شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / اپوزیشن میں حرکت

اپوزیشن میں حرکت

خبر آئی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی دعوتِ افطار مریم نواز شریف نے قبول کر لی ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بلاول مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے رابطہ قائم کر کے اُنہیں اِسی طرح کی دعوت دے رہے ہیں، اور یوں امید ہے کہ افطار کے نام پر ایک کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد ہو جائے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما متحدہ محاذ قائم کر کے حکومت کے خلاف پیش قدمی کریں گے۔عین ممکن ہے وہ عید کے بعد سڑکوں پر نکل آئیں،اور اپنے کارکنوں کو متحرک کر کے ماحول میں نئی گرمی پیدا کر گزریں۔مولانا فضل الرحمن نے تو الیکشن کے فوراًبعد ہی یہ کوشش کی تھی۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف صاحبان سے ملے تھے، اور ان پر زور دیا تھا کہ انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا جائے۔ان کے بقول یہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں تھے، جگہ جگہ ریاستی اداروں کی مداخلت ان پر اثر انداز ہوئی تھی،اور ایک ایسی حکومت مسلط کر دی گئی تھی جسے عوام کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں تھا،لیکن ان کے تمام تر دلائل مطلوبہ اثرات مرتب نہیں کر سکے۔ بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اسمبلیوں میں جانے، اور پارلیمانی سیاست کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا، اور یوں مولانا صاحب کف ِ افسوس ملتے رہ گئے۔ انہوں نے ہمت نہیں ہاری، اپنی ضد پر قائم رہے، بڑے بڑے جلسوں میں اپنے کارکنوں میں جوش و خروش بھرتے چلے گئے۔انہیں یقین تھا کہ ایک دن ان کی سنی جائے گی، اور ان کی بات جھٹکنے والے اسے ماننے پر مجبور ہوں گے۔مولانا بڑے شدو مد سے اپنے بیانیے پر قائم ہیں، اور وزیراعظم عمران خان کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ مولانا صاحب کے غم و غصے سے قطع نظر غیر جانبدار مبصرین یہ سمجھتے تھے کہ عام انتخابات کو یکسر مسترد کرنے سے جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں ہو گی۔ شکایات موجود تھیں،اور انتخابات سے پہلے پیدا کی جانے والی فضا میں سے بھی بہت کچھ سونگھا جا سکتا تھا،لیکن بحیثیت مجموعی انتخابی نتائج کو رد کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے نظر نہیں آ رہے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی جماعت تھی اور ہے، اس کے ووٹر گلی گلی موجود تھے اور ہیں۔ عمران خان نے دو عشروں تک مسلسل جدوجہد کے ذریعے اپنا راستہ بنایا، اور اپنے آپ کو منوایا ہے۔ انہیں یکسر مسترد کر دینا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں ہر عام انتخاب کے بعد ہارنے والوں نے دھاندلی کا شور مچایا ہے، یا انجینئرنگ کا، لیکن بالآخر انہیں سر جھکا کر مے خانے میں داخل ہونا پڑا ہے۔اس لیے انتخابی نتائج کے خلاف دھماچوکڑی مچانے کے لئے محض یہ بات کافی نہیں ہو سکتی کہ اپوزیشن ان کے خلاف بیان بازی میں مصروف ہو چکی ہے۔اگر اس دلیل کو مانا جاتا تو پھر پاکستان میں کسی عام انتخاب کے بعد کوئی حکومت نہ بن پاتی۔بحیثیت مجموعی جہاں ماضی میں حکومتوں کی کریڈیبلٹی پر سوالیہ نشان اُٹھتے رہے ہیں،وہاں حزبِ اختلاف کو بھی اسی صورتِ حال کا سامنا رہا ہے۔اس کے دعوؤں پر بھی آنکھیں بند کر کے ایمان نہیں لایا جا سکتا۔ اسی لیے دھاندلی کے الزامات پاکستان کے سیاسی کلچر میں معمول کی لفاظی سمجھے جاتے ہیں۔صرف1977ء کے انتخابات اس حوالے سے مختلف ہیں۔ ان میں الزامات کا وزن اس قدر زیادہ تھا،کہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے والے ذوالفقار علی بھٹو کو بھی ہتھیار ڈالنا اور نئے انتخابات کے مطالبے سے اتفاق کرنا پڑا۔ قومی اور صوبائی اسمبیوں کو قیام کے چند ہی ہفتوں بعد تحلیل کرنے کا فیصلہ ہماری ہی نہیں دُنیا کی سیاسی تاریخ میں بھی نقش ہو چکا ہے۔1977ء کی منظم دھاندلی سے یوں انکارممکن نہیں کہ ہر انتخاب میں 30سے 40 فیصد کے درمیان ووٹ حاصل کرنے والی پیپلزپارٹی ان میں 56فیصد حاصل کر گزری تھی۔ ”اوور ایٹنگ“ گلے پڑ گئی اور الٹیاں کرنا پڑیں۔2018ء کے انتخابات کو صرف اخباری بیان جاری کر کے مسترد کرنا ممکن نہیں تھا،سو اپوزیشن نے اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور اس کے حق میں یہ دلیل لائی گئی کہ تحریک انصاف کی ناتجربہ کار اور خبط ِ عظمت میں مبتلا قیادت غلطیوں پر غلطیاں کرے گی، معیشت اس سے سنبھالی نہیں جائے گی۔ مہنگائی کا طوفان اُٹھے گا، ابتری اور بدحالی کے بادل چھائیں گے ہی نہیں چھاجوں برسیں گے، تو پھر عوام سینہ کوبی پر تیار ہوں گے۔سڑکوں پر نکلیں گے اس وقت باہر نکل کر حکومت کے ”گوڈے لگوانے“ کے لیے جان لڑانا نتیجہ خیز ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں  عالمی دہشتگرد خطرے میں

معاشی محاذ پر افراتفری برپا ہے،ڈالر بے قابو ہے، افراطِ زر بڑھ رہا ہے۔ آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کرنا پڑا اس کے نتیجے میں عوامی مشکلات میں اضافہ ناگزیر ہے۔کوئی معاشی اعشاریہ بھی سکون کی خبر نہیں دے رہا۔اس کے ساتھ ہی ساتھ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کے خلاف ”نیب“ حرکت میں ہے،ان پر طرح طرح کے مقدمات قائم ہو رہے ہیں، الزامات لگ رہے ہیں،اور کئی ایک کا وزن بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔حکومت احتسابی کارروائیوں کا سہرا اپنے سر باندھ رہی ہے،لیکن خود اس کے بعض ذمہ دار بھی ان کی زد میں ہیں۔اپوزیشن اس ماحول سے استفادہ کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنے پر آمادہ ہو چکی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف دو طاقتور سیاسی شخصیات بن کر اُبھر چکے ہیں (یا اُبھر رہے ہیں) لیکن پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار حکومت ہی نہیں اپوزیشن بھی کٹہرے میں ہے، دونوں کو کڑے سوالات کا سامنا ہے۔ حکومت کو معاشی کارکردگی کے حوالے سے، اور اپوزیشن کو احتسابی کارروائیوں کے حوالے سے…… یہ درست ہے کہ ساری سیاسی جماعتیں یکجا ہو کر حالات پر شدت سے اثر انداز ہو سکتی ہیں۔لیکن یہ بھی درست ہے کہ تاریخ کا دریا کسی سے ڈکٹیشن لے کر نہیں بہتا۔موجودہ بحران حکومتی سے زیادہ ریاستی ہے،اس کی زد میں صرف حکومت نہیں آئے گی،اس لیے اپنے اپنے مفاد سے قطع نظر، سب کے مفاد پر نظر رہنی چاہیے۔حکومت اور حزبِ اختلاف کو ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے اس سامنے کی حقیقت پر بھی نظر کھنا ہو گی۔قیامت برپا ہو گئی تو کوئی بھی اپنے آپ کو سنبھال نہیں پائے گا۔

یہ بھی پڑھیں  بھاول نگر:سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں پر عمل درآمد کون کرائے گا، خالد شیخ

حکومت اور اپوزیشن دونوں حقیقت ہیں۔ دونوں نے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کیے ہیں۔ دونوں کے حامی گلی گلی، قریہ قریہ،بستی بستی موجود ہیں۔ ایک دوسرے کا انکار کر کے زندگی دوبھر ہو سکتی ہے، آسان نہیں ہو سکتی۔ایک دوسرے کو تسلیم کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔ ایک دوسرے کو جینے کا حق دینا ہو گا۔ احتساب اپنی جگہ لیکن یہ سب کا ہونا چاہیے۔دُنیا بھر میں انتخابی مہم کی تلخیاں انتخابی عمل مکمل ہوتے ہی ختم (یا کم) ہو جاتی ہیں۔قوم کو مستقل طور پر تقسیم کرنے والے اس کے معمار نہیں بن سکتے۔دور جانے کی ضرورت نہیں، اپنی تاریخ ہی پر نظر ڈال لیجیے،اپنوں کے لگائے ہوئے زخموں سے خون ابھی تک رِس رہا ہے۔ اب تو اس گھناؤنے کھیل سے توبہ کر لیجیے۔

یہ بھی پڑھیں  حلقہ 129اور159سے چودھری یعقوب کی نامزدگی سے رحمانی برادری کاتعلق نہیں:رحمانی برادری