پاکستانتازہ ترین

پاک امریکہ تعلقات،قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات پارلیمنٹ میں

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) سپیکر قومی اسمبلی  ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی زیر صدارت  ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاک امریکہ تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کےلئے بنائی گئی قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات پیش کر دی گئیں۔قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ میاں رضا ربانی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے سفارشات کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں خارجہ اور قومی سلامتی پالیسیاں سٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں رہیں۔ نئی پالیسی سے شفافیت اور احتساب کا نیا دور شروع ہو گا۔ میاں رضا ربانی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی زمینی اور فضائی حدود سے نیٹو سپلائی کے ذریعے اسلحہ لے کر نہیں جایا جائے گا۔ امریکی فوجیوں کی پاکستانی سرزمین پر موجودگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ امریکہ کی پاکستان میں موجودگی پر نظر ثانی کی جائے گی۔ پاک امریکہ تعلقات باہمی احترام پر مشتمل ہونگے۔ سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کا حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھا جس میں ہمارے 24 فوجی جوان شہید ہو گئے تھے۔ سلالہ چیک پوسٹ حملے پر غیر مشروط معافی مانگی جائے اور حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات پیش کرتے ہوئے میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی سے متعلق کوئی زبانی معاہدے نہیں ہونگے۔ ماضی میں امریکہ اور نیٹو کےساتھ کئے گئے تمام زبانی معاہدے ختم کئے جائیں۔ پاکستان خطے سے انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کےلئے اپنے عزم پر قائم ہے۔ امریکہ کو ڈرون حملوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات میں واضع کیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے ایٹمی اثاثوں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں  جسٹس ناصر الملک کی مشرف ضمانت کیس کی سماعت سے معذرت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker