اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

پاکستان بھارت مزاکرات ، پاکستانی امیدیں بھارتی شرائط

اگرچہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات کے قیام کے بغیر ہی دونوں ملکوں میں اقتصادی ترقی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاہم ساتھ ہی اقتصادی ترقی کے یہ اقدامات دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی کے لئے مزید ایک موضوع بھی فراہم کر رہے ہیں۔پاکستان میں چین کے(CPEC) منصوبے کو امریکہ اور بھارت کی طرف سے براہ راست مخالفت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کی” مہم جوئی” کی صورتحال ” چین پاکستان اقتصادی راہداری” منصوبے پر بھی اثر انداز ہوتے نظر آتی ہے۔پاکستان میں’پی ٹی آئی’ کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کے قیام سے پہلے ہی بھارت کے ساتھ مزاکرات شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ملکوں کی درمیان تجارت اور آمد و رفت کی ضرورت پر زور دیا ۔بھارت کی مودی انتظامیہ نے بھی وزیر اعظم عمران خان کو مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان سے اقدامات کی امید ظاہر کی ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے یہ بتایا گیا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر اعظم عمران خان کو خط میں مزاکرات کی پیشکش کی ہے تاہم بھارتی حکام کی طرف سے کہا گیا کہ بھارت نے پاکستان کو مزاکرات کی پیشکش نہیں کی ہے۔
تقریبا 14سال پہلے بھارت پاکستان سے تجارتی و دیگر تعلقات کی بات کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز کرنے کی بات کرتا تھا لیکن پاکستان کشمیر کو مرکزی اہمیت کا معاملہ قرار دیتا رہا۔ اب پاکستان بھارت سے تجارتی و دیگر تعلقات کی بات کر رہا ہے لیکن بھارت مزاکرات کے حوالے سے دہشت گردی کا نام استعمال کرتے ہوئے پاکستان سے کشمیرکی آزادی کی جدوجہد کی حمایت ختم کرنے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے خلاف پاکستان سے تعاون کے مطالبات بھی رکھتا ہے۔دوسرے الفاظ میں بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مزاکرات شروع کرنے کے حوالے سے یہ پیشگی شرط مسلسل عائید کی جا رہی ہے کہ پاکستان کشمیر کے آزادی پسندوں کی مدد و حمایت سے نہ صرف کنارہ کشی اختیار کرے بلکہ کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک کو ختم کرنے کے لئے بھارت کے ساتھ تعاون بھی کیا جائے۔مزاکرات شروع کرنے کے لئے بھارت اپنے اس مطالبے کو ” پاکستان کی طرف سے دہشت گردی ختم کرنے کے اقدامات” کانام دیتا ہے۔
بھارت کی طرف سے مزاکرات شروع کرنے کے لئے پاکستان سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے خلاف اقدامات اور تعاون کی پیشگی شرائط بے معنی نہیں ہیں۔سابق آمر جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں کشمیر اور کشمیریوں کو جبری طور پر تقسیم کرنے والی سیز فائر لائین(لائین آف کنٹرول) پر پاکستان سے باڑ لگانے کی اجازت حاصل کرنا اور آزاد کشمیر سے کشمیری فریڈم فائٹرز کے کیمپ ختم کرانے کے اقدامات کو بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے خلاف پاکستان کے تعاون سے ہی تعبیر کر تا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کو دباؤ میں لا کر اپنی مرضی کے فیصلوں پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔امریکی اخبار ” لاس اینجلس ٹائمز” نے26نومبر2003 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر میں سیز فائر کے سمجھوتے سے متعلق اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ” پاکستان نے حال ہی میں کشمیر کی جدوجہد آزادی میں شامل چھ پاکستانی انتہا پسند گروپوں پر پابندی لگائی ہے”۔یوں جنرل پرویز مشرف کا بھارت کے ساتھ کشمیر پر کسی سمجھوتے(مسئلہ کشمیر کا مجوزہ چا ر نکاتی حل)سے پہلے ہی بھارت کو کنٹرول لائین پر باڑ نصب کرنے کی اجازت دینا اور کشمیریوں کی مسلح تحریک مزاحمت سے لاتعلقی کا اقرار و اقدامات کرنا ، کشمیر کی مزاحمتی تحریک کے خلاف بھارت کو زمینی صورتحال اپنے حق میں بہتر اور مضبوط بنانے کا موقع دینے کے حوالے سے بھی دیکھے جاتے ہیں۔یوں مزاکرات شروع کرنے کے حوالے سے پاکستان کی نیک خواہشات اور بھارت کی ہٹ دھرمی کا ” سٹیٹس کو” اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کے حل اور اچھے تعلقات کے قیام کے لئے پاکستان کو خاص طور پر کشمیر سے متعلق اپنے ” ہوم ورک” کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تا کہ بھارت اپنی اس سمجھ پر نظر ثانی کر سکے کہ پاکستان کو دباؤ میں لاتے ہوئے مزید پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ ” ٹریک ٹو”(غیر رسمی خفیہ مزاکرات) کی مشق سے پاکستان کو تو نہیں البتہ بھارت کو فائدہ حاصل ہوتے ضرور نظر آتا ہے۔
اسی صورتحال کے تناظر میں امریکی حکومت کی پالیسیوں کے ترجمان میڈیا ” وائس آف امریکہ ” (VOA)نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے حوالے سے مزاکرات کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے اور بات چیت کا راستہ اپنانے کی بات کی ہے لیکن بھارت کی طرف سے اس پیشکش کا کوئی خاص ردعمل نہیں آیا ہے۔ اگرچہ عمران خان کو لکھے گئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خط میں دونوں ملکوں کے درمیان بامعنی اور تعمیری رابطے کی بات کہی گئی ہے لیکن بھارت پاکستان کوبات چیت کی کسی پیشکش سے فی الحال کترا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم ہونے میں وقت لگے گا۔پاکستان کی نئی حکومت نے بھارت کے ساتھ مزاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے بھی بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کا ذکر کیا تھا لیکن بھارت کے ماہرین اسے بات چیت شروع کرنے کے لئے ناکافی قرار دیتے ہیں۔ بھارت کے سابق ڈائریکٹر نیشنل سکیورٹی اروند گپتا کا کہنا ہے کہ مزاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے،جب تک باہمی بات چیت شروع کرنے کے لئے پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کو روکنے کے لئے ٹھوس قدم اٹھایا جائے۔اروند گپتا نے کہا کہ جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت شروع ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہو جاتا ہے،میڈیا کی توقعات بڑھ جاتی ہیں،اور اگلی بار بات چیت کرنا اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔بھارت کے انسٹیٹیوٹ آف ڈیفنس سٹیڈیز اینڈ انیلسز کے سینئر فیلو اشوک بیہوریا نے کہا کہ جب بھی دونوں ملکوں کی طرف سے اتفاق رائے کے بعد سیاسی افق پر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو اس کو سیاسی نقصان پہنچانے والا کوئی نہ کوئی واقعہ ہو جاتا ہے،چاہے وہ پٹھان کوٹ ہو ،ممبئی یا اوڑی۔ اشوک بیہوریا نے کہا کہ مفاہمت کے لئے رضامندی پائی جاتی ہے تاہم یہ ایسے اشوز کی نظر ہو جاتی ہے کہ ہم انہیں کیا رعائیت دیں اور انہیں ہمیں کیارعائیت دینی چاہئے،یہ بات عوام کی نظروں سے پوشیدہ ہونی چاہئے ،اس صورتحال میں ” بیک چینل” فائدہ مند رہتا ہے۔پاکستان میں متعین بھارت کے سابق سفیر ستیش چندرا نے کہا کہ اگر پاکستان بھارت کے ساتھ مزاکرات میں سنجیدہ ہے تو ممبئی حملے میں ملوث افراد پاکستان میں ہی ہیں،ان کو پکڑیں ،حافظ سعید کو۔بھارتی تھنک ٹینک ویویکناندا انٹر نیشنل فاؤنڈیشن ، کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دس سال سے بند پڑے ڈائیلاگ شروع کرنے کے لئے احتیاط ضروری ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کے اپنے اتحادیوں کے علاوہ فوج کے ساتھ ہم اہنگی سے چلنے کا دباؤ ہے تو مودی کے سامنے2019کے انتخابات میں ایک مکمل جیت حاصل کرنے کا چیلنج ہے، ایسے میں دونوں حکمران ہی نہیں چاہئیں گے کہ بات چیت کے نام پر وہ کوئی بھی ایسا قدم اٹھائیں جو ان کی ملکی سیاست میں مشکل کا سبب بنے ۔رپورٹ کے مطابق بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر عادل نجم نے کہا کہ پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری کے لئے مزاکرات کی اتنی زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہئے ۔اس وقت کشمیر میں جو ہو رہا ہے،بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس کے ہوتے ہوئے ،سدھوکے دورے پر بھارت میں جو ردعمل ہوا،اسے دیکھتے ہوئے یہ توقع کرنا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کے حوالے سے کوئی بہت جلدی سے کوئی تبدیلی ہو جائے گی تو ایساسوچنا خام خیالی ہو گی۔اس سوال کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی طرح پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بھی ” سٹیٹس کو” ہی جاری رہے گا، سدھو کے دورے سے ایک بات یہ بھی سامنے آئی کہ بھارت میں عمران خان کو بہت جانا جاتا ہے ان کی ” فین فالونگ” ہے تو کیا یہ بات دونوں ملکوں کے تعلقات میں کوئی بہتری لا سکتی ہے؟ کے جواب میں عادل نجم نے کہا کہ امریکہ سے پاکستان کے تعلقات بہتر ہونے کی امید زیادہ ہے اور بھارت سے پاکستان کے تعلقات بہتر ہونے کی امید کم ہے۔
گزشتہ دنوں ہی بھارتی وزیر مملکت برائے خارجہ اور سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ بات چیت کے لیے حالات سازگار بنانے کی ذمہ داری پاکستان کی ہے اورہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ایک بیان میں امید ظاہر کی کہ پاکستان کی نئی حکومت خطے کو محفوظ اور پر امن بنانے کے لیے کام کرے گی، امید کرتے ہیں نئی حکومت جنوبی ایشیا کو محفوظ، مستحکم پرامن اور دہشت گردی و تشدد سے پاک خطہ بنانے کے لیے تعمیری کام کرے گی۔انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے عمران خان کومبارکباد کے ٹیلی فون میں نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے۔عمران خان سے گفتگو میں نریندر مودی نے کہا کہ معاملات آگے بڑھانے کیلئے دونوں ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔پاکستان کے حالیہ عام انتخابات سے چند ہی دن قبل بھارت کی سب سے بڑی انٹیلی اجنس ایجنسی کے سربراہ اور بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ ” ٹریک ٹو” ( غیر رسمی خفیہ مزاکرات)میں شامل امر جیت سنگھ دولت نے لندن میں ایک انٹرویو میں پورے اعتماد سے مسکراتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ پاکستان میں عمران خان وزیر اعظم آ رہے ہیں اور بھارت کے اگلے سال ہونے والے الیکشن سے پہلے پاکستان کے ساتھ مزاکرات ہوں گے۔
انہی دنوں پاکستان میں روس کے سفیر الیکسی ڈیڈوف نے ایک تقریب میں کہا کہ کشمیر کی صورت حال نہایت پیچدہ اور نازک ہے، روس کا مستقل موقف ہے کہ اسلام آباد اور دہلی اس مسئلہ کو کا حل دونوں ملکوں کے دمیان دوطرفہ طور پر طے پانے والے شملہ معاہدے اور اعلان لاہور کے فریم ورک کے تحت حل کریں۔بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے عمران خان کو ٹیلی فون پرپاکستان میں متعین جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے لئے یورپ ایک مثال ہے کہ جہاں اکنامک انضمام سے پائیدار امن اور خوشحالی آئی۔جرمن سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اقتصادی انضمام سے دونوں ملکوں کے درمیان امن قائم کیا جا سکتا ہے جس سے خطے میں خوشحالی بھی آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:ہر بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہماری قومی و ملی ذمہ داری ہے،پروفیسر وقاص

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker