تازہ ترینکالممحمد مظہر رشید

ضلع اوکاڑا کی سیاسی صورتحال

MUHAMMAD MAZHAR RASHEED LOGOقومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلی کی نو سیٹیوں پر مشتمل ضلع اوکاڑاآبادی کے حساب سے ضلع پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جسکی آبادی 1998کی مردم شماری کے مطابق2,232,992 تھی جو اب ایک اندازے کے مطابق 30لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ضلع ساہیوال کو ڈویژن کا درجہ ملنے کے بعد اوکاڑا لاہور ڈویژن سے نکل کر ساہیوال ڈویژن میں شامل ہو چکا ہے یہ تین تحصیلوں دیپالپور،رینالہ خورد،اوکاڑا پر مشتمل ہے ضلع اوکاڑا کو سیاسی طور پر خاصی اہمیت حاصل ہے یہاں کے منتخب سیاسی نمائندگان کو ہمیشہ ملکی سیاست میں نمایاں مقام حاصل ہواضلع اوکاڑا میں ذات وبرادر ی کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے یہاں کی اہم ذاتیں راؤ،سید ،وٹو،کھرل،آرائیں،سیال،بلوچ،جوئیہ،ڈوگر،اعوان ہیںیہاں سے منتخب ہونے والے اکثر اراکین اسمبلی ان برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں دیگر ذاتوں اور برادریوں کو بھی یہاں پر اہم مقام حاصل ہے آئندہ کے انتخابات میں کن کن حلقوں میں کانٹے کا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا اس پر طائرانہ سی نظر ڈالتے ہیں این اے 143سے ایم این اے کیپٹن (ر)رائے غلام مجتبیٰ کھرل ہیں آئندہ انتخابات میں چوہدری ندیم عباس ربیرہ،ڈاکٹر لیاقت علی کوثر،مسلم لیگ ق کے ضلعی صدر سابق ایم این اے رائے محمد اسلم کھرل،رائے نور محمد کھرل ، کیپٹن (ر)رائے غلام مجتبیٰ کھرل جیسی شخصیات امیدواروں کے روپ میں سامنے آچکی ہیں مگر ابھی تک مسلم لیگ ن نے کسی امیدوار کو فائنل نہیں کیاالبتہ پیپلز پارٹی نے رائے غلام مجتبیٰ کھر ل کو اپنا آئندہ امیدوار نامزد کردیا ہے جو اس حلقہ میں مضبوط امیدوار ہیں پی پی185سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہوگا موجودہ ایم پی اے رائے عمر فاروق کھرل اورپیپلز پارٹی کے امیدوارمحمود خان لشاری ایڈووکیٹ کے مابین سابقہ الیکشنوں میں سخت مقابلہ ہوا تھاپی پی 189سے موجودہ ایم پی اے چوہدری ندیم عباس ربیرہ منتخب ہوئے تھے آئندہ الیکشن میں یہاں سے پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق ناظم جبوکہ محمد اکبر چوہدری ہوسکتے ہیں مسلم لیگ ن چوہدری ندیم عباس ربیرہ کی سفارش پر امیدوار کو ٹکٹ دے گی جوکہ قوی امکان ہے کہ انکے چھوٹے بھائی کو ملے گا جس پر یہاں سے مسلم لیگ ن کی کامیابی کی توقع رکھی جاسکتی ہے سابق ایم پی اے چوہدری شفقت عباس ربیرہ( مرحوم) کے بیٹے مسعود شفقت بھی آئندہ انتخابات میں یہاں سے امیدوار ہیں جو کہ تحریک انصاف میں شامل ہونے کے بعد یہاں سے ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں حلقہ این اے 144اور دوصوبائی حلقہ جات پی پی 190و191 پر مشتمل ہے یہاں سے پیپلز پارٹی کے ایم این اے سجادالحسن ہیں آئندہ انتخابات میں اگر مسلم لیگ ن نے مناسب حکمت عملی اختیار نہ کی تو سابقہ الیکشنوں کے نتائج کے مطابق یہاں پیپلز پارٹی اپنی قومی اسمبلی کی نشست دوبارہ جیت سکتی ہے راؤ سکندر اقبال (مرحوم) کے صاحبزادے راؤ حسن سکندراور موجودہ ایم پی اے میاں یاور زمان نے اپنی اپنی انتخابی مہم کاآغازکر چکے ہیں دونوں امیدوار مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے لیے کوشاں ہیں پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کے ٹکٹ کے لیے محمد عارف چوہدری کو یقین دلا رکھا ہے اگر یہاں سے محمد عارف چوہدری کو ٹکٹ ملا تو پیپلز پارٹی نمایاں کامیابی حاصل کر سکتی ہے کیونکہ اس حلقے میں مسلم لیگ ن دو گروپس میں تقسیم ہے دونوں گروپس ٹکٹ کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اگر ایک گروپ کو ٹکٹ ملتا ہے تو دوسرا اس پر کبھی خوشی کا اظہار نہیں کرے گا امید ہے کہ پی پی 190سے مسلم لیگ ن کے سابق صوبائی ٹکٹ ہولڈرمیاں محمد منیر کوہی آئندہ انتخابات میں صوبائی ٹکٹ دیاجائے گااگرچہ چوہدری ریاض الحق جج بھی صوبائی ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں لیکن مسلم لیگ ن میاں محمد منیر کو اس صوبائی سیٹ پر ٹکٹ دینے کا گرین سگنل دے چکی ہے پی پی 191سے مسلم لیگ ن کے موجودہ ایم پی اے میاں یاور زمان ہیں آئندہ انتخابات میں یہاں سے میجر (ر) راؤ خلیل اختر اور مزارعین لیڈرمہر عبدالستاربھی انتخابات لڑیں گے یہاں سے سابقہ الیکشنوں میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق صوبائی وزیر رانا اکرام ربانی تھے جو شکست کھا نے کے بعداب مسلم لیگ ن میں شامل ہوچکے ہیں یہاں سے مسلم لیگ ن کو کامیابی کے لیے مضبوط امیدوار لانا ہو گا پی پی 186سے پاکستان پیپلز پارٹی کے جاوید علاؤالدین،پی پی187سے پاکستان مسلم لیگ ق کے سید رضا علی گیلانی اور پی پی 188سے پاکستان پیپلز پارٹی کی روبینہ شاہین وٹو،پی پی 191سے پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اشرف خان سوہنا ،پی پی 192سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ملک علی عباس کھوکھر ،پی پی 193سے پاکستان مسلم لیگ ن کے میاں معین وٹو سابقہ الیکشنوں میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں اور آئندہ انتخابات میں بھی یہ ہی امیدوار دوبارہ اپنی پارٹیوں سے ٹکٹ کے حصول کے لیے سرگرداں ہونگے اگر قومی اسمبلی کی نشستوں پر نظر دوڑائیں تو این اے 145سے سید صمصام علی بخاری،این اے 146سے میاں منظور وٹو جوکہ اب پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر ہیں اور سابق وزیر اعلی پنجاب بھی رہ چکے ہیں اور این اے 147سے انکے فرزند خرم جہانگیر وٹو ایم این ہیں اور آئندہ انتخابات میں میاں منظور وٹو کو پیپلز پارٹی نے پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے اہم ذمہ داری سونپ رکھی ہے دیکھتے ہیں وہ اپنے سابقہ تجربہ اور سیاسی بصیرت کو مدنظر رکھتے ہوئے کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ: ڈی پی او آفس میں روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری کا انعقاد

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. execelant research of muhammad mazhar rasheed coloum ‘sanch’ about our city.i appriciate you on your work.
    god bless you

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker