تازہ ترینعلاقائی

اوکاڑہ:نہ روٹ نہ نمبرنہ ڈرائیونگ لائسنس کمسن بچےچلتےپھرتےموت کےفرشتےبن گئے

اوکاڑہ(محمد مظہر رشید)نہ روٹ نہ نمبر نہ ڈرائیونگ لائسنس اور نہ ہی روٹ پرمٹ سٹی ایریا میں چلنے والے ایک ہزار سے زائد غیر قانونی موٹر سائیکل رکشاؤں کے نابالغ غیر تربیت یافتہ کمسن بچے چلتے پھرتے موت کے فرشتے بن گئے ۔آئے روز رکشاؤں کی وجہ سے ہونے وا لے حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی آنکھیں نہ کھول سکاجس کو کوئی کام میسر نہیں آتا وہ کرایہ پر رکشہ لے کر چلانا شروع کردیتا ہے ۔زیادہ پیسے کمانے کی لالچ میں کم سن اور نوجوان ڈرائیور ایک رکشہ پر آٹھ سے دس افراد کو سوار کرنے کے بعد سٹی ایریا سے لاری اڈا اور چوک دیپالپور کی جانب جلدی پہنچنے کے لیے ریس لگاتے ہیں ۔اکثر نا تجربہ کاری کی وجہ سے متعدد حادثات میں درجنوں افراد اپنی جان سے ہاتھ بیٹھے ہیں ۔اور بہت سے افراد معذوری کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔ڈرائیونگ کے اصولوں سے قطعی نا بلد بیشتر نوجوان ڈرائیونگ لائسنس تو دور کی بات رکشاؤں کے کاغذات کے بغیر ہی رکشے چلا رہے ہیں ۔ جس کا جس طرف دل چاہتا ہے بغیر آگے پیچھے دیکھے اپنے رکشہ کو موڑ لیتا ہے جو کے اکثر اوقات بڑے حادثے کا سبب بنتا ہے ۔اندرون بازاروں میں رکشاؤں کے بے ہنگم کھڑے ہونے کی وجہ سے حادثات کے علاوہ ہمہ وقت ٹریفک جام رہنا معمول بن چکا ہے ۔ان رکشاؤں کے شور سے جہاں شہری بہرے پن کا شکا ر ہو رہے ہیں وہیں ان کے زہریلے دھواں کے باعث سانس کے امراض میں مبتلاء افراد کی تعداد میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ۔جو کہ ٹریفک پولیس اوکاڑ ہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے ۔بلکہ ان کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے ۔موٹر سائیکل رکشاؤں پر اوور لوڈنگ سب سے خطرناک عمل ہیں رکشہ ڈرائیور بعض اوقات ایک وقت میں دس سے بارہ افراد کو بھی سوار کر لیتے ہیں ۔جو کے انتہائی غلط اور غیر محفوظ ہے ۔ٹریفک پولیس کے جوان محض اپنے گھر سے ڈیوٹی پر اس لیے نکلتے ہیں ۔کے ان کے ذمے چالان پورے ہو سکیں کس کا چالان کر نا ہے ؟کیسے کرنا ہے کیوں کرنا ہے اس کاجواب تو شاید ان کے پاس بھی نہیں ہے ٹریفک پولیس کے ملازمین کا موقف ہے کہ چونکہ رکشہ چلانے والے افراد کا تعلق انتہائی غریب اورمجبور خاندانوں سے ہوتا ہے ۔اس لیے زیادہ تر ان کے چالان کرنے کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔لیکن اس کے باوجود رکشہ والوں نے اپنی ایک یونین بنا رکھی ہے کسی رکشہ کے چالان کرنے پر یہ افراد بعض اوقات احتجاج کرتے حتی کے روڈ بلاک کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اکثر اوقات تو لڑائی جھگڑے تک نوبت آجاتی ہے۔لیکن افسران ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے ۔محکمہ ٹریفک اور رکشہ مالکان کے مابین سرد جنگ کا نقصان صرف شہریوں کو ہو رہا ہے ۔شہرکے معززین مرکز ی انجمن تاجران کے صدرشیخ شفیق ،جنرل سیکرٹری سلطان گجر،ڈاکٹر نثار احمد،ڈاکٹر ناصر محمود ،ڈاکٹر خوشنود،ڈاکٹر نعیم زاہد،چوہدری بابراور دیگر نے آئی جی پنجاب حاجی حبیب الرحمان،سیکرٹری ماحولیات پنجاب،ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب قلب عباس ،ڈی پی او اوکاڑہ عثمان اکرم گوندل،ایس پی ٹریفک شریف ظفر جٹ،اور ڈی ایس پی ٹریفک ہیڈکوارٹر اوکاڑہ ملک اقبال ظفر نیازی سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی موٹر سائیکل رکشاؤں کے مالکان نابالغ ڈرائیوروں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر اور ان کی سرپرستی کرنے والے افراد کے خلاف سخت کاروائی کے لیے ٹھوس حکمت عملی مرتب کی جائے ۔ اور جرمانوں کے ساتھ ساتھ مقدمات کا اندراج بھی کروایا جائے تاکہ انسانی زندگیاں محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ حکومتی انتظامی رٹ کو بھی قائم رکھا جا سکے ۔

یہ بھی پڑھیں  اردو بولنے والے سندھی پسند نہیں تو ان کے لیے الگ صوبہ بنا دیا جائے،قائد ایم کیو ایم

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker