تازہ ترینعلاقائی

اوکاڑہ : منشیات کے خاتمے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا . مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری ریاض الحق جج

اوکاڑہ (نمائندہ خصوصی )منشیات کے خاتمے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 67لاکھ سے زائد ہے،نوجوانوں کو منشیات کے خلاف آگاہی دینے پر” ماڈا” کاعمل قابل تحسین ہے،نفسیاتی مسائل نوجوانوں کو منشیات کی جانب راغب کر سکتے ہیں ،حکومت اور این جی اوزکی مشترکہ کوششوں سے منشیات کی رسد کو کم کیا جارہا ہے،ہر ضلع میں ٹریٹمنٹ سنٹر کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار قومی و سماجی تحریک موومنٹ اگینسٹ ڈرگ ابیوز ” ماڈا” (رجسٹرڈ) کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقرریں نے کیا تقریب کے مہمان خصوصی مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری ریاض الحق جج تھے جبکہ مہمانان اعزازمیں ڈاکٹرشعیب وڑائچ ایگزیکٹو کمیونٹی ڈویلپمنٹ ،صدر ڈسٹرکٹ بار رائے محمد شفیع کھرل ایڈووکیٹ ،طارق ظفر ڈی ایس پی صدر،ظفر اقبال ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکو 1122،ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر محمد عارف جج،انچارج صنعت زار سہیل اختر،ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسرہیلتھ رانا شکیل انجم تھے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ نے سر انجام دیے صدر” ماڈا” محمد مظہررشید نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 67لاکھ سے زائد ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ضلع میں ٹریٹمنٹ سنٹر کا قیام فوری عمل میں لایا جائے سیمینار سے نفسیاتی معالج ڈاکٹر اکبر علی بھٹہ نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نفسیاتی مسائل نوجوانوں کو منشیات کی جانب راغب کرنے کا سبب بن سکتے ہیں سیمینار میں سابق صدر اوکاڑہ پریس کلب شہباز ساجد،جنرل سیکرٹری اوکاڑہ پریس کلب ذوالفقار علی اٹھوال،صدر سٹی پریس کلب حافظ عتیق الرحمن ،جنرل سیکرٹری سٹی پریس کلب شفیق بھٹی،صدر ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹس عابد حسین مغل ،جنرل سیکرٹری بار سید زاہد عباس بخاری،ظہیر ایڈووکیٹ ،معروف کمپیئرپروفیسر ریاض خان،کالم نویس صابر مغل،سوشل ہیلتھ آفیسر اشتیاق احمد خان ،محکمہ بیت المال سے محمد آصف ،سوشل سپروائزرزرضوانہ ، مریم، عائشہ ،احتشام جمیل شامی ،جنید اقبال ،پروفیسر سخنور نجمی ،پروفیسر عطاللہ ،پروفیسر عثمان غنی،ڈاکٹراعجاز انجم کھوکھر،پروفیسرحامد خان کے علاوہ ممبران ماڈا چوہدری اعجاز احمد،مس اقراء ،مس تزئین ،عرفان اعجاز ،عدنان اعجاز،محمد عاشق ،حافظ ثمین اساتذہ ،طلبہ وطالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button