بین الاقوامیتازہ ترین

واہگہ بارڈر کے راستے 24گھنٹے تجارت پاکستان اور بھارت کا اتفاق

نئی دہلی/ اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں) وزیر تجارت خرم دستگیر خان بھارتی ہم منصب سے ملاقات کرتے ہوئے و یزا نظام کو آسان بنایا جا ئے گا، لاہور اور امرتسر میں کنٹینرز کے ٹر مینل قا ئم ہو نگے ، واہگہ اٹاری پر کام کا دورانیہ بڑھانے کی ہدایت ، انڈیا شو کے بعد کارریلی منعقد کرنے پر بھی اتفاق مذاکرات میں تعطل نہیں آنا چاہیے  بھارتی وزیر نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کر لی، تصفیہ طلب مسائل پر گفتگو کرنا ہو گی پاکستان اور بھارت مو سٹ فیورٹ نیشن یعنی پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کے بجائے این ڈی ایم اے نظام پر متفق ہو گئے ہیں جس کے تحت ایک دو سر ے کو منڈیوں تک بلا امتیاز رسائی دی جا ئے گی اور و یزا نظام کو آسان بنایا جا ئے گا فروری کے آخر تک واہگہ با رڈر کے راستے ہفتے کے سات دنو ں میں چو بیس گھنٹے تجارت ہو گی یہ فیصلے دونو ں ملکو ں کے وزرائے تجارت کی ملا قا ت میں کیے گئے بعد ازاں پر یس کانفرنس سے خطا ب کر تے ہو ئے پا کستان کے وفا قی وزیر تجارت خرم دستگیر اور ان کے بھارتی ہم منصب آنند شرما نے کہا کہ دونو ں ملکو ں کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے لاہور اور امرتسر میں کنٹینرز کے ٹر مینل قا ئم ہو نگے ، تمام قابل تجارت اشیاء کی واہگہ کے زمینی راستے سے تجارت کی اجازت دینے ، ویزا نظام کو آسان بنانے ، واہگہ اٹاری پر کام کا دورانیہ بڑھانے اور دونوں ممالک کی کاروباری برادری سے متعلقہ ضروری امور کے حوالے سے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کر دی گئی۔ امر تسر اور لاہور کے درمیان انڈیاشو کے بعد کارریلی منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔ بھارتی وزیر تجارت آنندشرما نے خرم دستگیر کی جانب سے فروری میں پاکستان کے دورہ کی دعوت قبول کر لی ۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں بھارتی وزیر تجارت آنند شرمانے کہاکہ پاکستان اور بھارت میں ان بینکوں کی برانچیں کھولی جائیں گی جنھیں حکومت اجازت دے گی۔انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوں کے مرکزی بینک اس معاہدے پر رضامند ہیں۔ واہگہ بارڈر کے راستے وطن واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر نے کہا کہ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی تاہم یہ انڈر سٹینڈنگ موجود ہے اور طے پایا ہے کہ بہت تیزی سے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں واہگہ اٹاری کو چوبیس گھنٹے چلایا جائے گا جس سے تجارت کو فروغ حاصل ہو گا جبکہ یہ پیشرفت بھی ہو رہی ہے کہ اشیاء کی کارگو کنٹینرز کے ذریعے نقل و حمل کی جائے ۔پاکستان کے ادارے این ایل سی کے پاس یہ استعداد موجود ہے کہ کسی بھی کنٹینر کو دو سے تین منٹ میں سو فیصد سکین کیا جا سکتا ہے اور اس عمل سے تجارت کا حجم بڑھانے میں مدد ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی منتخب حکومتوں، پارلیمنٹ اور عوام میں یہ انڈر سٹینڈنگ ہونی چاہیے کہ کوئی بھی موقع آئے تجارت اور مذاکرات میں تعطل نہیں آنا چاہیے اور جب یہ ہو گا تو تجارت اور سرمایہ کاری بڑھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک خام مال کی تلاش میں سات سمندر پا ر جاتے ہیں اگر دونوں ممالک کی تجارت فروغ پائے گی تو انہیں یہ چیز قریب سے بھی میسر آ سکتی ہے ۔دریں اثناء ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وزیر تجارت خرم دستگیر کا بھارت کا دو طرفہ دورہ نہیں ، وہ سارک بزنس لیڈرز کانکلیو میں شرکت کیلئے وہاں گئے تھے ، موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ممالک کے وزرائے تجارت نے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے درمیان تصفیہ طلب مسائل موجود ہیں، باہمی اعتماد کا فقدان دور کرنے کیلئے مسائل پربات چیت کرنا ہوگی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button