تازہ ترینرفاقت حسینکالم

پاک بھارت مذاکرات کشمیر کی جولی خالی کی خالی

پاک بھارت وزراء خارجہ مذاکرات میں وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا کے دورہ کے دوران وفاقی وزیرخارجہ حناربانی کھر کے ساتھ علحیدہ اوروفود کی سطح پرملاقات کے بعدمشترکہ اعلامیہ ومشترکہ پریس کانفرنس کے علاوہ وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک کے ساتھ’’نئی‘‘آزادویزاپالیسی پردستخط دوررس نتائج کے حامل ہیں اور ان اقدامات سے یقینی طورپر دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی جہت مل سکتی ہے عوامی اور تجارتی حلقے یقینی طورپربڑی دیر سے نہ صرف آزادویزاپالیسی کاانتظارکررہے تھے بلکہ وہ تلخیوں کے خاتمہ کیلئے زندگی کے تمام شعبوں میں اشتراک عمل کے متمنی بھی تھے۔ اس دورے کے دوران گو کہ بھارت اورپاکستان کے عوام کی ساری امیدیں بھرنہیںآئیں تاہم اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ یہ دورہ طویل تلخ ماضی کودیکھتے ہوئے کسی بھی طورپرمایوس کن نہیں رہا اور مشترکہ اعلامیہ میں عوامی خواہشات کاادراک کرتے ہوئے جن شعبوں میں اشتراک عمل کاعزم دہرایاگیا اس سے یقینی طوپرآنے والے وقت میں دونوں ممالک کے کروڑوں عوام کوبالعموم اورآر پار منقسم وتاجربرادری کو بالخصوص فائدہ ہوگا تاہم اس مذاکراتی عمل میں اگر کسی کے ہاتھ مایوسی لگی تو وہ ’’آرپار کشمیر ی عوام‘‘ہی ہیں جن کی کوئی مراد بھر نہ آئی اورمذاکرات کے حوالے سے تمام امیدوں پرپانی پھیرگیا کیونکہ مسئلہ کشمیر کے تعلق سے ان مذاکرات میں پیش رفت تو کجا بلکہ طرفین نے اس مسئلہ کواہمیت دیناتک ضروری نہ سمجھا ااور یوں تین روزہ دورے کے دوران ان کئی سطح کے مذاکرات میں کشمیرکا سرسری ذکر کرکے یہ تاثردینے کی کوشش کی گئی کہ کشمیرکامسئلہ مذاکراتی عمل میں شامل ہے تاہم بات چیت کے اختتام پرجو مشترکہ اعلامیہ جاری کیاگیا۔اس میں ساری حقیقت عیاں ہوجاتی ہے جہاں کشمیر سے متعلق صرف اتنا کہاگیا ہے کہ یہ سرکریک،سیاہ چن اور دیگر تنازعات کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے مسئلہ پربامقصد بات چیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اختلافات کوکم سے کم کرکے اتفاق رائے کووسیع کیاجائے گامشترکہ پریس کانفرنس میں بیشک وفاقی وزیرحناربانی کھر نے مسئلہ کشمیر کی بات کرتے ہوئے مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کی بات کی تاہم دوسری سانس میں ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کومذاکراتی عمل کوپٹری سے اتارنے کے درپے عناصر کومنہ توڑجواب دینے کیلئے ماضی میں ہی اپنے آپ کو یرغمال نہیں رکھنا چاہیے۔وفاقی وزیرخارجہ کایہ بیان انتہائی اہمیت کاحامل ہے کیونکہ محترمہ کے دو’’جملے‘‘دومکاتب فکر کوایڈریس کررہے تھے۔پہلے جملہ میں’’آرپار‘‘کشمیری عوام اوران کے خیرخواہوں کوخوش کرنے کی کوشش کی گئی تودوسرے جملے میں بھارت کو بھی اشاروں ہی اشاروں میں یہ تسلی گی گئی کہ پاکستان ماضی میں نہیں جائے گا جس کاعام فہم مطلب مسئلہ کشمیر کے تعلق سے یہ ہے کہ اس کی تاریخی حیثیت کواچھالانہیں جائیگا جہاں اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی درجن بھرقراردادیں اس مسئلہ کی پشت پرہیں حالانکہ مسئلہ کشمیر آج تک نہ صرف پاکستان کی قومی پالیسی میں سرفہرست رہا ہے بلکہ پاکستان کے آئین میں اس کاخصوصیت کے ساتھ ذکر ہے اورماضی قریب تک مسئلہ کشمیر نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سرفہرست تھا بلکہ بھارت کے ساتھ کسی بھی سطح کے مذاکرات میں اس مسئلہ کواولیت حاصل ہوتی تھی یہاں تک کہ سابق فوجی صدرجنرل پرویز مشرف نے یہ تک کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اصل مسئلہ کشمیر ہی ہے اور اگر یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے تو دیگر فر وعی معاملات خود بخود حل
ہوجائیں گے بلکہ اب صورتحال یہ ہے کہ ’’کل تک‘‘کااصل مسئلہ آج فرو عی بن چکا ہے۔حد متا ر کہ کے آرپار کشمیری عوام کسی بھی طورپر یہ پاکستان اور بھارت کے مابین بڑھتے ہوئے عوامی وتجارتی تعلقات کے مخالف نہیں ہیں کیونکہ بہتر تعلقات کافائدہ سب سے زیادہ کشمیریوں کوہی ملے گا۔ تاہم یہ گلہ ضرورہے کہ اگر دونوں ممالک واگہ سرحد کو غیرمتعلق بنانے کیلئے سرگرم ہیں تو کشمیریوں کی کیاخطا ہے کہ انہیں انسانوں کی بنائی ہوئی مصنوعی سرحدوں میں قید کرلیاگیا ہے۔بلاشبہ مشترکہ اعلامہ میں آرپار آمدورفت وتجارت کے حوالے سے چندایک فیصلے لئے گئے تاہم وہ صرف علامتی ہیں بلکہ زمینی سطح پران فیصلوں کی جہاں عمل آوری تقریباً ناممکن ہے وہیں اگر ان پرعملدرآمد کیابھی جاتا ہے تو وہ اس دردوکرب کامداوانہیں ہوسکتے جس کا منقسم ریاست کے عوام کو 1947 سے سامنا ہے۔ تازہ معا ہدات کی افادیت سے ہرگزانکار نہیں تاہم وہ پائیدارامن کے ضامن نہیں بن سکتے اوراگر امن کوپائیدار بنانا ہے تو ’’راہ‘‘کشمیر سے ہوکرگزرتی ہے۔آرپار کی سیاسی قیادت کو یہ تلخ حقیقت نہیں بھولنی چاہئے کہ اب تک تین بڑی جنگیں اورایک محدودجنگ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان چھٖڑگئی اور یہ کشمیرمسئلہ ہی ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کبھی بھی استوارنہ ہوسکے۔سیاچن اورپانی کامسئلہ بھی کشمیر مسئلہ سے جڑاہوا ہے۔جبکہ سرکریک مسئلہ پرمعاہدہ تقریباً طے ہے اورآنے والے وقت میں اس معاہدہ کو عملی شکل دیجائے گی اس کے بعد دیگر معاملات پرمعاہدات کواہمیت دینا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے کیونکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں اشتراک عمل کے بغیرآگے نہیں بڑھ سکتے پاکستان اوربھارت پڑوسی ہونے کے ناطے ان مجبوریوں سے فرارحاصل نہیں کرسکتے تھے۔ اگر تنازعات ہیں تو وہ کشمیر،سیاہ چن،پانی اورسرکریک کے ہیں۔سرکریک حل ہوگیا تو معاملات میں اصل میں ایک ہی مسئلہ رہ جائیگا اور وہ’’مسئلہ کشمیر ہی ہے‘‘۔اس تناظر میں اگرپیش رفت کی ضرورت ہے تو وہ اسی بنیادی مسئلہ پر ہے کیونکہ دیگر تمام معاملات فروعی ہیں اورایک باراگر بنیادی مسئلہ کوحل کیاجاتا ہے تو فروعی معاملات کاخود بخودحل ہونا فطری ہے۔لہذادونوں ممالک کواس نقطہ پرغورکرنا چاہیے کہ اگرگزشتہ 65سالوں سے ایک دوسرے کیخلاف الزامات اورجارحانہ عزائم سے حاصل وصول کچھ نہیں ہوا بلکہ ناقابل تلافی نقصان کے ساتھ ساتھ خطہ بھی غیریقینی کی صورتحال سے دوچار ہے اوررہا اب دونوں ممالک الزامات کو’’دفن‘‘کرکے مذاکرات کے ذریعے تمام حل طلب مسائل کو سنجیدگی سے حل کریں اگر یہ موقع ضائع کردیاگیا تو پھرخطہ میں امن کاخواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

یہ بھی پڑھیں  چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker