تازہ ترینعلاقائی

ڈٰی پی اواوکاڑا کی کھلی کچہریوں کے انعقاد کے باوجود عوام کے دلوں میں پولیس گردی کا خوف موجود

okaraاوکاڑا(چیف رپورٹر پنجاب ) ضلع اوکاڑا میں بڑھتے ہوئے جرائم کی بیخ کنی اورپولیس والوں کو لوگوں کے محافظ ہونے کا فرض یاد دلانے کیلئے عرصہ بعد ایک نڈر،انسان دوست اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشارنہایت ہی فرض شناس شخصیت ڈاکٹر حیدراشرف کی بطورڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تعیناتی ہوئی تو انھوں نے اپنی صلاحیتوں کوبروئے کا ر لاتے ہوئے جوحکمت عملی اپنائی ہے اس سے جہاں عوام کوتحفظ کا احساس ہورہاہے وہاں محکمے میں موجود مبینہ کالی بھیڑوں کوبھی اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کا کڑوہ گھونٹ پینا پڑرہا ہے مگر عوام کے دلوں میں پولیس گردی کاخوف ابھی تک موجود ہے جسکا ڈی پی او کو بھی بخوبی اندازہ ہے۔ اوکاڑاضلع کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے کھلی کچہریوں کا سلسلہ بھی قابل ستائش ہے۔ان تمام اقدامات کے باوجود کرائمز میں کمی نہ ہونا اور تھانہ جات میں پولیس اورجرا ئم پیشہ افراد کے درمیان مبینہ مک مکاکی اطلاعات گردش میں ہیں۔ایسی اطلاعات بھی عام ہیں کہ ناکوں پر لوگوں کو چیک کرتے وقت موبائل فونز میں مبینہ طور پر لوڈکے نام پر مٹھی گرم کی جاتی ہے۔ ان دنوں چند اخبارات میں ڈی پی او کی خبریں پڑھی جاتی ہیں جن میں روزآنہ لکھا ہوتا ہے کہ ڈی پی او نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے بتایا حالانکہ خبر تو خبر ہوتی ہے مگر صحافتی حلقوں میں حیرت کا اظہار کیاجاتا ہے کہ ضلع بننے کے بعد ماضی میں پولیس افسران مہینے میں ایک بار یا کسی اہم خبر کیلئے صحافیوں کوباقاعدہ اطلاع دیکرکانفرنس روم میں ناصرف پولیس کی کارکردگی سے آگاہ کرتے تھے بلکہ صحافیوں سے جرائم کے خاتمے کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال بھی کرتے تھے اس ضمن میں ڈی پی او کوچاہئیے کہ اگر وہ واقعی صحافیوں سے باتیں کرتے ہیں تووہ کم ازکم ہفتہ میں ایک دن رکھ لیں اورسب صحافیوں کوآگاہی کا سلسلہ شروع کریں باقی دنوں میں معمول کے مطابق ذمہ داری نبھائیں اوراپنی مدبرانہ کاوشوں کو بروئے کار لائیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button