تازہ ترینصابرمغلکالم

پاک فوج میں اعلیٰ سطحی تبادلے۔قوم کا جنرل آصف غفور کو زبردست خراج تحسی

پاکستان کے دیگر اداروں کی طرح پاک فوج میں ترقی،تبدیلی اور تقرری کا ایک بہترین،واضح اور مربوط نظام ہے مگر پاک فوج میں کی گئی موجودہ اعلیٰ سطحی تبادلوں پر پاکستان بھر میں حد درجہ بحث جاری ہے جس کی بنیادی وجہ قوم کے ہر دلعزیز فوجی آفیسر سابق ڈی جی ISPRمیجر جنرل آصف غفور ہیں بنای طور پر آرٹلری کو رکے جنرل کو اوکاڑہ میں اہم ترین انفنٹری جی او سی 40ڈویژن کی کمان سونپی گئی ہے ان کی جگہ میجر جنرل بابر افتخارکو ڈی جی آئی ایس پی آر تعینات کیا گیا ہے جو ملتان میں ایک ڈویژن کی کمان کر رہے تھے اوکاڑہ میں ڈویژن کی کمان کرنے والے میجر جنرل اظہر وقاص کو فوج کے اہم ترین اور خاص ادارے ISIمیں بطور DGتعینات کیا گیا ہے،آرٹلری کور سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل آصف غفور کودسمبر2016میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا وہ20ویں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر تھے جنہوں نے اپنے پیش رو افسران کے بر عکس آفیشل سوشل اکاؤنٹ کے ساتھ ساتھ ذاتی اکاؤنٹ کو بھی خوب استعمال کیاناقدین کی ایک تعداد ہونے کے باوجود ان کے فالوورز کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی،انہیں قوم کی طرف سے بے پناہ پذیرائی ملی قوم نے انہیں آن لائن جنگ میں کامیاب ترین کردار ادا کرنے پر انتہائی خراج تحسین پیش کیا ہے،قوم ان کے بطور DGآئی ایس پی آر کے کردار کو مدتوں یاد رکھے گی جنہوں نے انتہائی کامیابی سے اپنے فرایض انجام دئیے جس کا دشمن بھی معترف ہے،اپنی نئی تعیناتی کے بعد میجرجنرل آصف غفورنے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ الحمد اللہ ان سب کا شکریہ جن کے ساتھ میں اپنے دور میں منسلک رہا،پاکستانی عوام نے انہیں جو محبت،پذیرائی اور سپورٹ دی اس پر ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہوں،ان کی محبت اورحمایت کے جواب میں میرے پاس الفاظ نہیں ہیں اسی تحریر میں انہوں نے عوام کے لئے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا، انہوں نے اپنے عہدہ اس وقت سنبھالا جب عسکری حکام نے ففتھ جنریشن وار فیئر کی جانب اپنی توجہ مبذول کی اور پاکستان کے انڈیا کے ساتھ تعلقات انتہائی خراب ہوئے اسی دوران انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کی سرکاری حیثیت کو بھی تبدیل کرتے ہوئے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا ڈالا،دشمن کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہونے والے یہ ایک ایسے آرمی آفیسر تھے جن کی تبدیلی کی خبریں سارا دن سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں حالانکہ فوج میں یہ اصول ہے کہ بطور میجر جنرل چھ سالہ مدت میں ایک افسر تین سال کمان کے عہدے پر برقرا ررہتا ہے جبکہ باقی 3سال اسٹاف اپوائنمنٹ پر تعینات رہتا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان کی ففتھ جنریشن وار میں یعنی سوشل میڈیا پر غیر روایتی جنگ کا سامنا کیااور بطور فوجی ترجمان اس پلیٹ فارم پر تن تنہا پاکستان کا زبردست اورقابل تعریف دفاع کرتے رہے، فروری 2019میں بالا کوٹ پر انڈیا حملے کی ناکامی کے بعد وہ اکثر ٹوئٹس کرتے تھے کہ انڈیا میڈیا پر چلنے والی پاکستان کے حوالے سے چلنے والی تمام خبریں جھوٹی اور بے بنیاد ہوتی ہیں،انڈیا میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو پوری دنیا میں اجاگر کیا،سوشل میڈیا پر متاثر کن کارکردگی اور پاکستانی بیانیئے کو عمدہ طریقے سے پھیلایا جس کا اعتراف انڈین آرمی کے آفیسرز بھی کر چکے ہیں کہ وہ کامیابی کے ساتھ پاکستانی بینائیے کی جنگ لڑ رہے ہیں گذشتہ سال دسمبر میں انڈین آرمی کے سابق سیکیورٹی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل راجیش پیننت نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا پاکستانی فوج نےء شعبہ تعلقات عامہ کی مدد سے اپنے بیانئیے کو بہت اچھے طریقے سے پیش کیا ہے،جس کا اصل کریڈٹ آصف غفور کو جاتا ہے جب وہ کشمیر پر بات کرتے ہیں تویورپ تک پیغام جاتا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے،تمام یورپی ممالک کوپیغام دیتے ہیں کہ اسلام خطرے میں ہے، ان کے ذاتی سوشل اکاؤنٹ استعمال کرنے پر شدید تنقید کے جواب میں سابق لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفیٰ نے کہافوج میں صرف DGآئی ایس پی آر کو یہ اجازت ہے کہ فوج کے خالف سوشل میڈیا پر کی جانے والی گفتگوپر قابو رکھنے کے لئے وہ ذاتی حیثیت میں بھی سوشل میڈیا استعمال کر سکتا ہے تا کہ گمراہ کن خبروں پر نظر رکھیاور انہیں روکا جا سکے یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس وقت غیر ملکی قوتیں پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار فئیر میں مصروف ہیں ایسی صورتحال میں جنرل آصف غفور سرکاری و ذاتی اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے اپنا قومی فریضہ انجام دے رہے ہیں تا کہ قومی سالمیت کا دفاع کر سکیں،پاکستان میں ففٹھ جنریشن وار کا اس وقت بہت ذکر ہے پاک فوج کے ترجمان نے بھی اکثر مواقع پر دہرایا کہ ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہو گا،وزیر مملکت برائے داخلہ امور شہر یار آ فریدی نے کہا تھا کہ پولیس آ فیسر طاہر داوڑ کا اغوا اور ہلاکت بھی ففتھ جنریشن وار ہے(جنریشن وار اصل میں جنگوں میں جنگوں میں جدت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا نام ہے اس سے قبل 1989میں فورتھ جنریشن وار کی اصطلاح کا نام سامنے آیا تھا جسے جدید دور کی جنگوں کا نام دیا گیا تھاٌ)،میجر جنرل آصف غفور کی GOC40اوکاڑہ تعیناتی بھی کوئی معمولی نہیں یہ ایک حساس ترین ایریا ہے،اوکاڑہ کینٹ بہالپور کور کے ماتحت ہے اور بہاولنگر کینٹ اوکاڑہ کینٹ کے انڈر ہے،اوکاڑہ اور بہاولنگر اضلاع کا وسیع علاقہ انڈیا کے ساتھ ملحقہ ہے، اوکاڑہ کینٹ اوکاڑہ شہر سے 10کلومیٹر دور میں جی ٹی روڈ اور میں ہی ریلوے ٹریک کے ساتھ قائم ہے یہاں سے انڈین بارڈر تقریباً65کلومیٹر دور ہو گا،برٹش دور میں اوکاڑہ سے دہلی سیدھا راستہ براستہ ہیڈ ستلج دہلی جاتا تھاجس کی مسافت437کلومیٹر ہے، سابق ڈی جی جنرل عاصم باجوہ کو ترقی دے کر GHQمیں انسپکٹر جنرل آف آرمز تعینات کیا گیا تو آصف غفور نے یہ عہدہ سنبھالا،ہلال امتیاز کے حامل آصف غفور نے 9ستمبر1988کو پاک فوج کی شاخ 87میڈیم میں بھرتی ہوئے آرٹلری رجمنٹ سے متعلق آپریشنزکا وسیع تجربہ رکھتے ہیں،آپریشن المیزان میں ایک یونٹ کی قیادت کی،باجوڑ میں طالبان کے خلاف جنگ،ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ،قومی ایکشن پلان کی تکمیل،اسسٹنٹ ملٹری سیکرٹری ایم ایس برانچ1۔GSO جی ایچ کیو اورکوئٹہ اسٹاف کالج کی ایک فیکلٹی کے ممبر بھی رہے،آئی ایس پی آر کو بین الخدماتی تعلقات عامہ بھی کہتے ہیں جو ایک انتظامی فوجی میڈیا برائے نشریات ہوتا ہے جو ملک کے نشریاتی اداروں اور معاشرے کو فوجی خبروں اور معلومات فراہم کرنے کا فریضہ انجام دیتا ہے،ISPRمیں سب سے زیادہ عرصہ DGتعینات رہنے والے کموڈور مقبول حسین اور کم ترین عرصہ (صرف ایک ماہ)بریگیڈئیر جنرل غضنفر علی کے پاس رہا اس تعیناتی کے بعد آصف غفور لیفٹیننٹ جنرل پر ترقی پا لیں گے کیونکہ اس عہدے کے لئے کسی ڈویژن کی کمانڈ کرنا بھی ضروری ہے،نئے DGآئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار نئی تعیناتی سے قبل ملتان خدمات انجام دے رہے تھے ان کا تعلق81ویں لانگ کورس اور آرمڈ کور کی یونٹ6لانسر سے ہے بابر افتخار نے2016میں میجر جنرل پر ترقی حاصل کی وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں انسٹرکٹر کے علاوہ ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں ڈائریکٹر بھی رہے،انہیں پاک فوج میں ایک سخت گیرآفیسر کے طور پر جانا جاتا ہے تاہم وہ اختلاف رائے کو بھی بے حد اہمیت دیتے ہیں،بابر افتخار نے 1990میں کمیشن حاصل کیاکمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ،نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد اور رائل اسٹاف کالج اردن سے گریجویٹ ہیں،انہیں کمانڈ اور تربیت کا وسیع تجربہ ہے بریگیڈئیر میجر کے طور پر آرمڈ بریگیڈ کی کمان کی،وزیرستان میں انفنٹری ڈویژن کے بریگیڈئیر سٹاف اور چیف آف سٹاف کور کے ہیڈ کوراٹر میں خدمات انجام دیں،آپریشن ضرب عضب میں بھی ان کا کردار شاندار روایات کا امین ہے،دنیا کی نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی کے نئے اور 25ویں سربراہ میجر جنرل اظہر وقاص کو یہ سربراہی ملنا کسی انتہائی قابل فخر اعزاز سے کم نہیں،اظہر وقاص کا تعلق84ویں لانگ کورس سے اور انفنٹری آ فیسر ہیں وہ بھی ڈائریکٹر ملٹری آپریشن رہے،وہ شاندار فوجی کیرئیر کے حامل آ فیسر ہیں اب ان پر مزید بڑی ذمہ داریاں آن پڑی ہیں مگر پاک فوج کا ہر جوان ہو یا آفیسر اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا جانتا ہے،ISIکے10ڈویژن قومی سلامتی پر دن رات کام کر رہے ہیں جس میں سے ای جوائنٹ کاؤنٹر انٹیلی جنس صرف دشمن ملک انڈیا کی خفیہ ایجنسی RAWکے معاملات کو ہی دیکھتا ہے، بلا شبہ جنرل آصف غفور پاکستان آرمی کی تاریخ کے ایک بہترین DGآئی ایس پی آر تھے۔

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker