ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

پاک افغان ،امریکہ اور بھا رت تعلقات

s m irfan thairتم کو معلو م ہو کیسے کہ نز اکت کیا ہے ؟                    نوک شمشیر پہ تتلی کو بٹھا نے والے
تیرے آنگن سے مجھے خون کی بو آتی ہے                   پھول سے ہا تھ میں تلوار تھما نے والے
امن کا لفظ ترے لب پہ ریا کا ری ہے                 صحن میں جنگ کی تصویر سجا نے والے
حضرت وا صف علی واصف فر ما تے ہیں جو انسان اپنی ذا ت کے سا تھ مخلص نہیں وہ دو سروں کے ساتھ کیا مخلص ہو گا اسی کو مخلص دو ست ملیں گے جو خود دوستوں سے مخلص ہو جھو ٹے کے لیے یہ سماج جھو ٹا اور سچے کے لیے سچا ہے ۔ جو انسان اپنے ساتھ مخلص نہیں وہ ضمیر کی آواز سے فرار حاصل کر نے کے لیے دنیا وی مشا غل میں خود کو مصروف کرتا جا تا ہے تا کہ اسے سکون و را حت ملے ۔ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جن ما دی اشیا ء کو اکٹھا کر کے وہ کبھی خو شی محسوس کرتا تھا اب انہیں حا صل کر نے کے بعد بھی خو شی نہیں ملتی اس کی روح بے چین رہتی ہے ایسی حالت میں اگر وہ ضرورت سے زائد رو پے پیسے اور دوسری اشیا ء کو اللہ کی مخلو ق میں تقسیم کرنا شروع کردے تو روح کی خو شی اور سکون لو ٹ آئے گا ۔ دوستی اور تعلقا ت کی بنیا د درحقیقت اخلا ص رواداری اور مفادات کو ملحوظ خا طر رکھتے ہو ئے قائم کی جا تی ہے جن دو فر یقوں کے ما بین دوستی ، اخوت اور تعلق کا رشتہ استوار ہو ان میں مشترکہ طو ر پر یہ خصوصیا ت مو جود ہو نا لا زم و ملزو م ہے لیکن دور حاضر کی دوستی شاید دشمنی سے بھی بد تر اور کمتر دکھائی دیتی ہے جس میں اخلا ص ، مثبت سوچ ، رواداری ، اخو ت ، چا ہت نہیں بلکہ مفادات ہی مفادات دکھائی دیتے ہیں
اغر اض کے گہرے پردو ں میں، الفا ظ کے گہرے رنگو ں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حا لا نکہ محبت کچھ بھی نہیں
ہما رے ہا ں نہ صرف تعلیم کا فقدان ہے بلکہ اس کی وجہ سے بہت سے فقدان اور بحران پیدا ہو ئے ہیں مد تیں بیت چکی سالہال گزر گئے لیکن ہما رے دو ر کے حکمران کو یہ سوجھ بو جھ اور عقل و شعور میسر نہیں آسکا کہ دنیا میں کیسے چلنا ہے کس سے دوستی رکھنی ہے اور کس سے دشمنی اسی ایک کشکمش نے ہمیں با رہا الجھنو ں ، مصیبتو ں اور مشکلا ت سے دوچا ر کیا ہے جو ملک ہما ری سا لمیت اور ہما ری آزادی و خو د مختا ری کے لیے چیلنج بناہوا ہے اس سے دوستی اور جو ازل سے ابد تک ہما رے اپنے ہیں ان سے بیڑ کہا ں کا انصاف ہے ؟پا کستان اور افغا نستان کے ما بین فساد کی جڑ صرف اور صرف امریکہ ہے ۔ڈرو ن حملو ں سے ملکی سا لمیت کو خطرات لا حق ہیں انسانی حقوق کی خلا ف ورزی کھلے عام خطہ میں عدم استحکام اور با ہمی تعلقا ت میں خرا بی پیدا ہو رہی ہے ۔ 30 لاکھ پنا ہ گزین محض پاکستان میں موجود ہیں شمالی وزیر ستان ڈرون حملو ں کی مکمل لپیٹ میں دکھائی دیتا ہے صرف کے پی کے میں 45 عسکریت پسند ما رے گئے جبکہ صو بہ بھر میں 1500 سے زائد نہتے اور بے قصور شہری شہید ہو چکے ہیں اگر ڈرون کا جا ئزہ لیا جا ئے تو 100 حملے مشترکہ طو ر پر پاکستان میں ہو ئے ہیں جبکہ 170 حملے کے پی کے میں ہو چکے ہیں جن میں سے 70 صرف قبائلی علا قو ں پر کیے گئے امریکہ اور نیٹو فورسز کا یہ گمان ہے کہ ملا عمر ، ایمن الظو ا ہری اور دیگر اہم طا لبان لیڈرز پاکستان میں موجود ہیں اسی با ت کو ڈھال بنا کر وہ ہزارو ں افراد کو لقمہ اجل بنا چکے ہیں ڈرو ن بغیر پائلٹ کے تقریبا 12000 فٹ کی بلندی سے آتا ہے اور بم گرا کر چلا جا تا ہے اس سا رے کھیل کے ردعمل کا خمیا زہ وہا ں کی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ڈرون کا نا سور بھا ئی کو بھا ئی کا قاتل بنا ئے ہو ئے ہے جہا ں یہ اندازہ لگانا بھی دشوار ہو تا چلا جا رہا ہے کہ کون مردار ہے اور کو ن شہید ؟ قرآن پاک میں ارشاد با ری تعالیٰ ہے کہ کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ دوسرے مومن کو قتل کرے سورہ النساء، امریکہ سے دو ستی اور دشمنی دونو ں ہی بیکا ر ہیں یہا ں سو چنے کی با ت یہ نہیں کہ اس جنگ میں ہما ری جیت ہو گی یا ہا ر؟ حقیقی سوچ تو یہ ہے کہ یہ جنگ ہما ری ہے بھی کہ نہیں ؟ امریکن وزیر خا رجہ جان کیری کی آمد بین الا قوامی تعلقا ت میں مضبوطی کی علا مت سمجھی جا رہی ہے لیکن قابل غور با ت تو یہ ہے کہ موصوف کا کہنا ہے کہ امریکہ ڈرون حملو ں کی روک تھام کی یقین دہا نی نہیں کرواسکتا ہے یہ کیسی دوستی ہے؟ اور یہ کیسا احساس ہے؟ پاکستان کو دہشتگردی ، انتہا پسندی اور بد امنی کے خاتمہ کا، جو ملک پاکستان کی سا لمیت کا احترام نہیں کر رہا ہے اس سے دو ستی بڑی مہنگی پڑے گی ، دوسری طرف لمحہ فکریہ یہ بھی ہے کہ ملک بھر میں شعیہ کمیو نٹی کو سب سے زیا دہ ٹا رگٹ کیو ں بنایا جا رہا ہے ؟ امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ پیش رفت کی ضرورت ہے جو افواج پاکستان اور خفیہ اداروں کی مشا ورت کے بغیر نا ممکن ہے جو سر حدی پو زیشنز کو بہترطو ر پر جا نتے ہیں۔دوسری طرف بھا رت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینا ایک اور لمحہ فکریہ ہے بھا رت پاکستانی دریا ؤ ں میں ڈیم پر ڈیم بنا رہا ہے ، پاکستان کو بنجر کر نے کی سوچ رکھتا ہے بھا رت کی آبی جا رحیت کا اندازہ عملی سطح پر لگا یا جا سکتا ہے کہ بھا رت نے دریا ئے چنا ب اور جہلم پر درجنو ں ڈیم بنا کر پاکستان کا پانی روک رکھا ہے اور اب مزید ۵ ڈیم بنا نے کا اعلان کردیا ہے ، دریا ئے سندھ کا پا نی بھی چو ری کیا جا رہا ہے بھا رت نے سندھ تاس معا ئدے کی دھجیا ں بکھیر کر رکھ دی ہیں غلیظ بھا رتی فو ج کی فا ئرنگ سے راولا کو ٹ کے علا قہ نیز ہ پیر سیکٹر پر شہید ہو نے والا سپا ہی عاصم اقبال بے حس اور بے ضمیر حکمرانو ں کے لیے پسندیدہ ترین دوست کی طرف سے ایک تحفہ ہے ، مقبو ضہ کشمیر میں بھا رتی فوجی جا رحیت کا اندازہ اس با ت سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ وہا ں مظلوم کشمیریو ں کی لا شیں گر ائی جا تی ہیں رو زانہ ماؤ ں ، بہنو ں کی عصمت دری کے واقعات رونما ہو تے ہیں روزانہ مظلوم کشمیریو ں کو زندگی اور مو ت کی کشمکش میں مبتلا ء رکھا جا تا ہے لیکن افسوس اے موجودہ دور کے حکمران کہ شرم مگر تم کو نہیں آتی ،چا ہے امریکہ اور بھا رت سے دوستی کی کتنی بھی پینگیں نہ بڑھا لی جائیں کتنے ہی محبت و اخو ت کے ترانے گا ئے جا ئیں ہما ری فطرت میں ان سے نفرت شامل ہے محبت نہیں ہما ری فطر ت میں ان سے بغا وت شامل ہے وفا نہیں حکمران اپنے ذاتی مفادات کی خاطر چاہے جتنی بھی منا فقت اور مصلحت سے کام لے لیں جو ازل سے ہما رے دشمن ہیں اور کوئی ایک لمحہ بھی ہمیں گزند پہنچا نے اور ہما را برا چا ہنے میں ضا ئع نہیں کرتے ان سے دوستی اور خو شگوار تعلقا ت ہما ری فطرت میں ہی شامل نہیں جس دھرتی پر ہما رے بھا ئیو ں اور ما ؤ ں ،بہنو ں کا خون گرے جہا ں مقدس کتا ب کی بے حرمتی کی جا ئے وہا ں بھی امن کی آشا کی با ت ہو سکتی ہے بھا رتی ہٹ دھرمی پر حد سے زیادہ لچک ٹھیک با ت نہیں ویسٹر ن انٹرسٹ کی حامل سوچ کبھی بھی پاکستان کو مستحکم نہیں ہو نے دے گی ۔ بھا رت ہمارا پسندیدہ نہیں بلکہ نا پسندیدہ ترین ملک ہو سکتا ہے ۔
میں بھی انسا ں ہو ں برداشت کی حد ہو تی ہے                      جا بجا خون زمیں پر نہیں دیکھا جا تا

یہ بھی پڑھیں  پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیت لی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker