شہ سرخیاں

اوربھی غم ہیں

مخالفین کچھ بھی کہیں کپتان کادورہ امریکہ انتہائی کامیاب رہا،بھارت کی چیخیں بتارہی ہیں کہ پاکستان کوتنہاکرنے کاخواب چکناچورہوچکاہے،امریکہ میں کپتان کاجلسہ بھی انتہائی موثرتھااوربیانیہ بھی عوام کی امنگوں کاترجمان،عوام یہی چاہتے ہیں کہ کرپٹ مافیاکااحتساب کیاجائے اورپوری دنیاکواس تلخ حقیقت سے تفصیلی آگاہ کیاجائے کہ ہمارے ماضی کے حکمران کرپٹ تھے جن کااحتساب ہورہاہے اوراب پاکستان میں کرپشن اورلوٹ ماراس قدرآسان نہیں جتنی ماضی میں ہواکرتی تھی لہٰذاآپ پاکستان آئیں اورکھل کرسرمایہ کاری کریں یہاں آپ کاسرمایہ بھی محفوظ رہے گااورمنافع بھی،دورہ امریکہ کی کامیابی اپنی جگہ اورعوام کودرپیش مسائل اپنی جگہ،یہ بھی سچ ہے کہ اعلی نسل کی فنکاریاں اور بڑے بڑے بول قوم کیلئے نئی یاقابل اعتبار بات نہیں البتہ نئے پاکستان کے دعویدارنئے حکمران عمران خان عوام کیلئے نئے اور ان کے دعوے بھی نئے ہیں ورنہ ماضی میں بھی حکمران اپنے سیاسی مخالفین پرالزامات بھی لگاتے رہے،مقدمات بھی بناتے اور انہیں قیدوجلاوطن بھی کرتے رہے ہیں پرقوم کو کچھ حاصل نہ ہوالہٰذاجب تک کرپٹ طبقے سے قومی دولت وصول نہیں ہوجاتی تب تک عمران خان کی بلندوبالاتقاریربھی ماضی کے حکمرانوں کے کھوکھلے سیاسی نعروں کی طرح قابل اعتبارنہیں،جیسے جیسے وقت گزرے کامشکلات سے دوچار قوم عمران خان سے سوال کرے گی کہ عوام کواور کتنی مشکلات سے گزرناہوگا؟لوٹ مارکے ذمہ دارکب تک دندناتے پھریں گے؟کب وزیراعظم پاکستان اپنے وعدے کے مطابق ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کریں گے؟کب مصنوعی مہنگائی کے ذمہ داران کوکڑی سزائیں دے کرمصنوعی مہنگائی کاخاتمہ ممکن ہوگا؟کب غریب وامیر کیلئے ایک جیسانظام انصاف بنے گا؟عدالتوں،تھانوں،پٹوارخانوں کی خریدوفروخت بندہوگی؟کب بغیررشوت وسفارش واپڈا،گیس،اسپتال اوردیگراداروں میں عام آدمی کے ساتھ بہترسلوک ہوگا؟جناب وزیراعظم ٹیکس دیناعوام کی ذمہ داری جبکہ صحت،تعلیم اورفوری مفت انصاف جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے آپ نے ٹیکس لینے پرتوزوردے رکھاہے جبکہ صحت،تعلیم اورانصاف آج بھی مافیاکے ہاتھوں میں ہیں،یکساں نظام صحت،تعلیم اورانصاف فراہم کرناریاست کی ذمہ داری ہے پرافسوس صد افسوس کے تینوں محکمے پاکستان میں محفوظ اورتیزترین منافع بخش کاروباربن چکے ہیں،میرے کپتان جتنی جلدی ہوسکے ان بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ عوام آپ کاساتھ دیں ورنہ اوربھی غم ہیں زمانے میں کرپشن کے سوا،صرف سیاستدان ہی کرپٹ نہیں یہاں اوربھی بہت کچھ قابل تفتیش ہے،مصنوعی مہنگائی کوکنٹرول کرنے کیلئے کسی نئے قانون یاآئینی ترمیم کی ضرورت ہے نہ ہی امدادیاقرض لینے کی ضرورت ہے فقط ایک ذمہ دار کمیٹی قائم کریں جواشیاء خوردونوش کے معیار پرسمجھوتہ کئے بغیروزن کے مطابق مناسب ترین قیمتوں کاتعین کرکے ایک عددہیلپ لائن قائم کردے جس پرعام عوام شکایات درج کرواسکیں اورخلاف ورزی کرنے والے تاجروں،دکانداروں کوسزااورجرمانے کریں تومصنوعی مہنگائی ختم ہوسکتی ہے،پاکستان کودرپیش چیلنجزمیں اہم ترین چیلنج کرپشن ہے جبکہ کرپشن کی بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے جب تک عوام کوتعلیم و آگاہی حاصل نہیں ہوگی لوگ کرپٹ مافیاکے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے، قومی دولت لوٹنے والے ناجائزمنافع خورسرمایہ دارساتھیوں کے ساتھ مل کر انصاف اور قانون کوخریدتے اور یرغمال بناتے آئے ہیں جوآج بھی جاری ہے، عوام کوبہتر تعلیم اور شعور دیئے بغیرکوئی بھی انقلاب عارضی ہوگا۔ٹیکس لینا بہت بڑامارکہ ہے توعوام کیلئے تعلیم وصحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی بڑے چیلنجزہیں،آپ۔نے دیکھا سنگین ترین الزامات میں سزاپانے والے سیاستدانوں کے ساتھ آج بھی لوگ بغیرتحقیق کھڑے ہیں تواس کی فقط ایک ہی وجہ ہے اوروہ ہے تعلیم کی کمی،میرے کپتان ٹیکس لیناکوئی بڑی بات نہیں جب ریاست ایکشن لیتی ہے توایسے مسائل حل ہوہی جاتے ہیں،ٹیکس ضرورلیں پرساتھ ساتھ صحت،تعلیم اورانصاف جیسی بنیادی سہولیات کی فوری اورآسان فراہمی کوبھی یقینی بنائیں ورنہ اوربھی غم ہیں زمانے میں کرپشن کے سوا،کھاتے ہیں توکیالگاتے بھی توہیں والا نظریہ ابھی زندہ ہے یعنی راحتیں اور بھی ہیں،وضاحتیں اوربھی ہیں

یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم اور افغان صدر کی ون آن ون ملاقات