تازہ ترینعلاقائی

اوکاڑہ:گورنمنٹ ایم سی بوائز سکول کے استاد نے تشدد کرکے طالبعلم کا ہاتھ توڑ دیا

اوکاڑا( شہباز ساجد ) گورنمنٹ ایم سی بوائز ہائی سکول اوکاڑا کے ظالم استاد نے مبینہ تشدد سے چھٹی جماعت کے طالب علم کے بازو کی ہڈی توڑ دی۔ محکمہ تعلیم پنجاب کے” مار نہیں پیار "کے فارمولے کو ظالم استاد نے (ما۔ر،(نہیں پیار) کی مثال بنا کر حکومتی احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے دیگر طلباء کو بھی سر عام مرغا بناکر تشددکرنا معمول بنادیاطلباء کا الزام۔ تفصیلات کے مطابق چھٹی جماعت کے طالب علم فہد فرقان نے اپنی والدہ کے ہمراہ میڈیا ٹیم کوگورنمنٹ ایم سی بوائز ہائی سکول کے ایک ا ستاد علی شیرجو کہ مذکورہ سکول میں مبینہ طور پر طلباء پر ذہنی و جسمانی وحشیانہ تشدد میں مشہور ہے کی شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ ظالم استاد نے فہد فرقان کی کہنی کی ہڈی توڑ دی جسکی وجہ سے جہاں طالب علم کے علاج کیلئے ہزاروں روپے خرچ آرہے ہیں وہاں تکلیف کی شدت کی وجہ سے تعلیمی سرگرمی میں شدید دقت کا سامنا ہے۔ مقامی صحافیوں کی ٹیم نے مذکورسکول میں رابطہ کیا تو ہیڈ ماسٹر کی عدم موجودگی میں چند اساتذہ نے اس ظالمانہ تشدد کے واقعہ کی اعلیٰ حکام تک شکایت پہنچا کر انکوائری کروانے اور چند نے اس واقعہ کوسہواً
قرار دیکر طالب علم اور اسکی والدہ کی اشک شوئی کرتے ہوئے علی شیر نامی ٹیچر کو بھی رخصت پر ظاہر کر دیا ۔ دریں اثنا صحافیوں نے ایک ا ستاد کومتعدد طالب علموں کو مرغا بنا کر بے دردی سے تشدد کرتے دیکھا گیا جس پر گفت وشنید کرنے والے اساتذہ میں سے ایک نے فوری طور پر مرغا بنے طلباء اور استاد کوکلاس میں بھیج دیا اور مضروب طالب علم اور اسکی والدہ کوواپس بھجوا دیا ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس استاد کو کلاس روم کے باہر طلباء کو مرغا بناکر تشدد میں مصروف پایا گیا وہی ظالم ٹیچر علی شیربتایا گیامگر پیٹی بند بھائیوں نے اسے غیر حاضر ظاہر کرکے مظلوم کے ساتھ مذاق کیا اوراپنے مقدس پیشے سے جھوٹ کا سہارا لیکر غداری کی

یہ بھی پڑھیں  پرویزمشرف جوڈیشل ریمانڈ پرجیل پہنچ گئے

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker