شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / اوکاڑہ یونیورسٹی ایک نئےدورکاآغاز

اوکاڑہ یونیورسٹی ایک نئےدورکاآغاز

نیشنل ہائی وے ،مین ریلوے لائن کے ساتھ ،نہر لوئر باری دو آب کے درمیان اوکاڑ ہ اور رینالہ خورد شہر کے وسط میں خوبصورت ترین جگہ پر قائم اوکاڑہ یونیورسٹی میں دوسری بار جانے کا اتفاق ہوا ،چند ماہ قبل یونیورسٹی میں تعینات ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر زکریاڈاکر سے ملنے گئے تو یونیورسٹی میں طلباء و طالبات کی تعداد مناسب سی لگی دوران ملاقات شعبہ تعلیم پاکستان کی نامور شخصیت ڈاکٹر زکریا کے عزم ،ارادوں کو جان کر الراقم متحیر ہو رہا تھا کہ آیا ڈاکٹر زکریا کا ضلع اوکاڑہ جیسے پسماندہ اور غربت کے مارے علاقے کو علم کے نور سے منورو معطر کرنے کاؔ خواب واقعی پورا ہو گا؟ گذشتہ روز گئے تو یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی اندازہ ہوا کہ ڈاکٹرزکریا نے جو کہا تھا وہ سچ ثابت ہو تا نظر آ رہاہے،در حقیقت جذبہ اس چیز کا نام ہے جو جس راستے۔منزل کی جانب گامزن ہو جائے سب رکاوٹیں،مصیبتیں،گہری کھائیاں ،چٹانیں،پتھر اور وسائل کی کمی سبھی کوپاؤں کی نوک پر رکھ لیتا ہے اور منزل آسمان پر بھی ہو تو کھینچی چلی آتی ہے اصل میں کچھ لوگ ہوتے ہی ایسے ہیں جنہیں خدا وند کریم انسانی روپ میں مسیحابنا کر بھیجتا ہے ایسے کردار اپنی بہتر سوچ،وصف،عزم اور کام کی بدولت امر ہو جاتے ہیں ،کانفرنس روم میں اوکاڑہ اور رینالہ شہر سے تعلق رکھنے والے صحافی بھائیوں کی کثیر تعداد موجود تھی ، وائس چانسلر ڈاکٹر زکریا روشن ستاروں کی مانند اپنے پختہ عزم کو دہرانے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں یونیورسٹی کو بہتر سے بہتر کرنے کے ارادوں سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کر رہے تھے کہ زیور تعلیم سے آراستہ ہونے کا جذبہ لے کر اس جامعہ کے گیٹ سے اندر داخل ہونے والا ہر بچہ یا بچی اس وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہے گی کہ ان کے پاس وسائل کی کمی تھی ،ہمارے معاشرے کا کلچر بن چکا ہے کہ وسائل والی اشرافیہ کے بچے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں اور کوئی سرکاری درسگاہوں کی جانب جائیں بھی تو وہاں جاتے ہیں جہاں تعلیمی معیار کے ساتھ اخراجات کا معیار بھی بلند تر ہوتا ہے،یہی بنیادی وجہ بنتی ہے کہ غربت اور محرومیوں کے مارے طبقہ کے بچے معیاری تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں مگر یہاں ایسا نہیں ہو گا یہاں معیار بھی بلند ترین ،اخراجات بھی قابل دسترس ہوں گے اور جو لوگ کم اخراجات بھی برداشت کرنے کی سکت نہ رکھتے ہوں ان کے بچوں کو بھی ان کی عزت نفس مجروع کئے بغیرتمام تر معیاری سہولیات میسر ہوں گی،بہت جلد مزید نئی فیکلٹیز قائم کی جائیں گی،ہم ملک سے دہشت گردی اور جرائم جیسے ناسور کو صرف اور صرف تعلیم کے ذریعے ہی جڑ سے ختم کر سکتے ہیں صحافی برادری عوامی شعور اجاگر کرنے میں ہمارا ساتھ دے، یونیورسٹی میں بہت پرانے مہربان پروفیسر جلیل بٹ سے ملاقات ہو گئی ماہر سوشیالوجی پروفیسر جلیل بٹ ایک انتہائی مہربان ،مخلص اور شفیق شخصیت ہیں ا نہوں نے الراقم کی یونیورسٹی آمد پر اس قدر پذیرائی کی جو ناقابل فراموش ہے اپنی کلاس میں بلواکر میرے صحافتی کردار سے طلبا و طالبات کو آگاہ کیا ،انہوں نے ہی یونیورسٹی کی ایک انتہائی معتبر اور انسانیت کے جذبے سے لبا لب بھرپور شخصیت پروفیسر الیاس سے بھی ملاقات کرائی،پروفیسر الیاس یونیورسٹی میں شعبہ انگریزی کے ڈین ہیں اتفاق سے برادرم عابد مغل نے کالج لائف میں انہی سے تعلیم کا نور حاصل کیا تھااس ملاقات میں RUJپاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل عابد حسین مغل، صدرDUJاوکاڑہ مظہر رشید چوہدری ،چیرمین RUJ اوکاڑہ رائے امداد حسین کھرل اور چوہدری عرفان اعجاز بھی موجود تھے جبکہ عباس جٹ مصروفیت کے باعث نکل گئے، اوکاڑہ کی یہ عظیم درسگاہ جو کسی خواب سے کم نہیں ،تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اوکاڑہ جو سیاستدانوں کے لے تو بہت زرخیز مگر بدقسمتی کہ انہی سیاستدانوں کی وجہ سے ہمیشہ بانجھ رہا،اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے وزراء کی تعداد کی وجہ سے اسے وزیرستان بھی کہا جانے لگا،اوکاڑہ کو پنجاب کا لاڑکانہ بھی کہا جاتا تھا مگرہوا کچھ نہیں اس دھرتی سے جن سپوتوں نے بھی اعلیٰ مقام حاصل کیا اپنی خداد داد صلاحیتوں کی بدولت ہی کیاجو آج نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی شخصیات کے طور پر پہچانے جاتے ہیں ،ضلع اوکاڑہ میں تعلیم کا یہ انتہائی سایہ دار شجر سابق سینئر وفاقی وزیر راؤ سکندر اقبال کی سوچ کا نتیجہ ہے آج وہ عظیم شخصیت ہمارے درمیان موجود نہیں انہوں نے دار فانی سے کوچ کرتے کرتے اوکاڑہ کے لئے یونیورسٹی کی منظوری حاصل کر لی ان کی زندگی نے وفا نہ کی تواوکاڑہ میں ایک بہترین یونیورسٹی کا خواب اور منصوبہ تو مکمل نہ ہوا مگر یونیورسٹی آف ایجوکیشن کا سب کیمپس ضرور بن گیا ،کلاسز کا آغاز بھی ہو گیا اس ادھورے منصوبے پر بھی پیپلز پارٹی کے دور میں ان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کلہاڑا چلا تے ہوئے بقیہ تمام منصوبوں کا رخ ملتان کی طرف کر لیا،2016میں پنجاب اسمبلی میں ایک قرار داد کے ذریعے یونیورسٹی آف ایجوکیشن اوکاڑہ کیمپس کو باضابطہ طور پر اوکاڑہ یونیورسٹی اوکاڑہ کے نام سے منظور کر لیا گیاتب راؤ سکندر اقبال کا خواب جو ادھورے منصوبے کی شکل میں موجود تھا ایک نام نہاد ادارے کے طور پر اپنی تکمیل کی راہ پر گامزن ہوا، یونیورسٹی کی باقاعدہ منظوری کے بعد وائس چانسلر جیسی اہم ترین پوسٹ سے خالی رکھا گیا،اگست2018میں سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہور،سابق ڈین آف سوشل سائنسز،فیکلٹی آف لاء ،ڈائریکٹر آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز، جرمنی سے سوشل اینڈ پبلک ہیلتھ میں PHD ، ڈ امریکہ اور جرمنی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ اور صدراتی ایوارڈز یافتہ سمیت متعدد قومی و انٹر نیشنل ایوارڈز حاصل کرنے والے ماہر سماجیات ڈاکٹر زکریا ذاکر کو اوکاڑہ یونیورسٹی کا پہلا وائس چانسلر تعینات کیا گیا جو واقعی رحمت بیکراں ثابت ہوئے ،ڈاکٹر زکریاذاکر نے آتے ہی یونیورسٹی کو زمانہ جدید سے ہم آہنگ کرنے کے لئے انقلابی قدامات ک�آاغاز کیا،انہوں غیر ملکی و ملکی ماہرین تعلیم،اسکالرز کو یونیورسٹی میں بلا کرمشاورت کی، اپنی تمام تر صلاحیتوں کو یونیورسٹی کی ترقی و بہتری کے لئے مخصوص کر دیا،انتھک محنت کے بعد ہائر ایجوکمیشن سے اوکاڑہ یونیورسٹی کا NOCحاصل کیا اب اس جامعہ کا شمار ملک کی تمام بڑی جامعات میں ہونے لگا ہے جو کسی مخصوص علاقے نہیں بلکہ قومی و بین الا قوامی سطح پر داخلہ اور ڈگری جاری کر سکتی ہے اب ایک طرف ملک بھر سے نہ صرف پروفیسر،اسکالرز اس یونیورسٹی میں اپنی تعلیمی خدمات کے لئے وقف کرنے کو اعزاز سمجھ رہے ہیں بلکہ پورے ملک سے تعلق رکھنے والے طلبا ء طالبات نے تعلیم کے حصول کے لئے اس جامعہ کا انتخاب شروع کر رکھا ہے ،چند ہی ماہ میں طلبا و طالبات کی تعداد6000تک پہنچ چکی ہے ڈاکٹر زکریا کے مطابق اسی سال کے آخر تک وہ طلبا وطالبات کی انرولمنٹ کو کم از کم دس ہزار تک پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں،اس وقت یونیورسٹی کی تمام فیکلٹی PHDتک کرانے کی اہل ہیں جسے کم ترین وسائل کی بدولت جاری کرنا کسی معجزہ سے کم نہیں،یہی وہ یونیورسٹی ہے جہاں دو سال تک نہ کوئی ڈسپلن تھا،نہ کوئی معیار،نہ کوئی میرٹ،نہ طلباء و طالبات کا رجحان،اساتذہ و دیگر عملہ کے درمیان آئے روز چپقلش،ہڑتال،مالی طور پر مختلف جگہ پر ڈیفالٹ ،مگر یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر کا اعزاز رکھنے والے ڈاکٹر زکریا نے آتے ہی اس علاقہ میں قومی سطح پر ایک عظیم تعلیمی ادارہ متعارف کر ا دیا،اب یونیورسٹی کے مختلف پراجیکٹس کو عالمی سطح پر بھی منظوری کے مراحل جاری ہیں جن میں انگلش لینگوئج کی ترویج کے حوالے سے شعبہ انگلش کے ہیڈ پروفیسر الیاس لاکھوں ڈالرز کے ایک منصوبے کو امریکہ سے منظور کرانے کیلئے پر عزم ہیں،یونیورسٹی سے واپسی پر الراقم جہاں روشنی کے اس مینارہ نور کو دیکھ کر اپنے عظیم وطن کی ترقی کے لئے ،عوام کی پسماندگی دور ہونے ،غرباء کی محرومیوں کو دور ہوتا دیکھ کر خوش ہو رہا وہیں سوچ کے دھارے اس واقعہ کی جانب بھی لے گئے، یونیورسٹی سے ملحقہ نہر لوئر باری دو آب کا یہ وہی ایریا تھا جہاں انسانی جان کو بچانے کی پاداش میں رینالہ خورد شہر کے قریب نہر میں چھلانگ لگاکر شہادت حاصل کرنے والے چھوٹے بھائی کاشف مغل شہید کا جسد خاکی ملا تھا اوہ جگہ یونیورسٹی کی شمالی گیٹ کے عین سامنے تھی،شہید بھائی کی جدائی کا غم اپنی جگہ مگر یہ اطمینان ضرور ہوا کہ جہاں شہید بھائی کا جسد خاکی ملا آج وہی جگہ ڈاکٹر زکریا کے جذبے کے تحت پاکستان کے اعلیٰ ترین درگاہوں میں شمار ہونے جا رہی ہے،بلاشبہ راؤ سکندر اقبال ہم میں نہیں ہیں اس عظیم درسگاہ سمیت وہ اوکاڑہ کے کونے کونے میں نظر آتے ہیں،جتنی ترقی راؤ سکندر اقبال محروم کے دور میں اوکاڑہ نے کی ایسا اعزاز شاید ہی کسی اور کے نصیب میں ہو ،آج ان کی روح بھی یقیناً پر سکون ہو گی۔ 

یہ بھی پڑھیں  ’’میرٹ‘‘ کی دَھجیاں