تازہ ترینعلاقائی

اوکاڑہ : بدنام زمانہ ڈکیت کریم عر ف کریمی اپنے ہی ساتھیوں کی فائر نگ سے ہلاک پولیس زرائع

اوکاڑہ (بیورورپورٹ)بدنام زمانہ ڈکیت کریم عر ف کریمی اپنے ہی ساتھیوں کی فائر نگ سے ہلاک پولیس زرائع ۔تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمدفیصل رانا کی ہدایات پر مشکوک افراد کی گرفتاری کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ضلع بھر میں اہم مقامات پر سرچ آپریشن اور ناکہ بند ی کی جاتی ہے ۔ پولیس پارٹی تھانہ راوی بسلسلہ گشت ،پڑتال و ناکہ بندی پل راجباہ 1جیڈی کرپاسنگھ کی جانب سے ایک موٹرسائیکل آیا جس پر تین کس نامعلوم ملزمان سوار تھے جن کو روکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن ملزمان نے موٹرسائیکل بھگا لی جس پر پولیس پارٹی نے ان کا تعاقب کیا تو ملزمان قریبی فصل میں داخل ہوگئے اور پولیس پارٹی پراندھا دھند فائرنگ شروع کردی ۔پولیس پارٹی نے بلند آوازمیں کہاکہ فائرنگ بند کریں اورگرفتاری دے دیں مگر ملزمان نے فائرنگ کا سلسلہ بند نہ کیا تو پولیس پارٹی نے بھی حفاظت خود اختیاری کے تحت اکا دوکا فائر کیے کچھ دیر بعد فائرنگ رک گئی پولیس پارٹی نے حفاظتی جیکٹ اور سرچ لائٹ کی مددسے ملزمان کی تلاش شروع کردی۔ تو تھوڑے فاصلے پر جا کر دیکھ تو ایک کس اسم ومسکن نامعلوم ڈاکو کی نعش پڑی تھی ۔ جس کے پاس سے دو عدد رائفل 44بور بمعہ22عددگولیاں موٹرسائیکل بلانمبری نقدی رقم 2000/–اور ایک عد د موبائل پڑاتھاجس کو پولیس نے قبضہ میں لے لیا ۔دو ڈاکو رات کی تاریکی اور فصلوں کا فائد ہ اُٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے ۔اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ڈکیت کی شناخت کریم عرف کریمی کے نام سے ہوئی جو مقدمہ نمبر 78/16بجرم 353/324/427//223/224//392 ت پ تھانہ راوی سے فرار ہوگیا تھا۔بدنام زمانہ ڈکیت کریم عرف کریمی متعدد سنگین واردتوں میں مختلف اضلاع جن میں ساہیوال ، پاکپتن ، نورشاہ ، قصور ، سمندری ، فیصل آباد، پتوکی اور لاہورپولیس کو سنگین مقدمات میں مطلوب تھا ۔ ڈی پی او اوکاڑہ محمد فیصل رانا نے فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ڈی ایس پی صدر ضیا الحق کی سربراہی اور ایس ایچ او راوی مہر محمداسماعیل کی قیادت میں ٹیم تشکیل دی جو تمام تر وسائل کو بروے کار لاتے ہوئے نامعلوم ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لائے گی۔ڈی پی او اوکاڑہ محمد فیصل نے مقابلہ میں حصہ لینے والی ٹیم کو شابا ش دی *

یہ بھی پڑھیں  پنجاب : ماہ رمضان کے لیے سر کاری دفاتر کا شیڈول جاری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker