بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

پاک بھارت کشیدگی۔۔۔ سلگتا ہوا آتش فشاں

bashir ahmad mir logoرواں ہفتہ ہماری قومی تاریخ میں نئی سمت اور غیر یقینی صورت حال کی عکاسی کر رہا ہے ،سانحہ کوئٹہ ،سوات ،بلوچستان میں گورنر راج ،ڈاکٹر طاہر القادری کا لانگ مارچ ،وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو رینٹل کیس میں گرفتار کرنے کا عدالت عظمیٰ کا فیصلہ،خیبر ایجنسی ،شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کے حملے ،کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ ،تحریک انصاف کی جانب سے سونامی مارچ کرنے کی باز گشت،حکومت کا قومی اسمبلی کا اجلاس بلوانے کا اتحادیوں کی مشاورت سے فیصلہ،مئی میں عام انتخابات ،میاں نواز شریف کا آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا اعلان اور سب سے تشویش ناک خبر یہ کہ بھارتی افواج کا لائن آف کنٹرول پر گذشتہ چند دنوں میں درجن بھر سرحدی خلاف ورزیاں اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ ،آرمی چیف بکرم سنگھ کا سخت الفاظ میں دھمکی آمیز رویہ انتہائی توجہ طلب ہے جس سے خدشہ ہے کہ دونوں ممالک کے مابین ناصرف اعتماد سازی کا تسلسل خطرے میں پڑ سکتا ہے بلکہ اس سے جنوبی ایشیاء کا امن بھی قائم رکھنے کی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
بھارت نے شاہد غلط فہمی سے دباؤ میں اضافہ کر رکھا ہے کیونکہ اس کے خیال میں ہماری داخلی صورت حال تسلی بخش نہیں اور وہ اس پش منظر میں جارحیت کی فضاء قائم کر کے بالا دستی کی ناکام کوشش کر رہا ہے ،حالانکہ بھارت میں بے روزگاری ،مہنگائی اور افرادی قوت میں کمی پاکستان سے کم نہیں ،بھارت کے عوام غربت کی چکی میں پس رہے ہیں ،کئی صوبوں میں علیحدگی کی تحریکیں جنم لے رہی ہیں،ا ادھر اگر’’ طاہر القادری ‘‘ہیں تو ادھر’’ انے ہزارہ ‘‘بھی ہیں ان حالات سے چشم پوشی کرتے ہوئے بھارتی حکمران پاکستان کے ساتھ ٹکراؤ کی فضاء پیدا کر رہے ہیں گذشتہ دنوں ایک بیان میں بھارتی آرمی چیف کی باڈی لینگویج سے اندازہ لگتا ہے کہ انہیں بڑی غلط فہمی لاحق ہے بلکہ وہ غلط سمجھ بیٹھے ہیں جیسے پاکستان کمزور ملک ہے ۔بھارتی آرمی چیف کو علم ہونا چاہئے کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور دفاعی اعتبار سے ناقابل تسخیر ہے۔اگر بھارتی وزیراعظم اور آرمی چیف کو زیادہ غلط فہمی ہے تو اس کے بھیانک نتائج کا مختصر جائیزہ لینے سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ
ہمارے مورچوں کا رخ بھلا کیسے کرئے دشمن
یہاں سے موت بھی سہمی سہمی سی گذرتی ہے
یہی اک بات ہے جو ہم میں، تم میں فرق کرتی ہے
کہ تم موت سے ڈرتے ہو،ہم سے موت ڈرتی ہے
۔پاکستان کی آبادی قریباً20کروڑ اور بھارت کی آبادی ایک ارب سے تجاوز کر رہی ہے ،جنگی جنون پیدا کرنے والوں کو جان لینا چاہئے کہ جہاں 20کروڑ انسان متاثر ہونگے وہیں ایک ارب بھارتی عوام تباہی کا شکار ہو سکتے ہیں ،اس سارے متوقع المیہ کے ذمہ دار دونوں ’’سکھ ‘‘ہونگے ۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان شدید معاشی نقصانات اٹھا رہا ہے ،جبکہ بے شمار جانیں بھی قربان ہو رہی ہیں ،جس دلیری اور جرات مندی سے پاکستان کی عوام دہشتگردی اور اندرونی مسائل سے نبر آزما ہیں اس کا ایک فی صد بھی بھارت برداشت نہیں کر سکتا ،صرف ممبئی حملوں کو بھارت ابھی تک نہیں بھول پایا جبکہ ایسے واقعات پاکستان میں معمول کے مطابق ہونے کے باوجود جس ثابت قدمی سے مقابلہ کر رہا ہے اس سے پوری دنیا معترف ہے۔منموہن سنگھ اور بکرم سنگھ جس انداز سے دھمکیاں دے رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہماری داخلی صورت حال سے کسی فائدے کی توقع رکھتے ہیں لیکن ان دونوں سرداروں کے علم میں لانا ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت بارود کے ڈھیر پر ہیں ،دونوں ممالک ایٹمی اسلحہ سے لیس ہیں ،معمولی سی لاپروائی ڈیڈھ ارب آبادی کو تباہ کر سکتی ہے ،بکرم سنگھ کہتے ہیں کہ وہ وقت اور جگہ کا انتخاب کر کے حملہ آور ہو سکتے ہیں تو انہیں یہ بھی علم ہونا چاہئے کہ پاکستان بھی بے خبر نہیں ،جہاں تک پاکستان کی داخلی صورت حال کا تعلق ہے تو یہ سب اس صورت میں یکدم ختم ہو جائے گی جب بھارت جارحیت کرنے کا ارادہ کرئے گا ، تو پھرطاہر القادری کا لانگ مارچ ’’انقلاب‘‘ہو یا عمران خان کا ’’سونامی‘‘ ،پھر اس کا رخ دہلی کی جانب بڑھ سکتا ہے ۔کہتے ہیں کہ سکھوں کو عقل بعد میں آتی ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ دونوں ’’سردار‘‘ بھارت کے عوام کے دشمن بن کر انہیں تباہی کا شکار کرنے کے درپے ہیں۔
ہوشمندی کا تقاضہ تو یہ ہے کہ جارحانہ لہجہ ترک کر کے ذمینی حقائق پر مدبرانہ اور سنجیدہ پن سے بات چیت کے ذریعے تناؤ کو ختم کیا جائے،بڑی مشکل سے دونوں ممالک کے مابین اعتماد سازی کا عمل شروع کیا گیا تھا جسے مزید مستحکم کیا جانا دونوں ممالک کے عوام کیلئے فائدہ مند ہے، مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام دشمن بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ ،چیف آف آرمی سٹاف بکرم سنگھ،وزیر خارجہ سلمان خورشیداور اپوزیشن بی جے پی کے رہنما اورن جیٹلی نے جس انداز سے دو طرفہ تناؤ کو ہوا دے رکھی ہے اس کا کسی بھی صورت میں دونوں ممالک کے عوام سے ہمدردی نہیں کہا جا سکتا ،بھارت کا یہ دعویٰ ہے کہ بٹل سیکٹر میں دو طرفہ فائرنگ کے دوران دو بھارتی فوجی ہلاک ہوئے جن میں ایک کا سر کاٹ کر پاکستان لے گیا ۔سردار جی !! پہلی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کا واقعہ نہیں ہوا جس کی پاکستان با ربار تردید کر چکا ہے ،رہی یہ بات کہ اگر ایسا بقول بھارت ہوا ہے تو کیا یہ آپ سے پوچھا جا سکتا ہے کہ جنگ میں محبت کا کہیں کوئی تعلق ہوتا ہے ۔۔؟ ہوش کے ناخن لو !!! ورنہ ذرا سی چنگاری دونوں ممالک کو ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے ۔پاکستان کی شرافت ،خاموشی اور سنجیدہ روی کو کمزوری نہ سمجھا جائے ۔معاملات کو جس انداز سے پیش کیا جا رہا ہے اس سے دونوں ممالک کے عوام جو پہلے سے بے شمار مسائل کا سامنا کر رہے ہیں مزید مشکلات سے دوچار ہو سکتے ہیں اور اس ساری تباہی کے ذمہ دار’’ منموہن سنگھ اور بکرم سنگھ ‘‘ قرار پائیں گے جو شاہد ہندوؤں اور مسلمانوں سے کوئی انتقام رکھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے رویے بدلے بدلے لگتے ہیں ۔بھارت کی عوام کو بھی چاہئے کہ وہ ان ’’سرداران ‘‘ کا محاسبہ کریں اور انہیں بھی ذرا سوچنا چاہئے کہ ان کے گلے میں جو سریا آیا ہوا ہے کہیں وہ ان کے لئے ’’مرن گھاٹ‘‘ نہ بن جائے۔
بھارت کی جانب سے جارحانہ رویہ اور درپیش خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے سیاسی زعماء سے بھی توقع ہے کہ وہ جاری اچھل کود فوری طور پر ترک کر کے قومی سلامتی کے لئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں تاکہ بھارتی ’’بیوقوف‘‘ حکمرانوں کی غلط فہمی دور ہو سکے ۔ڈاکٹر طاہر القادری صاحب اپنے رویہ کو بکرم سنگھ سے ملتا جلتا نہ بنائیں ،انہیں علم بھی ہے کہ ملک انتہائی مشکل حالات سے گذر رہا ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جملہ معاملات با معنی مذاکرات سے حل کرنے چاہیں ۔کسی بھی طور ایسا اقدام مفید نہیں جس سے دشمنان ملک کو آکسیجن میسر ہو رہی ہو۔جمہوریت کے استحکام کو سامنے رکھتے ہوئے آئین و قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جائے تاکہ ملک اندرونی طور پر مستحکم ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں  چھوٹی صنعتوں کے فروغ سے صنعتی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker