تازہ ترینعلاقائیمحمد مظہر رشید

ڈائری اوکاڑہ ضمنی الیکشن ،کمپین آخری مراحل میں تحریر محمد مظہر رشید چوہدری

ڈائری اوکاڑہ

ضمنی الیکشن ،کمپین آخری مراحل میں
تحریر محمد مظہر رشید چوہدری 03336963372
گیارہ اکتوبر کے ضمنی الیکشن حلقہ این اے 144کی انتخابی مہم آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے 7اکتوبر کی شام پاکستان تحریک انصاف نے اپنی بھر پور طاقت کا مظاہرہ کیا پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار محمد اشرف خان سوہنا اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک بھر پور عوامی جلسہ منعقد کروانے میں کامیاب رہے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف نے میرے خلاف تنقید کرنے کے لیے چند بھوکنے والوں کو بھرتی کیا ہوا ہے سیالکوٹی رنگ باز اور نواز شریف کے چمچے میری ذات پر بلا جواز تنقید کرتے ہیں الیکشن کمیشن کو سرکار کی لونڈی بنا دیا گیا ہے اصل میں میاں برادران کو عمران فوبیا ہو چکا ہے میاں برادران پاکستانی قوم کو اب بے وقوف نہیں بنا سکتے اگر ان میں تھوڑی سے بھی اخلاقی جرات ہے تو بے ایمانی سے بنائی جانے والی حکومت سے نکل کر عوامی عدالت میں آئیں باشعور قوم ان کو آٹے دال کا بھاؤ نہ بتا دے تو کہنا میاں نواز شریف نے بھکاریوں کی طرح کشکول اٹھا کر آئی ایم ایف سے بھیک مانگ کر پوری قوم کو قرض دار بنا دیا ہے موجودہ حکمران خود عیاشی کی زندگیاں گزار رہے ہیں عام آدمی دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے در بدر کی ٹھوکریں مار نے پر مجبور ہے اقتدار کا حصول ہماری خواہش نہ ہے بلکہ ملک سے کفر اور انصافی کے نظام کا خاتمہ اولین ترجیح ہے عمران خان نے کہا کہ ملک کا وزیر اعظم بننا میری خواہش نہ ہے اوکاڑہ سے جلسہ سے ایک بڑی تحریک کا آغاز کر رہا ہوں تاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت ہو اور عام آدمی خوشحال ہو انہوں نے کہا کہ موجودہ اقتدار پر مسلط میاں برادران نے ملک کو دیوالیہ کر دیا ہے دانش سکولوں پر اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں اگر یہی رقم ملک کے عام سرکاری سکولوں پر خرچ کی جاتی تو 21ہزار سرکاری سکولوں کی نئی دیواریں تعمیر کی جا سکتی تھیں انہوں نے کہا کہ میاں برادران نے میرے ڈر کی وجہ سے کسان پیکیج کا اعلان کیا تھا لیکن اس میں بھی انہوں نے بے ایمانی کی کیونکہ جو چودہ نکات کسانوں کے لیے جاری کیے گئے ان میں سے نو نکات کا اعلان گزشتہ بجٹ میں ہوا تھا لیکن موجودہ حکومت اس پر عمل نہ کروا سکی تھی اس لیے میاں برادران نے قوم کو دوبارہ دھوکا دے کر ثابت کیا کہ وہ دو نمبری کے بادشاہ ہیں عمران خان نے کہا کہ کے پی کے میں موجودہ بلدیاتی نظام ہمارا ایک سنہری کارنامہ ہے جس کے رائج ہونے کے بعد اقتدار کو نچلی سطح پر منتقل کر دیا گیا ہے اب کے پی کے میں کسی پٹواری کی جرات نہیں ہے کہ وہ کرپشن کا سوچ بھی سکے جبکہ کے پی کے میں جھوٹی ایف آئی آر کے اندارج کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا قانون کی رٹ اور حکمرانی کو بر قرار رکھا گیا ہے اوکاڑہ کے ضمنی الیکشن میں بھی تحریک انصاف تگڑا مقابلہ کرے گی انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بے شرمی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور جعلی ڈگریوں اور دھاندلی کے بل بوتے پر بننے والی حکومت میں بیٹھ کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے انہوں نے کہا عمران خان ہار ماننے والوں میں سے نہ ہے نیا پاکستان عوام کے ذہنوں میں بن چکا ہے اور نئے پاکستان کی داغ بیل ڈال دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پولیس میں گلوؤں کو بھرتی کیا ہوا ہے جو کہ غریبوں اور مظلوں کو دبانے کے لیے اپنے انتقام کا نشانہ بناتے رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے احتساب کے عمل کو یقینی بنایا ہے انہوں نے کہا کہ اوکاڑہ سے تحریک انصاف کے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی مسعود شفقت ربیرہ پارٹی سے غداری نہ کریں اور تحریک انصاف کے امیدوار اشرف سوہنا کا ساتھ دیں اگر مسعود شفقت نے 24گھنٹے کے اندر ہمارے امیدوار کا ساتھ نہ دیا تو ان کی پارٹی رکنیت معطل کر دی جائے گی کیونکہ ہماری پارٹی میں غداروں کی کوئی گنجائش نہ ہے تحریک انصاف کے جلسہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اس دوران مرکزی انجمن تاجران کے صدر سلیم صادق نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا بھی اعلان کیا دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی مسعود شفقت ربیرہ نے کہا ہے کہ مجھے شوکاز نوٹس دینے والے شاہ محمود قریشی کون ہوتے ہیں وہ میرے لیڈر نہیں بلکہ میرے لیڈر عمران خان ہیں شاہ محمود قریشی تو تحریک انصاف میں خود دھڑے بنانا چاہتے ہیں اوکاڑہ کے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کے مخالف آزاد امیدوار ریاض جج کی سپورٹ کرنے کے پیچھے کوئی اور محرکات ہیں جو کہ صرف عمران خان کو ہی بتا سکتا ہوں ،جلسہ میں حاضرین کی تعداد کے بارے میں مختلف رائے ہو سکتی ہیںآٹھ سے نو ہزار تک کا اندازہ قوی ہے لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ اوکاڑہ کے چند اچھے جلسوں میں سے ایک تھا کیونکہ نوجوانوں کی کثیر تعداد نے جلسہ کا ماحول گرمائے رکھا ،خواتین کی کثیر تعداد نے بھی جلسہ میں نعرہ بازی کا سلسلہ جاری رکھا، پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے حلقہ میں کوئی مرکزی رہنما الیکشن میں ایسے کمپین کرتا نظر نہیں آیا جیسے لاہور کے حلقہ 122میں ہورہا ہے پہلے یہ کہا جارہا تھا کہ حمزہ شہباز شریف آٹھ اکتوبر کو عوامی جلسہ سے خطاب کریں گے لیکن انکی بھی زیادہ مصروفیت لاہور کے حلقہ میں ہے علی عارف چوہدری مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں انھیں اپنی کمپین سے اس بات کی امید ہے کہ وہ آسانی سے کامیاب ہو جائیں گے جس کے لیے وہ دن رات کارنر میٹنگز میں مصروف نظر آتے ہیں چوہدری محمد عارف ، میاں یاور زمان ،میاں محمد منیراور دیگر انکے ساتھ بھر پور انتخابی مہم چلا رہے ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی اپنے نظریاتی ووٹوں کے سہارے جیت کی منتظر ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری سجاد الحسن بھی اپنی اس کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا نظریاتی ووٹ انھیں 2008کے الیکشن کی طرح کامیابی سے نوازے گا لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق اب کی بار ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا ،آزاد امیدواروں میں ریاض الحق جج نے انتخابی مہم کے آغاز سے ہی بھر پور کمپین شروع کر رکھی تھی جس کے نتیجہ میں انتخابی مہم کے آخری مراحل میں انھیں دیگر امیدواروں پر سبقت دکھائی دے رہی ہے ریاض الحق جج نے کارنرز میٹنگ اور انتخابی جلسوں میں توقع سے زیادہ عوامی حمایت حاصل کر لی ہے جس کی وجہ سے اب یہ کہنا آسان نہیں کہ مسلم لیگ ن یہاں سے آسانی سے کامیاب حاصل کر لے گی کیونکہ ریاض الحق جج کسی بھی امیدوار کو ٹف ٹائم دینے کی پوزیشن میں نظر آرہے ہیں گیارہ اکتوبر کو کامیابی کس کا مقدر بنتی ہے اس کے لیے ہمیں 72گھنٹوں کا نتظار کرنا ہو گا * **

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button