تازہ ترینعلاقائی

اوکاڑہ : بیشتر نجی لیبارٹریوں میں پتھالوجسٹ کی عدم موجودگی کے باعث امراض کی غلط تشخیص

اوکاڑہ ( بیورورپورٹ) مبینہ نجی لیبارٹریوں میں پتھالوجسٹ کی عدم موجودگی سے امراض کی غلط تشخیص, اموات کی شرح میں اضافہ پتھالوجسٹ،ڈاکٹرو ں اور ٹاؤ ٹوں کا کمیشن مقرر ،مریض لٹنے پر مجبور، تفصیلات کے مطابق شہر کی بیشتر نجی لیبارٹریوں میں پتھالوجسٹ کی عدم موجودگی کے باعث امراض کی غلط تشخیص کے باعث اموات کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے ان لیبارٹریوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔ شہر کے بیشتر پرائیویٹ ہسپتالوں اور نجی لیبارٹریوں میں موجود ٹیکنیشنز ہی ٹیسٹ کر کے رپورٹ جاری کردیتے ہیں جبکہ کئی لیبارٹروں میں فرضی رپورٹ جاری کرنے کے واقعات بھی عام ہیں۔ ایک ہی وقت میں کرائے گئے مختلف لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کی رپورٹس بھی مختلف آتی ہیں۔ ڈاکٹروں کی جانب سے مخصوص لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کی تجویز مریض ٹاؤٹوں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہیں۔ لیبارٹری مالکان بورڈ پرمبینہ نام لکھنے اور ٹیسٹ رپورٹس کی ذمہ داری قبول کرنے پر پتھالوجسٹ کو ماہانہ 50 سے 60 ہزار اور ٹیکنیشن کو 10 سے 15 ہزار دیتے ہیں جبکہ ڈاکٹروں اورٹاؤٹوں کو بھی کمیشن دیا جاتاہے۔شہری حلقوں نے سپیشل سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر ساجد چوہان، کمشنر ساہیوال ریجن بابر تارڑ ،ڈی سی او سقراط امان رانا اور ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر جاوید گورائیہ سے ان غیر قانونی لیبارٹریوں کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے *

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!