بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

پائی کی لالچ میں روپیہ گنوانا ۔۔؟؟؟

bashir ahmad mirوطن کا غیرت مند سپوت ثناء اللہ جو بھارتی زندان میں گذ شتہ19برسوں سے قید و بند تھا ،اس کا کیا جرم تھا کہ اسے نشانہ انتقام بنایا گیا،چلیں یہ ہمارا جذباتی ردعمل ہے تو غیر جانبدارانہ منظر کشائی کرتے ہیں۔ہمارے حریت پسند رہنما مقبول بٹ ،افضل گورو کو پھانسی کے پھندے پر بھارتی حکمرانوں نے چڑھایا مگر ایک مثال بھی نہیں دی جا سکتی ہے کہ پاکستان نے کسی بھی واقعہ کا فوراً انتقام لیا ،ذرا ٹھندے دل سے سوچیں افضل گورو کو جب تختہ دار پر لٹکایا گیا تو سر بجیت سنگھ جسے سزائے موت دی جانا تھی ،20سال تک اسے پورے اہتمام سے جیل میں خصوصی طور پر رکھا گیا،عوامی ردعمل کے باوجود حکومت پاکستان نے کسی ایسے عمل سے گریز کیا جس سے دونوں ممالک کے ما بین تلخی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو ۔مگر بد قسمتی سے بیرک میں موجود سزائے موت کے قیدیوں نے توں تکرار میں سربجیت کو شدید زخمی کر دیا جو جانبر نہ ہو سکا۔اس واقعہ کی جس قدر مذمت ، مقتول سر بجیت کے خاندان کے غم و غصہ میں برابر شریک اور ہماری جیلوں کی بد انتظامی کا اظہار کیا جائے کم ہو گا۔اسلام ہر گز کسی کی جان و مال پر ہاتھ مارنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن اسلام سے لاعلم ،انسانیت کے دشمن رجحانات اورانا پرستی کا ظالمانہ انداز پوری دنیا میں طوفان برپا کئے ہوئے ہے ۔بھارت کو سمجھنا چاہئے کہ اگر پاکستان انتقام لینا چاہتا تو افضل گورو سے زیادہ جذباتی ماحول نہ تھا مگر ایسا نہ ہونا ہماری حکومت کی دانشمندی اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔سربجیت کی طرح ثناء اللہ کو بھی ایک قیدی نے کلہاڑا مار کر وہی جرم کیا جو کوٹ لکھپت کے قیدیوں سے سر ذد ہوا ۔بھارت کے بارے یہ غلط تاثر عام فہم ہے کہ وہ قانون و انصاف کی قدردانی کرتے ہیں مگر جب ہم طاہرانہ جائیزہ لیتے ہیں تو بھارتی حکمرانوں کا مکروہ چہرہ لاکھوں بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگین نظر آتا ہے۔کشمیر سے لیکر بھارت کی متعدد ریاستوں میں مظلوم شہریوں کا جس انداز سے استحصال اور آذادی مانگنے کی سزا دی جا رہی ہے اس کے لئے لاکھوں مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔بھارت آج سر بجیت سنگھ کے لئے رونا دھونا کر رہا ہے جو درحقیقت 14بے گناہ شہریوں کا قاتل تھا ،جس نے کئی ماؤں کے لخت جگر ان سے جدا کئے ،جس نے دہشتگردی کا ارتکاب کر کے فساد پیدا کیا۔بھارت کے اس جاسوس کی اہمیت کا اندازہ اس وقت لگا جب اس کی میت لینے خصوصی طیارہ بھیجا گیا اور اس کے پسماندگان کو ایک کروڑ روپے (ہمارا تقریباً دو کروڑ) معاوضہ اور مراعات کا اعلان کیا۔جبکہ اس کی چتا جلانے کی رسومات میں بھا رتی کانگرس کے رہنما راہول گاندھی سمیت کئی شخصیات نے شرکت کی ۔جو اس امر کی دلیل ہے کہ یہ غیر معمولی قیدی نہ تھا،جذباتیت سے ہٹ کر سربجیت اور ثناء اللہ کے قتل کا جائیزہ لیا جائے تو یہ بھارتی حکمرانوں کا انتقامی رویوں کا واضح ثبوت ہے جیسا کہ سر بجیت کی ہلاکت پر بھارتی میڈیا نے راگ لگا رکھا ہے اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی حکمران پاکستان دشمنی کی بنیاد پر آمدہ سال انتخابات میں عوام کی ہمددری حاصل کرنے کی سازش میں مگن ہیں ۔ پاکستان کے غیور عوام یہ سمجھتے ہیں کہ خطہ میں امن قائم ہو ،عوام خوشحال ہوں اور دونوں ممالک ملکر یورپ سے سبق سیکھ پائیں کہ معاشی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہیں ۔دونوں ممالک کے عوام غربت اور بے روزگاری جیسے بحران کا شکار ہیں جس کا مقابلہ ایسے ہرگز ممکن نہیں کہ غیر سنجیدہ حرکات سے جزوی فائدہ دیکھ کر دائمی مفادات کو ترک کر دیا جائے ،کسی نے سچ کہا تھا کہ’’ہندوں ایک پائی کی لالچ میں روپیہ گنوانا اپنی فطری کمزوری سمجھتا ہے‘‘ ۔یہی حال بھارتی سورماؤں کا دیکھ کر پتہ لگتا ہے کہ ان مد ہوش حکمرانوں کو اقتدار کی ایسی لت لگی ہے کہ وہ عین اپنے انتخابات سے قبل عوامی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے جذباتی ماحول پیدا کر لیتے ہیں۔ا ن بد بختوں کو پتہ ہوتا ہے کہ کہاں ہندوؤں کی جذباتی کیفیت ان کے مفادات کا سہارا بنتی ہے ، انتہا پسند ہندؤبال ٹھاکرے نے ایسی صورت حال پیدا کر رکھی تھی کہ جیسے مسلمان ان کی نظر میں انسان نہیں تھے بلکہ اس نے اپنی زندگی کو انسانوں کی تباہی اور بر بادی کے ساتھ جوڑ رکھا تھا ۔وہ تو چلا گیا مگر اس کی انسان دشمن سوچ کے پیروکار اب بھی مذہبی بنیادوں پر تفرقہ پیدا کر کے جنگی جنون کو ہوا دے رہے ہیں۔دنیا کا کوئی مذہب تشدد پسند نہیں اور نہ ہی کسی مذہب میں انسانی جان کو بلاوجہ قتل کرنے کی اجازت ہے ۔لیکن بد قسمتی سے بعض مذہبی انتہا پسندوں نے پوری دنیا کو دہشتگردی سے بر باد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ان انتہا پسندوں میں جہاں مسلم کمونیٹی کو مورد الزام ٹہرایا جاتا ہے وہیں ہندووں اور دیگر مذاہب میں بھی بے شمار ایسے گروہ موجود ہیں جو اشتعالی نظریہ کے حامل ہیں ،بھارت میں بھی بے شمار ہندووں انتہا پسند تنظیموں نے ایسا فساد شروع کر رکھا ہے جس سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا مقابلہ کرنا دونوں ممالک کے لئے مشکل تر ہو چکا ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان جس جراتمندی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت جو اپنے آپ کو سیکیولر اور جمہوری ملک قرار دیتا ہے وہ کس سطح تک دہشتگردی کے خاتمہ میں سنجیدہ ہے۔۔؟دنیا جانتی ہے کہ بھارت کا کشمیر میں کیا کردار ہے ،دنیا یہ بھی سمجھتی ہے کہ بھارت کس قدر جمہوری ملک ہے۔۔۔؟؟؟ بھارتی انتخابات سے قبل سربجیت سنگھ کی چتا کانگرس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی ،بھارتی عوام جانتے ہیں کہ کانگرس نے کس حد تک عوام کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے،آج دیکھا جائے تو بھارتی با شندے غربت کی چکی میں پس رہے ہیں،کروڑوں بھارتی چھت نہ ہونے کی وجہ سے فٹ پاتھوں اور کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں،بے روزگاری کا یہ عالم ہے کہ بیرون ممالک بھارتی افرادی قوت انتہائی قلیل معاوضہ پر محنت و مزدوری کرنے پہ مجبور ہیں ۔بھارت میں شرح خواند گی روز بروز گر رہی ہے ،جمہوریت کے لبادے میں لاقانونیت کا راج ہے ۔اندرونی حالات معاشی ابتری کا منہ بولتا ثبوت ہیں جبکہ بھارت ڈھیٹ پن سے دنیا پر یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے کہ وہ پسندیدہ ممالک میں شامل ہونے کی اہلیت رکھتا ہے حالانکہ مقبوضہ کشمیر میں جبراً تسلط ،بے گناہ شہریوں پر مسلسل تشدد آمیز رویہ اور طاقت کا بے تہاشہ استعمال کس طرح پسندیدگی کہلا سکتا ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ صبر و تحمل اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے باہمی تعلقات کو متاثر ہونے سے بچایا ۔انصاف کیا جائے تو پاکستان نمبر ایک پسندیدہ ملک ہونے کا اعزاز رکھتا ہے ،بے شک دہشتگردی سے پاکستان کو نا قابل تلافی جانی و مالی نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں ،مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستانی حکمران و عوام دہشتگرد نظریہ کو پسند کرتے ہیں ،بھارت ہمیشہ پاکستان کی مثبت سوچ کے بر عکس الٹا پروپیگنڈہ کر کے دہشتگردوں کو اخلاقی کمک پہنچانے کا مرتکب ہوچکا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان امریکہ سمیت عالمی ممالک پر بھارت کے اس بھیانک کردار پر احتجاج ریکارڈ کر وائے ۔دونوں ممالک نفرت آمیز رویوں ،متنازعہ مسائل کے حل میں ہٹ دھرمی اور غربت و جہالت کے خلاف بھر پور جنگ کرنے کا اعلان کریں ۔اگر بھارتی سیاستدان و حکمران اپنے ایک ارب شہریوں کے مخلص ہیں تو انہیں روایاتی تناؤ ترک کرنا پڑے گا۔ذمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے الجھاؤ کی فضا قائم کرنے والے نام نہاد دانشوروں اور میڈیا پرسز پربھی پا بندی عائد کی جائے جن کی غیر سنجیدہ سرگرمیوں سے جنگی جنون کو ہوا میسر ہو رہی ہے ،بھارت کو یہ بھی سمجھ آ جانی چاہئے کہ پاکستان ایٹمی قوت ہے اور 20کروڑ پاکستانی وطن کی سلامتی کے لئے کسی مصلحت یا کمزوری کا شکار نہیں ہونگے ۔بھارت ایک ارب انسانوں کا خیال کرئے کہ اگر ایٹمی جنگ لگ گئی تو چتا جلانے کے لئے صندل نہیں مل سکے گی۔پورا ہندوستان ہیرو شیما ناگا ساکی بن سکتا ہے ۔حکمرانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے منافی کسی تحریک و تنظیم کے یر غمال نہ بنیں،بلکہ انہیں وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے واقعات کا ازالہ کرنا ہو گا جن سے جنگی جنون اور دہشتگردوں کو کمک مل رہی ہو۔بھارتی یہ بھی غور کر لیں کہ جنوبی ایشیاء بارود پر کھڑا ہے ،ذرا سی بیوقوفی تہ بالا کر سکتی ہے ۔ جہاں تک سر بجیت سنگھ اور ثناء اللہ پر حملوں کا تعلق ہے ان کے قاتلوں کو قانون کے مطابق کیفر کردار کیا جانا از بس ضروری ہے ورنہ ایسے واقعات معمول بن کر خطرناک صورت حال پیدا کر سکتے ہیں ۔بھارت نے افضل گورو کو پھانسی دیکر اشتعال پیدا کیا ہے اور اب ثناء اللہ پر حملہ سے بھی یہی اخذ ہوتا ہے کہ بھارتی غیر ذمہ دارانہ اور ہٹ دھرمی پر مبنی اقدامات کا جو سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اس کے کسی صورت اچھے نتائج بر آمد نہیں ہو سکتے ۔ گذشتہ روز اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند رہنما یاسین ملک پر تشدد جیسی ظالمانہ کارروئیاں آذادی کا راستہ روک نہیں سکتیں بلکہ بھارت کے لئے پسپائی کا سبب بن جائینگی۔بھارت کو مسئلہ کشمیر پر سنجیدہ توجہ دینا چاہئے ورنہ بقول یٰسین ملک ’’اگر 2014ء تک مسئلہ کشمیر کا حل نہ نکالا گیا تو دہشتگرد وادی میں داخل ہو کر خطرناک جنگ شروع کر سکتے ہیں ‘‘۔اس انتباہ یا warrningکو اہمیت دیتے ہوئے تنازعہ کا فوری حل نکالا جائے ورنہ جب وقت بیت گیا تو پھر بازی ہاتھ سے نکل جائے گی۔note

یہ بھی پڑھیں  سوشل میڈیا پر گستاخانہ پیجز ۔۔۔!

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker