پاکستان

امریکا سے تعلقات: متحدہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں ایک موٴقف اپنانے پر متفق

اسلام آباد (بیوروچیف) اپوزیشن جماعتیں امریکا سے تعلقات پر پارلیمنٹ میں ایک موٴقف اپنانے پر متفق ہوگئیں، مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن کی تجاویزکو شامل کیا تو پارلیمنٹ کی قرار داد کی حمایت کریں گے بصورت دیگر امریکا سے تعلقات سے متعلق فیصلے کو پارلیمنٹ کا نہیں حکومت کا فیصلہ سمجھا جائے گا، آل پارٹیز کانفرنس کی قرار داد پر عملدرآمد کی ضمانت چاہتے ہیں جبکہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کرے گی، پارلیمنٹ میں فیصلے خارجہ پالیسی کے بنیادی نکات پر کئے جائیں۔ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت متحدہ اپوزیشن کا اجلاس ہوا جس میں چوہدری نثار، سلیم سیف اللہ، آفتاب شیرپاوٴ، مشاہد اللہ اور مولانا عبدالغفور حیدری کے علاوہ دیگر رہنماوٴں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کی قرار داد پر عملدرآمد کی ضمانت چاہتے ہیں، پارلیمنٹ کی قرار دادوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات پر پارلیمنٹ اتفاق رائے سے پالیسی طے کرے گی، اپوزیشن کی تجاویز کو شامل کیا تو اس کی حمایت کریں گے، اگر اپوزیشن کی تجاویز شامل کی گئیں تو اسے پارلیمنٹ کا فیصلہ سمجھا جائے گا بصورت دیگر اس فیصلے کو حکومت کا فیصلہ سمجھیں گے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما اور مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کے اجلاس میں پارلیمنٹ کے اجلاس میں متفقہ لائحہ عمل طے کرنے پر تبادلہٴ خیال کیا گیا، اپوزیشن پارلیمنٹ میں کھل کراپنیتحفظات کا اظہارکرے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نیٹو سپلائی پر پارلیمنٹ سے متفقہ قرار داد منظور کرائی جائے، پارلیمنٹ میں دور رس فیصلے کئے جائیں، وقتی فیصلوں سے بچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو قائل کرے کہ وہ نیٹو سپلائی پر تجاویز پر عمل کرے گی اور پارلیمنٹ کے فیصلوں پر اپوزیشن کو قائل کرنا ہوگا، نیٹو سپلائی کیلئے پارلیمنٹ کے اجلاس کو ہائی جیک نہیں کرنے دیں گے۔ میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کمیٹی پارلیمنٹ کا نعم البدل نہیں ہوسکتی اگر سارے فیصلے کمیٹیوں میں ہونے ہیں تو انہیں پارلیمنٹ میں لانے کی کیا ضرورت ہے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ پارلیمنٹ میں فیصلے خارجہ پالیسی کے بنیادی نکات پر کئے جائیں، پاکستان کے وسیع تر مفاد میں اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker