تازہ ترینکالمنصرت سرفراز

پاک فضاؤں کے شاہین

پائلٹ کاک پٹ میں تھا اچانک وہ بولا یہ کیسا ہوگیا؟ میری گنیں جام ہوگئیں؟ میری گنیں کام نہیں کررہیں اب تم کمان سنبھال لو! تاریکی گہری تھی ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا ایسی گہری تاریکی تھی کہ لگتا تھا ایسا وحشت ناک منظر دیکھ کر چاند بھی کہیں جاچھپا ہو جنگی اصولوں کے تحت ایسی صورتحال میں کمانڈروں کو وآپسی کی راہ لینی چاہئے تھی لیکن وطن کے محبت کے جذبے سے سرشار فلائٹ لیفٹیننٹ جہاز لے کر اگلی پوزیشن پر پہنچ گیا تھا کہ یہ اُس کے کمانڈر کا حکم بھی تھا اور معاملہ جان بچانے سے زیادہ ملک کی سلامتی کا تھا جرات اور بہادری کے مظاہرے عروج پر تھے فلائٹ لیفٹیننٹ نے دیکھا بائیں جانب چار ہنٹر تھے اور دائیں جانب دو ہنٹر عقب خالی تھاہمیں ان کو نشانہ بنانا چاہئے دوسرے فلائٹ لیفٹیننٹ کی آواز وائرلیس پر گونجی نیوی گیشن کی سہولت اِس جنگی جہاز کو اُس وقت میسر نہ تھی اورکاک پٹ میں بیٹھے ہوئے پائلٹ کو اپنی قوتِ بصارت پر انحصار کرتے ہوئے فیصلہ کرنا پڑتا تھا فلائٹ لیفٹیننٹ کی طرف سے فوری فیصلہ آیا اور اُس نے دائیں جانب کے دو ہنٹروں پرفائر کھول دیا دشمن کا پہلا ہنٹر پسپا ہوکر بھاگ نکلا اور دوسرا آگ کا گولہ بن گیا فلائٹ لیفٹیننٹ نے اپنے ساتھی کو پکارا مگر دوسری جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا جہاز ڈیڑھ سو فٹ سے زائد کی بلندی پر تھا تاریکی انتہائی گہری تھی اُسے اپنے اردگرد کچھ نظر نہ آیا اچانک اُسے محسوس ہوا کہ ہنٹر طیارے فائر کھول چکے ہیں جہاز لہرایا اور پھر اُس نے غوطہ لگایا اس کے نیچے دونوں ہنٹر طیارے زمین کے قریب پہنچ گئے دشمن کا ایک ہنٹر لہرانے لگا اور ڈگمگاگیاجب کہ ایک اُس کے عین سامنے آگیا پائلٹ نے فائر کھول دیا دشمن کا ہنٹر شعلوں میں تبدیل ہوگیا فلائٹ لیفٹیننٹ آگ کے بادل کو چیرتا ہوا اوپر نکل گیا اچانک اُسے اپنے سامنے دشمن کا ایک اور ہنٹر نظرآیا فلائٹ لیفٹیننٹ نے لمحوں میں فیصلہ کیا اور فائر کھول دیا پہلے فلائٹ لیفٹیننٹ نے اپنے ساتھی کو آواز لگائی کیا تم نے نشانہ لے لیا اس کا جواب آیا الحمد للہ میں نے مار گرایا اور عین اِسی لمحے وہ ہٹ ہوگیا اسکوارڈن لیڈر کے ساتھ فلائٹ لیفٹیننٹ نے بھی جان اِس پاک دھرتی پر نثار کردی ایک اور جاں باز وطن پر قربان ہوگیا ہلواڑاہ کے بھارتی اڈے کا میدان اپنے پانچ ہنٹرز کے عبرتناک انجام کا چشم دید گواہ تھا ۔۔۔
فضاؤں میں انجام پذیر یہ سانس روک دینے والا معرکہ کسی اینی میٹڈ مووی کا کوئی سین ہرگز نہیں ہے یہ چھ ستمبر کے اُن جاں سوز لمحات کا تذکرہ ہے جو مادرِ وطن کے ماتھے کا جھومرہے اور جس کو یاد کرکے آج بھی دشمن لرز اُٹھتا ہے چھ ستمبر 1965 ؁ء کے اس پورے جرات مندانہ معرکے کے دو کردار اسکورڈن لیڈر سرفراز احمد رفیقی اور فلائٹ لیفٹیننٹ یونس حسن نے تو موقع پر ہی اپنی جان مادرِ وطن کی حرمت پر نثار کردی اور شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے جب کہ اس معرکے کے تیسرے انمول کردار فلائٹ لیفٹیننٹ سیسل چوہدری اس معرکے کے واحد چشم دیدگواہ کے طور پر وطنِ عزیز کی مزید خدمت کے جذبے سے سرشار اس کی خدمت پر مامور ہوگئے۔
6ستمبر1965 ؁ء کو گروپ کیپٹن سیسل چوہدری ہلواڑہ کے بھارتی اڈے کو تباہ کرنے والے فارمیشن کا حصہ تھے اور معرکے کے اختتام پر واحد زندہ بچ جانے والے چشم دیدگواہ بھی تھے جنہوں نے 12اپریل 2012 ؁ء کو CMHمیں داخل ہوتے ہوئے کہا کہ ’’میرا یہ پیغام دنیا کو پہنچا دینا کہ سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے میں پیدائشی مسیحی ضرور ہوں مگر میرا مذہب انسانیت ہے ہم سب سے پہلے انسان ہیں اور بعد میں کچھ اور اس پر میرا پختہ ایمان ہے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو گروپ کیپٹن سیسل چوہدری ستارۂ جرات نے CMHلاہور میں داخل ہوتے وقت اداکئے اسی فوجی ہسپتال میں پھیپھڑوں کے کینسر کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے کہ اس ظالم موذی عارضے کی تکلیف دہ شدت کے باوجود وہ اِس سے لڑکر جئے اور وقتِ آخر تک نہ تو کبھی کوئی مایوسی کی بات کی نہ ہی کبھی دل برداشتہ ہوئے۔ 24گھنٹے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد زندگی ہارگئی اور گوراقبرستان لاہور میں ایک ایسے مکین کا اضافہ ہوگیا جس کی جرات کو ستارۂ جرات دے کر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ 1965 ؁ء کے وقت کی جوان نسل تو اپنے اِن ہیروز سرفراز رفیقی شہد یونس حسن شہید او ر سیسل چوہدری سے واقف ہے مگر ہماری آج کی جوان ہونے والی نسل اپنے ان ہیروز کے نام اور کارناموں سے ہرگز واقف نہیں ہے ہماری نئی پود سنگرز اسٹارز اور فلمی ہیروز کے دائرے کے اندر گردش کرتی ہے اور یہ ہمارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا فرض ہے کہ وہ صرف سنسنی خیز خبروں اور ریٹنگ بڑھانے والے فحش ٹاپکز کو چھوڑ کر قوم کی نئی نسل کو اپنے اصلی ہیروز سے متعارف کروائے۔ سیسل چوہدری 1965 ؁ء کے ہیرو کی وفات 4سطری کالم سے زیادہ کی خبر نہ بن سکی نہ ہی کوئی کالم اور اداریہ نظر سے گزرا مادرِ وطن پر جان بچھاور کردینے والے ہیروز کو فراموش کردینے سے ہی قومیں روبہ زوال ہوتی ہیں جبکہ سیسل چوہدری جیسے سپوتِ وطن جنہوں نے 1986 ؁ء میں فضائیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی تمام تر صلاحتیں قوم کے معماروں کے نام کردیں کہ جن کا نام بین الاقوامی سطح پر بھی عزت واحترام سے لیا جاتا ہے ماہر تعلیم کے طور پروہ پہلے تو کئی سال سینٹ انتھونی کالج سے وابستہ رہے اس کے بعد سینٹ میری اکیڈمی راولپنڈی کے پرنسپل بھی رہے مادرِ وطن کی حفاظت کے ساتھ ساتھ سیسل چوہدری نے مادرِ وطن کی نئی نسل کی آبیاری بھی پوری جانفشانی کے ساتھ کی سیسل چوہدری کا ایک اور کارنامہ 20اپریل 2009 ؁ء کو سینٹ میریز گرلز اکیڈمی کاقیام بھی ہے جہاں قوم کی بیٹیاں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہورہی ہیں عسکری دفاعِ وطن کے بعد تعلیم ہی وہ واحد شعبہ ہے جس کا معیار بلند کرکے ہم اقوامِ عالم کی ہمسری کا دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہوں گے سیسل چوہدری پاکستان کے ایک سچے سپاہی تھے اُن کے جذبہ حب الوطنی کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ان کے زندہ جاوید کارناموں اور اَن مٹ حب الوطنی کے جذبوں سے دشمن آج بھی لزہ براندام ہے۔۔محترمہ دل آویز شکیل سیسل چوہدری کی قریبی دوست ہیں۔ میری اُن سے ملاقات سینٹ میری اسکول میں ہوئی جہاں وہ ننھے منے بچوں کے ساتھ اس طرح گھلی ہوئی تھیں جیسے وہ خود اُن کا ایک حصہ ہوں ۔ ننھے معصوم پھول جیسے بچوں کو مستقبل کے معمار کے طور پر تیار کرنا اور اُن کو دنیا کی مسابقت کی دوڑ کے لئے تیار کرنا ہی دراصل دفاعِ وطن کی بنیاد ہے کہ یہ ننھی کونپلیں ہی بڑے ہو کر تناور درخت بنیں گی اور مادر وطن کو نہ صرف سایہ فراہم کریں گی بلکہ پھلوں سے بھی فیضیاب کریں گی۔ وہ اپنی دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ سیسل چوہدری گروپ کیپٹن آف وار 1965 ؁ء ستارۂ جرات کے بارے میں بتاتی رہیں اور میرا یہ یقین پختہ ہوتا رہا کہ یقیناًانسانیت سب سے بڑا مذہب اور تعلیم (معیاری تعلیم) ہی سب سے بڑی کامیابی ہے اور سیسل چوہدری جیسے سپوتِ پاکستان دونوں محاذ پر بے جگری سے لڑے ۔

یہ بھی پڑھیں  چنیوٹ:لاہورروڑ پر ہونے والے المناک حادثے پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے گہرے رنج وغم کا اظہار

یہ بھی پڑھیے :

3 Comments

  1. ”suraj pe dastak dena assaan naheen asaan naheen…apne haath jala lena assan naheen asaan nahee’ great article…we r proud of him & of u too for writing for great ppl of pakistan 

  2. This is a good topic that you have penned down.  Mr. Cecil Choudeary was our hero. His services were beyond the call of normal duty and he made significant contributions to the air superiority that the PAF achieved during the 1965 war. He was part of the famous attack formation which was responsible for the destruction of Halwara airfield and the Amritsar radar in the 1965 war. In recognition of his meritorious services, he was awarded Sitara-i-Jurat and Sitara-i-Basalat. Good work Well Done !

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker