تازہ ترینعلاقائی

حجرہ شاہ مقیم:کیڈٹ کالج اوکاڑہ کے سینکڑوں کیڈٹس کا پرنسپل اور متنازعہ ٹیچرکیخلاف خونی احتجاج

okaraحجرہ شاہ مقیم (نامہ نگار)کیڈٹ کالج اوکاڑہ کے سینکڑوں کیڈٹس کا پر نسپل اور متنازعہ ٹیچر کے خلاف خونی احتجاج ،چھ گھنٹے فیصل آباد اوکاڑہ روڈ بلاک رہی آمد ورفت بند گاڑیوں کی لمبی قطاریں ،پر امن احتجاج کرنیوالے کیڈٹس پر پولیس کا وحشیانہ تشدد لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل لگنے سے سات سیکیورٹی گارڈ ز سمیت 36 کیڈٹ شدید زخمی ،اسٹنٹ کمشنر کی سر براہی میں ضلعی انتظامیہ خامو ش تماشائی بنی رہی کیڈٹ کا لج پر تشدد واقعہ پر انسانی حقوق کی تنظمیں اور ذمہ دار حلقے ششدررہ گئے چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ ،تفصیلات کے مطابق کیڈٹ کالج اوکاڑہ میں گزشتہ تین سال سے کلاسز کا اجراء بڑی لاگت سے تعمیرات کے بعد سالہا سال کی کاوشوں سے ممکن ہوپایا جہاں ملک کے مختلف علاقوں سے مجموعی طورپر 185 طلباء بطور کیڈٹ اپنی پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کررہے ہیں پرنسپل ظفر اقبال جو اعلیٰ متظم اور طلباء و سٹاف میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ان کا گزشتہ دنوں حالیہ دور حکومت میں سیاسی بنیادوں پر تبادلہ کر دیا گیا جن کی جگہ مقامی صوبائی وزیر آبپاشی پنجاب میاںیاور زمان کے قریبی عزیز میاں امیتاز علی نے چارج سنبھال کر بطور پرنسپل کام شروع کیا جبکہ انھوں نے ایک منتازعہ سابقہ ٹیچر سمعیہ ناز کا بھی کالج میں دوبارہ اضافی عہدہ بطور ایڈمن تعینات کر والیا جنکی تعیناتی کی بعد کالج سٹاف اور زیر تعلیم کیڈٹس کو متعدد قسم کی مشکلات کا سامنا رہا تعلیمی ماحول خراب ہو گیا طلباء کے والدین سے بھاری فیس ودیگر اخراجات وصولی کے باوجود ناکافی سہولیات کالج میس سے ناقص کھا نا کی فراہمی ،کیڈٹس سے پرنسپل ناروا سلوک ،پیشہ وارنہ تربیت اور تعلیم پر عدم تو جیہی کے علاوہ جہاں طلباء دلبرداشتہ رہنے لگے وہاں سٹاف دھڑے بندی وبددلی کا شکار ہوگیا پرنسپل میں امتیاز علی اور ایڈمن مس سمعیہ ناز نے کیڈٹس کی شکایات پر اصلاح احوال نہ کی الٹا پرنسپل نے کیڈٹ کالج اوکاڑہ کو ذاتی جاگیر بنا لیا اور ذاتی مویشی پال لئے ناقص کھانے کی وجہ سے چند روز میں متعدد کیڈٹس موذی امراض کا شکار ہوکر ہوسٹل پہنچ گئے بڑھتی ہو ئی ناجواز یوں کی وجہ سے گزشتہ روز کیڈٹس احتجاج پر مجبور ہوگئے 185 کیڈٹس نے صبح چھ بجے کالج کے مرکزی گیٹ کے سامنے ٹائیر جلا کر فیصل آبا د اوکاڑہ روڈ بلا ک کر دی جو چھ گھنٹے سے زائد وقت بند رہی گاڑیوں کی آمد ورفت معطل رہی اور میلوں لمبی قطاریں لگی رہیں اسٹنٹ کمشنر عبداللہ نیئر نے وہا ں پہنچ کر ماحول کو پر امن کر نے کی بجائے دیگر کالج سٹاف اور کیڈٹس کودھمکیاں دینا شرو ع کر دیں اسی دوران پولیس کی بھاری نفری نے وہاں پہنچ کر آنسو گیس ،ہوائی فائرنگ اور آزادانہ لاٹھی چارج کیا جسکی زد میں آکر کالج کے سات سیکیورٹی گارڈز سمیت 36 کیڈٹس جن میں علی رضا ،زین العابد ین ،اسامہ خالد ،ذیشان انور ،افنان افتخار،عاطف ،سہیب سرمد ،علی عابد ،امیر علی ،راؤ سجاد ، عبدالرحمان ،محمد طارق ،سلیمان، سمیر خالد،عثمان اشرف ،عمران غنی ،اسامہ علی ،علی اذان ،علی افتخار بصرا ،کامل اکبر ،آصف احمد علی ، بلال حید ر، عون سعید، راؤبلال ، علی انور ،اسامہ مصطفٰی ،نعیم انور ، احمد شیر از،شکیل سہیل ،سیکیورٹی گارڈ ز رائے آصف ،محمد توفیق ،سرفراز احمد ،احمد بلوچ ،محمد آصف ،فدا حسین قیوم علی شامل ہیں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کیلئے سول ہسپتال اوکاڑہ پہنچایا گیا کیڈٹ کالج اوکاڑہ میں ہونیوالی بد نظمی اور پر تشدد واقعہ پر انسانی حقوق کی تنظمیں اور ذمہ دار حلقے ششد ر رہ گئے کیڈٹس کے والدین نے کالج انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کو افسوسناک واقعہ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button