ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

اوپن نظام تعلیم اور جد ید تقا ضے

s m irfan thairاے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن           جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا
بے شک علم زندگی اور جہالت مو ت سے تعبیر ہے ۔ لو ح سے لیکر قلم تک ، عرش سے لیکر فرش تک ، کہکشاں سے لیکر جھر نو ں تک، فضاؤ ں سے لیکر ریگزاروں تک ، ظا ہر سے لیکر باطن تک ، امید سے لیکر خوابو ں تک ، ادا سے لیکر عمل تک ، عدا وت سے لیکر بغا وت تک ، اچھا ئی سے لیکر بر ائی تک ، عذاب سے لیکر ثواب تک ، عکس سے لیکر پر چھائی تک ، جسم سے لیکر انگڑائی تک ، حلا ل سے لیکر حرام تک ، امن سے لیکر تباہی تک ، جنت سے لیکر جہنم تک اور ازل سے لیکر ابد تک علم کا دارومدار پوری کا ئنا ت کو سمیٹے ہو ئے ہے ۔ کوئی بھی دنیا میں ایسی شے نہیں جو علم و حکمت اور دانائی سے خالی ہو رب کے وجود کی دستر س علم کے مرہون منت ہے اپنے اچھے بر ے کی خبر علم کی بد ولت ہے یعنی علم سے اس کائنا ت کی ساری رونقیں وا بستہ ہیں اورلا علمی کفر ہے مو ت ہے ناکا می ہے زندگی کا دارومدار ہی علم سے وابستہ ہے اور علم کی عدم موجودگی تبا ہی و بربادی کا سامان ہے وہ علم مذہبی اعتبا ر سے ہویا عصری اعتبا ر سے ایمان کا تقا ضا ہے کہ علم کا وجود ہو گا تو عمل پر کا ربند رہیں گے دور جد ید میں علم کی افا د یت اور اہمیت کااندازہ بخوبی اس لیے بھی لگا یا جا سکتا ہیکہ تر قی یا فتہ اور تر قی پذیر اسی کی بد ولت کہلا یا جا تا ہے حضرت وا صف علی وا صفؒ فرما تے ہیں علم کو نور بھی کہا گیا ہے اور حجا ب اکبر بھی نو ر اس لیے کہ علم پہچان کا زریعہ ہے آگہی اور ادراک کا با عث ہے ۔ملک پاکستان میں علم کی شمعیں گھر گھر روشن کر نے اور اس نایاب زیو ر کو چپے چپے پر پہنچا نے کا بیڑہ فا صلاتی نظام تعلیم سے وابستہ ادارہ علا مہ اقبال اوپن یو نیو رسٹی نے اٹھا رکھا ہے مفکر پاکستان کی سوچ اورافکا ر کو عملی جا مہ پہنانے اور دور افتادہ علا قوں میں علم کی رو شنی پہنچا نے کے لیے اوپن نظام تعلیم صف اول پر کھڑا ہے اور ایسے ایسے افراد کو بھی علمی دولت سے مالا مال کر رہا ہے جو اس کی خو شبو بھی نہیں سو نگھ سکتے تھے اس اوپن نظام تعلیم نے نہ صرف آسانیا ں پیدا کردی ہیں بلکہ کوئی پیشہ ور شخصیت ہو یا غیر پیشہ ور افراد سبھی کے دل کی پیا س بجھا نے کی مکمل سعی کی ہے ۔ یکم جون 1986 وہ سہا نی گھڑیاں تھیں جب گو جرا نوالہ کی سرزمین میں علا مہ اقبال اوپن یو نیورسٹی کی بنیا د رکھی گئی اور ایم مظہر الحق قریشی اس اوپن نظام تعلیم کے پہلے بانی اسسٹنٹ ریجنل ڈائر یکٹر قرا ر پا ئے ڈویثر ن بھر میں نئی تعلیمی سرگر میوں کا آغاز کیا گیا اور اہلیا ن گو جرا نوالہ کو فا صلا تی نظام تعلیم کے زریعہ سے معلو مات اور علوم کا زخیرہ فراہم کیا جا نے لگا یو ں ر فتہ رفتہ یہ نظام تعلیم شہر سے چلتے چلتے گا ؤ ں اور قصبوں کی زینت بنا اور گو جرا نوالہ کے شہریوں کو ایک ذمہ دار ، ایماندار اور قابل شخصیت کا تحفہ 2010 میں علا مہ اقبال اوپن یو نیو رسٹی کے پلیٹ فارم سے ڈا کٹر مختار احمد کی صورت میں عطا ہوا جنہو ں نے آؤ ٹ سائڈر ہو نے کے با وجو د اپنی صلا حیتو ں کا لوہا منوایا اور ریجنل ڈائر یکٹر کی حثیت سے دن رات محنتو ں اور کا وشوں سے اوپن نظام تعلیم کے پلیٹ فارم سے ایک نئی تا ریخ رقم کی 97000 کو رس انرولمنٹ پر انہوں نے سٹارٹ لیا اور آج ان کی سر پرستی اور سپر ویثرن میں یہ تعدا د ڈیڑھ لاکھ سے بھی تجا وز کر چکی ہے اس میں بلا شبہ ڈاکٹر مختا ر احمد کی محنت ، لگن اور اخلا ص نیت شامل ہے جنہو ں نے مقا بلے کی صف میں کئی پر ائیویٹ اور سرکا ری اداروں کو ما ت دے دی ہے ۔ ان کی اس کامیابی اور ڈویلپمنٹ کے پیچھے یو نیورسٹی کی قیا دت کا بہت بڑا ہا تھ ہے جس میں وائس چا نسلر پر و فیسر ڈا کٹر نذیر احمد سانگی خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہو ں نے ایک نیم سرکا ری ادارہ ہو نے کے با وجود اپنی غیر معمولی سرگرمیوں اور انتہائی ذہا نت اور تعلیم دوستی کا ثبوت دیتے ہو ئے چا رسو شہر وں ، گا ؤں ، قصبوں ، گلی ، محلوں اور آبا دیوں میں فا صلا تی نظام تعلیم کے وہ لا زوال چراغ روشن کر د یے ہیں کہ جن کی روشنی ان کی آخری آرام گاہ کو بھی روشن ا ور منور کردے گی ۔ ایسے لوگو ں کے لیے ہی شاعر نے کہاہے کہ
ہزاروں سال نر گس اپنی بے نو ری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہو تا ہے چمن میں دیداور پیدا
17 جو لا ئی 2012 میں علا مہ اقبال اوپن یو نیورسٹی نیو کیمپس کا افتتاح کر کے وی سی پر و فیسر ڈا کٹر نذیر احمد سانگی نے گو جرا نوالہ شہر میں فاصلاتی نظام تعلیم کے نئے دور کا آغاز کیا اور اس کے سرپرست ڈا کٹر مختار احمد کے خوابو ں کی تعبیر ایک پر کشش ، پر وقار اور خو بصورت عالی شان بلڈنگ سے عملی طور پر منظر عام پر آگئی جہا ں آج جد ید نظام تعلیم کے تقا ضوں کو پورا کرتے ہو ئے سی سی ٹی وی کیمرے نسب کیے گئے ہیں ، انٹرنیشنل لنکس کے لیے ویڈیو کا نفرنسنگ کا نظام موجود ہے ۔ دو کمپیو ٹر لیبز تیا ر کی گئی ہیں جہا ں پر آئی ٹی کے شعبہ میں مہا رت رکھنے والے افرادسیکھتے اور سکھا تے ہیں ، جد ید لا ئبر یری ، ملٹی پر پذل ہال ،گا ئیڈ لائنز کی سہولیا ت اور تمام وہ سہولیا ت مہیا کی گئی ہیں جو سٹوڈنٹس کے لیے آسانی پیدا کر سکتی ہیں تا کہ وہ جد ید تقا ضو ں کے مطا بق اپنی تعلیم جا ری و ساری رکھ سکیں اس نیو کیمپس سے نہ صرف نئے طلبہ و طا لبا ت کی حو صلہ افزائی ہو گی بلکہ ان میں احساس محرومی اور احساس کمتری کا خاتمہ ہو گا اور وہ ایک پر وقا ر نظام تعلیم میں رہتے ہو ئے اپنی تمناؤں اور خوا ہشات کی تکمیل کر سکیں گے تمام پر ائیو یٹ اور سرکا ری ادارے شہروں اور سہولیا ت والے ایریا ز میں تعلیم کو عام کر نے میں مصروف عمل ہیں جبکہ علا مہ اقبال اوپن یو نیو رسٹی واحد وہ ادارہ ہے جوزیا دہ سے زیا دہ اربن ایریا ز کو فو کس کر رہا ہے تا کہ سائیڈ ایریاز میں بھی تعلیم کی دولت عام کی جا ئے اور جو لوگ اس سہولت سے محروم ہیں ان کو سستی اور معیا ری تعلیم مہیا کی جا ئے اس کے ساتھ ساتھ ایسے طلبہ و طا لبا ت جوفیس مہیا نہیں کر سکتے ہیں اور یتیموں ، لا وارثوں اور بے سہا را افراد کے لیے انکم سپورٹ فنڈ مہیا کیا گیا ہے تا کہ ان کی کفا لت کی جاسکے اور مزید اس فا صلا تی نظام تعلیم کو بہتر بنا نے اور اس میں جد ت لا نے کیلیے تمام تر یو نیوسٹی انتظامیہ وائس چا نسلر پر و فیسر ڈاکٹر نذ یر احمد سانگی کی سرپرستی میں دن رات کو شاں ہیں اور اس نظام تعلیم کے زریعہ سے وہ دن دور نہیں ہیں جب اس ملک کا ایک ایک بچہ خوا ندہ ہو گا اور پو ری دنیا میں یہ نظام تعلیم ڈا کٹر ز ، وکلا ء ، آرمی آفیسرز ، ٹیچرز ، پر وفیسرز ، بز نس مین ، صحا فی ، سیاست دان ، سکالرز ، علما ء و مشائخ اور پڑھے لکھے افراد پیدا کرے گا ۔

یہ بھی پڑھیں  شاہ رخ جتوئی کے میڈیکل بورڈ میں ایک ممبر کا اضافہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker