے کا ارادہ رکھتے ہیں آئندہ الیکشن میں یہاں سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں میں سابق ناظم جبوکہ محمد اکبر چوہدری اور سرفراز حسین بھٹی ہوسکتے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن چوہدری ندیم عباس ربیرہ کی سفارش پر امیدوار کو ٹکٹ دے گی سابق ایم پی اے چوہدری شفقت عباس ربیرہ مرحوم کے بیٹے مسعود شفقت بھی امیدوار ہیں اگر پیپلز پارٹی اپناٹکٹ سابق ناظم محمد اکبر چوہدری یا سرفراز حسین بھٹی کو دیتی ہے اور مسلم لیگ ن کیلئے چوہدری ندیم عباس ربیرہ اپنے چھوٹے بھائی کو امیدوار بناچکے ہیں ایسی صورتحال میں امیدواروں کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہوگا اوکاڑہ شہر اور اسکے قریبی دیہادتوں پر مشتمل اہم ترین حلقہ این اے 144اور دوصوبائی حلقہ جات پی پی 190و191سیاست کے مراکز تصور ہوتے ہیں ملک کی تمام پارٹیوں کی نظریں انہی حلقوں پر مزکور ہیں شہری حلقہ ہونے کے باعث یہاں پر پارٹیوں کاووٹ بینک موجود ہے جو ٹکٹ ہولڈرز کیلئے آکسیجن کا کا م کرتا ہے ان حلقوں میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سوا تیسر ی کسی بھی جماعت کا ووٹ بینک نہیں ہے رہی تحریکِ انصاف کی بات تو انہیں شاید ان حلقوں میں پولنگ ایجنٹ ہی میسر نہیں ہونگے ووٹ حاصل کر نا اورسیٹ جیتنا ایک خواب ہے ۔ پیپلز پارٹی کے موجودہ دور حکومت کے دوران حکمرانوں کی انتہائی ناقص کارکردگی اور ان کے عوام دشمن اقدامات نے پیپلز پارٹی کی جیت مشکوک کر دی ہے لیکن اگر مسلم لیگ ن اوکاڑہ کی سطح پرموجودہ حالات کے مطابق گروپوں کا شکار رہی تودوبارہ پیپلز پارٹی ان حلقوں میں کامیاب ہوتی دیکھائی دے رہی ہے اسوقت مسلم لیگ ن دو واضح گروپوں میں تقسیم ہوچکی ہے اگر اسی طرح صورتحال قائم رہی تومسلم لیگ ن ووٹ بینک موجود ہونے کے باوجود انتشار کا شکار ہوکر نقصان اُٹھائے گی #
اوکاڑہ(جنرل رپورٹر)این اے 144اوکاڑہ شہر اور اس قریبی دیہاتوں پر مشتمل ہیں جن میں زیادہ تر ملٹری فارم( مزارعین )کے چکوک شامل ہیں مسلم لیگ ن کے امیدواروں سابق وفاقی وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال کے صاحبزادے راؤ حسن سکندراور موجودہ ایم پی اے میاں یاور زمان نے اپنی اپنی انتخابی مہم کاآغاز بطورقومی ٹکٹ ہولڈر مسلم لیگ ن کیا ہواہے دونوں امیدوار ہی ٹکٹ کے حصول کے دعو یدار ہیں حالانکہ ان دونوں میں سے کسی کے ساتھ بھی مسلم لیگ ن کے قائدین نے ٹکٹ دینے کی ابھی تک کسی قسم کی کوئی حامی نہیں بھری مگر انہوں نے اپنے اپنے حلقہ احباب اور سیاسی ورکرز کو ٹکٹ ہولڈر ہونے کی میٹھی گولی دے رکھی ہے جبکہ دونوں امیدوار اصل حقیقت سے پہلو تہی کررہے ہیں ایک گروپ راؤ حسن سکندراور میاں محمد منیرجبکہ دوسرا میاں یاور زمان کے حامیوں پر مشتمل ہے آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن نے پی پی 190کا ٹکٹ میاں محمد منیر کو کنفرم کردیا ہے جس سے مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پی پی 190کی سیٹ جیتنے کا عزم کرلیا ہے مسلم لیگ ن نے ابھی تک قومی سیٹ پر ٹکٹ کنفرم نہیں کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے امیدوار محمد عارف چوہدری کو گرین سگنل دے دیا ہے اگرمسلم لیگ ن قومی ٹکٹ راؤ حسن سکندر یا میاں یاور زمان دونوں میں سے کسی کو بھی دیتی ہے تو پھرپیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی یہ سیٹ جیتنے کیلئے زیادہ محنت کرنے کی ہر گز ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ مسلم لیگ ن کے دونوں گروپس آپس میں قطعی مخلص نہیں ہیں جس گروپ کو قومی اور صوبائی ٹکٹ ملیں گے اسے ہرانے میں دوسرا گروپ پس پردہ کردار اداکرے گا تاکہ ذاتیات کا مجسمہ قائم رہے اور پارٹی کے فیصلہ کو غلط باور کرایاجائے اس لاحاصل لڑائی کا فائدہ یقیناًپیپلز پارٹی کو ہی ہوگا پی پی 191واحد مسلم لیگ ن کی سیٹ ہے اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پھر یہ صوبائی سیٹ بھی ہر گز نہیں جیتی جا سکتی کیونکہ یہاں پر دو مضبوط امیدوار میجر (ر) راؤ خلیل اختر اور مزارعین لیڈرمہر عبدالستاربھی انتخابات لڑیں گے پچھلے الیکشن کے رزلٹ کے مطابق ان امیدواروں کا صرف چند سو ووٹوں کا فرق تھا جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق صوبائی وزیر رانا اکرام ربانی بری طر ح شکست کھا گئے تھے اب وہ غیر مشروط مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے ہیں وہ آئندہ الیکشن لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے آئندہ الیکشن میں میجر(ر)راؤ خلیل اختر،مہر عبدالستاراور مسلم لیگ ن کے امیدوار کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہوگاجیت کس کی ہوگی اس کا فیصلہ پولنگ ڈے کو ہی ہوگا

یہ بھی پڑھیں  پریس کلب بھائی پھیرو،اور سرائے مغل کا تعزیتی اجلاس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker