بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

پاک بھارت تعلقات ،خطے کے امن کی ضمانت

زمانہ قدیم میں ہر حکمران کی خو اہش ہوتی تھی کہ اس کے تسلط میں زیادہ سے زیادہ علاقہ زیر نگیں رہے اور وہ دنیا میں عظیم الشان حیثیت اختیار کرئے ،پھر رفتہ رفتہ حالات بدلتے گے ہر قوم نے آذادی کی جانب بڑھنا شروع کیا اور ترقی و خوشحالی کے لئے غور و فکر اور منصوبہ بندی کا آغاز ہوا۔جب دنیا میں جمہوریت کی بنیاد پڑی تو ہر ملک میں معاشی و اقتصادی ترقی کی جانب رجحانات کو فروغ حاصل ہوتا گیا،گذشتہ چند برسوں کے دوران ترقی پسند ممالک نے مل بیٹھ کر آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے جی ایٹ نامی تنظیم قائم کی جس کی رو سے ان ممالک نے باہمی اختلافات اور تنازعات کے خاتمے کا اعلان کرکے باہمی ربط میں آسانیاں پیدا کیں ،دیوار برلن کا ٹوٹنا بھی اسی تحریک کا حصہ تھی ،آج یورپی ممالک کے شہری معمول کی شناخت پر ایک دوسرے ملک میں اپنی مرضی سے آمد و رفت اور دیگر معاشی ،ثقافتی ،سماجی اور ترقی کے حامل دیگر سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیاء کے ممالک کی نسبت یورپی ممالک کی افرادی قوت بہت حد تک بہتر ہے۔انہوں نے مستحکم روابط کی بنیاد پر سائنس و ٹیکنالوجی سمیت تجارتی و سفارتی سطحوں پر حیران کن ایجادات و اقدامات سے عوام کو خوشحال رکھنے کی کاوشیں جاری رکھیں ہیں ۔
جنوبی ایشیاء باالخصوص پاکستان اور بھارت کے عوام مہنگائی،بے روزگاری سمیت توانائی اور غذائی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ڈیڑھ ارب کی آبادی پر مشتمل دونوں ممالک کے عوام کو باہمی تنازعات کے سبب کئی مسائل درپیش ہیں ۔دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کا ادراک رکھنے والوں نے گذشتہ چند برسوں سے یہ فکری مہم شروع کر رکھی ہے کہ پاکستان اور بھارت جو ایٹمی قوت کے حامل ممالک ہیں ان کے مابین تنازعات کے خاتمے اور بہتر تعلقات کے فروغ سے دونوں ممالک کے عوام کو معاشی بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔اس ضمن میں دونوں ممالک کے سنجیدہ طبقوں نے محسوس کیا کہ ماضی کی تلخیوں کو دور کرنے کے لئے اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دیتے ہوئے باہمی تنازعات کے حل کی جانب قدم بڑھایا جائے۔
پاکستان نے قیام امن اور مستقبل کے خطرات کے حوالے سے بھارت کو بآور کیا اور اس سلسلے میں بیک ڈور ڈپلومیسی،کرکٹ ڈپلومیسی،سارک کے نام سے بننے والی تنظیم سمیت کئی محاذوں پر مذاکراتی عمل کا آغاز کیا گیا ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر، سرکریک ،پانی سمیت کئی تنازعات پر مذاکراتی عمل جاری ہونا نیک شگون سمجھا جا رہا ہے۔انسان کی فطری کمزوری ہے کہ وہ اپنی برتری قائم رکھنے کے لئے ہر سطح پر جاتا ہے اور یہ بیماری سب سے زیادہ بھارتی منصوبہ سازوں میں موجود ہے،یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے حل میں ہمیشہ بھارت کی جانب سے ہٹ دھرمی اور احساس برتری نے جنوبی ایشیاء کا مستقبل خطرے میں ڈال رکھا ہے ۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف اور اس تنازعہ کے حل میں حقائق سے چشم پوشی نے تناؤ برقرار رکھا ہوا ہے ۔اس قدر تناؤ کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ رواداری اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیا جسے ہمیشہ کمزوری سمجھا گیا۔حالانکہ بھارت کو علم ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی بارود کے اوپر ڈیڑھ کروڑوں عوام کی زندگیوں کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔آئے روز لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی خلاف ورزیاں امن کوششوں میں بنیادی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہیں۔جنگی جنوں کا بھارتی فلسفہ تباہ کن خطرات کی علامت ہے۔
ان سب پیچیدہ حالات کے باوجود پاکستان نے مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے اسی کے پیش نظر 2005ء میں پاکستان نے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے دونوں ممالک کے شہریوں کی آمد و رفت اور تجارتی عمل کے آغاز پر مذاکرات کو ترجیج دی ۔واہگہ اٹاری اور کشمیر کے آر پار بس سروس بعد ازاں تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کے لئے ٹرک سروس کا آغاز کرنے میں پیش قدمی کی نیز کشمیر سمیت دیگر تنازعات کے حل کی جانب ماحول دوست کردار بھی پاکستان نے فراہم کیاتاکہ بہتر ماحول پیدا ہو اورتنازعات کے حل میں مدد مل سکے اس کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لئے ساز گار حالات کو پروان چڑھانے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
8:ستمبر 2012ء اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وزراء خارجہ مذاکرات میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے تجارتی اور آمد رفت کے حوالے سے کئی نکات پر اتفاق رائے کیا گیا ۔جس کے بعد طے پایا کہ اس کا باقاعدہ اعلان نئی دہلی میں کیا جائے گا۔گذشتہ روز پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے نئی دہلی میں منعقدہ مذاکراتی اجلاس کے بعد دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ دونوں ممالک کے شہریوں کو ویزہ میں سہولیات دی جائیں گی۔اطلاعات کے مطابق 65برس کی عمر کے بزرگوں اور 12برس سے کم بچوں کو فوری انٹری ویزے دئیے جائینگے ،عام شہری 5اور تاجر10مقامات تک سفر کر سکیں گے،سیاحوں کو بھی نرمی دی گئی ہے،آپس میں شادی کرنے والے دو سال کے ویزے کی بنیاد پر آمد و رفت کر سکیں گے۔مذہبی زائرین ،فنکاراور علاج معالجے کے لئے آمد رفت میں آسانی دی جائے گی۔اس طرح 9کیٹیگریز میں ویزہ پالیسی پر اتفاق کیا گیا ہے۔یقیناًدونوں ممالک کے مابین تعلقات بہتر بنانے کے لئے مثبت پیش رفت خوش آئند ہے تاہم اعتماد سازی کے فروغ کے لئے بہت سے اقدامات اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔
جہاں تک 65برس کے شہری کو آنے جانے میں نرمی رکھی گئی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی قریب المرگ شخص کو کہا جائے کہ اس کی شادی کروانے اور نوکری دلائے جانے کی سہولت حکومت کے ذمہ ہے۔کوئی 65برس کے بعد جب نظر اور جسم بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے وہ پاکستان یا بھارت کیا ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک سفر بھی نہیں کر سکتا۔واہ ! ہمارے منصوبہ ساز اور جان پناہ حکمرانوں کی سوچ و فکر پر داد دینے کو دل کر رہا ہے دراصل یہ انسانیت کے ساتھ بھونڈھے مذاق سے کم نہیں۔عقل و شعور کا تقاضہ ہے کہ یہ سہولت 40سال سے زائد شہریوں کو دی جاتی تو عوام کو ریلیف میسر ہوتا مگر یہ فیصلہ 21صدی کا سب سے بڑا بزرگ شہریوں سے فراڈ ہے۔اسی طرح دیگر ویزہ کے حصول میں جو نرمی دکھائی گی ہے وہ بھی عوام کے لئے زیادہ آسانیوں کی نوید ثابت نہیں ہو سکتا ۔ویزا سسٹم میں جن 9کٹیگریزکا ذکر ہے ان میں کشمیر کے آرپار شہریوں کے لئے کوئی ریلیف نہیں۔جس سے بھارت نے از خود کشمیری قوم کی جداگانہ حیثیت تسلیم کرنے کے مترادف رجحان کو ظاہر کیا ہے ۔بہرحال دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے جس طرح پاکستان اور بھارت آگے بڑھ رہے ہیں اس سے امید ہے کہ وہ تناؤ کی سطح کم کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو سکیں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک ذمینی حقائق کی روشنی میں قیام امن کی کوششوں کو تیز تر کریں،جنگ و جدل اب مسائل کا حل نہیں رہا،جہاں ایٹمی طاقت آمنے سامنے ہو وہاں کی عوام کا خیال رکھنا بھی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ۔کشمیر کے حوالے سے بس اور ٹرک سروس کے فروغ کے لئے کافی اصلاحات درکار ہیں ۔کشمیر کے آرپار بسنے والے ہم وطنوں کو شناختی کارڈ کی بنیاد پر پرمٹ دیا جائے۔طویل ترین تحقیقاتی عمل کی وجہ سے بس سروس کامیاب ہونا مشکل ہے ،آمد رفت جس قدر آسان ہوگی اسی قدر معاشی طور پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔جہاں تک ٹرک سروس کا تعلق ہے اسے ناکام کرنے میں بھارتی انتظامیہ نے بنیادی کردار ادا کیا ہے جس سے سینکڑوں کشمیری تاجروں کا کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے ۔اگر یہی صورت حال برقرار رہتی ہے تو اس سے منفی اثرات مرتب ہونگے۔دونوں ممالک کے معیشت دانوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹرک سروس کو کامیاب کرنے کے لئے تاجروں کو اعتماد میں لیں ،ایسے تاجر جن کا نقصان ہوا ہے انہیں مالی طور پر معقول پیکیج دیا جائے نیز آئٹیم لسٹ طلب و رسد کی بنیاد پر مرتب کی جائے۔تجارتی عمل جیسا کہ شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے اسے عوام کے مفاد کو پیش نظر رکھ کر جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
یہ امر لائق تحسین ہے کہ رواں ہفتے کے دوران 15دسمبر تا22دسمبر حریت کانفرنس کے رہنما چیئرمین میر واعظ عمر فاروق ،پروفیسر عبد الغنی بٹ ،بلال غنی لون ،مولوی عباس انصاری ،آغا سید حسن بڈگامی اورمصدق عادل پاکستان آچکے ہیں انہوں نے صدر و وزیر اعظم پاکستان اور آذادکشمیر سمیت اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتیں کرنی ہیں جن میں دو طرفہ مسائل اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پیش رفت پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں شامل ہیں جبکہ بھارتی سکرٹری داخلہ بھی وادی کشمیر کے دورہ پر 17دسمبر کو آ رہے ہیں ۔واضح رہے کہ رواں سال کے دوران انہوں نے دورہ کشمیر کے دوران ٹرک سروس کے حوالے سے banآئٹیمز پر پابندی اٹھانے کا اعلان کیا تھا مگر ابھی تک ان کے اعلان کردہ فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونا بھارتی انتظامیہ کی منفی سوچ کی عکاسی کر رہی ہے۔تاہم یہ Developmentsخطے کے سیاسی،معاشی اور اقتصادی حالات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتں ہیں۔حریت رہنماؤں سے کشمیری عوام کی بے انتہا توقعات وابستہ ہیں کہ وہ موثر انداز سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں لیں گے۔کشمیری عوام دونوں اطراف میں بے شمار مسائل کا شکار ہیں ضروری ہے کہ بہتر ماحول فراہم کرتے ہوئے ترجیحاً ان اقدامات پر بھی مشترکہ طور پر اتفاق کریں جن کا تعلق جاری اعتماد سازی کے عمل سے ہے ۔خاص کر دونوں اطراف کے شہریوں کی آمد و رفت،ٹرک سروس میں موجود خامیوں اور مشکلات دور کرنے کے سلسلے میں مفید فیصلے کئے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور امن کوششیں خطے کے لئے نیک شگون ثابت ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیں  چیف جسٹس نے 54ارکان اسمبلی کی جعلی ڈگریوں کا نوٹس لے لیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker