تازہ ترینعلاقائیمحمد مظہر رشید

ڈائری اوکاڑہ تحریر : محمد مظہررشید چوہدری

ڈائری اوکاڑہ
تحریر : محمد مظہررشید چوہدری 03336963372
1993کے الیکشنوں میں پیپلز پارٹی ایک بار پھر جب برسرِ اقتدار آئی تو ضلع اوکاڑہ میں پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن راؤ سکندر اقبال نے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے ہی اوکاڑہ شہر کی تاریخ میں پہلی بار ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا جس میں سرفہرست بے نظیر روڈ جو کہ تقریباََ 4 کلو میٹر طویل ہے کا سنگ بنیاد رکھا گیا اس روڈ پر پھاٹک نمبر1اور پھاٹک نمبر2کے درمیان ضلع اوکاڑہ کا پہلا انڈر پاس بنانے کا اعلان ہی نہیں ہوا بلکہ اسکو ریکارڈ مدت میں تعمیر کرنے کا سہرا بھی راؤ سکند اقبال کے سرجاتا ہے بے نظیر بھٹو اس وقت کی وزیر اعظم نے اوکاڑہ میں21اگست 1996 کواوکاڑہ شہر میں جہان دیگر منصوبوں کی تکمیل پر انکا افتتاح کیا وہیں پیپلز انڈر پاس کا بھی افتتاح کیا گیا ضلع اوکاڑہ کی عوام کے لیے یہ کسی تحفہ سے کم نہ تھا کیونکہ جنوبی شہر کے عوام ٹرینوں کی آمدورفت سے گھنٹوں پھاٹک نمبر 1 اور پھاٹک نمبر 2 پر کھڑے رہتے تھے جسکی وجہ سے انکا نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہوتا تھا بلکہ ٹریفک بلاک ہوجانے سے سکول کالج اور دفاتر کے اوقات میں عوام کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھاپیپلز انڈر پاس کی تعمیر کے دوران اسکی نکاسی آب کے لیے واٹر پمپ اور اسے آپریٹ کرنے کے لیے باقاعدہ کمرہ بھی بنایا گیا تھا افتتاح کے وقت انڈر پاس میں لائٹ کا بھی مناسب انتظام موجود تھا لیکن ستم ظریفی دیکھیں کہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی لاپرواہی اور عدم توجہ سے آج یہ نا صرف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے بلکہ کسی کھنڈر کا منظر بھی پیش کرتا نظر آتا ہے اب معمولی سی بارش کا پانی بھی کئی کئی روز تک انڈر پاس میں کھڑا رہنا معمول کی بات سمجھی جانے لگی ہے شدید بارشوں میں انڈر پاس ندی کا منظر پیش کرتا نظر آتا ہے اس کی تعمیر سے اب تک برسات کے موسم میں 2 نوجوان کھڑے پانی میں نہاتے ہوئے ڈوب کر مر چکے ہیں لیکن بے حس انتظامیہ نے پھر بھی کوئی مناسب اقدام نہیں اٹھا یا نکاسی آب کے لیے لگایا گیا واٹر پمپ ٹی ایم کے عملہ کی لالچ ،لاپرواہی سے جلد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر کباڑ خانے کی زینت بن گیا لائٹنگ کا مناسب انتظام تعمیر اور افتتاح کے وقت تک موجود تھا لیکن ایک دوسال میں ہی بجلی کے پول اکھاڑ لیے گئے مختصر یہ کہ پیپلز انڈر پاس اس وقت کھنڈر کا منظر پیش کرتا نظر آتا ہے جس میں لائٹنگ کا کوئی انتظام نہیں رہا ،سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہے ،برسات کے موسم میں نکاسی آب کو کوئی انتظام موجود نہیں ،انڈر پاس کی دیواریں مسلسل پانی کھڑا رہنے سے شکستہ حال ہوچکی ہیں ماہ دسمبر2014 میں ایڈمنسٹریٹر تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن شیخ فرید سے خصوصی ملاقات میں راقم نے جب انڈرپاس کی حالت زار کا ذکر کیا تو شیخ فرید نے یہ خوش خبری سنائی کہ انتظامیہ نے تقریباََ 12لاکھ سے انڈر پاس کی تزئین وآرائش اور سڑک کی مرمت کا پروگرام بنا لیاہے لیکن افسوس چھ ماہ کا عرصہ گزرنے کو ہے ایک بار پھر برسات کا موسم قریب آرہا ہے لیکن انتظامیہ خاموش،عوامی حلقوں کی جانب سے یہ بات انتہائی زور دے کر کہی جارہی ہے کہ کمشنر ساہیوال ڈویژن ،ڈی سی او اوکاڑہ اس جانب فوری توجہ دیتے ہوئے اسکی بحالی اور مرمت کے کام کو فوری شروع کروائیں *

یہ بھی پڑھیں  ہم ووٹرزاورکارکنان سے شرمندہ ہیں، فیصل سبزواری، خواجہ اظہار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker