شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / پاک بھارت میچ۔ورلڈ کپ2019کا سب سے بڑا ٹاکرا

پاک بھارت میچ۔ورلڈ کپ2019کا سب سے بڑا ٹاکرا

آج آئی سی سی ورلڈ کپ2019کا سب سے بڑا ٹاکرا ہونے جا رہا ہے دنیائے کرکٹ میں پاک بھارت میچز کو سب سے زیادہ دیکھ اجاتا ہے،ان دو روایتی حریفوں کے درمیان میچ کو دنیا بھر میں اربوں افراد انتہائی انہماک،دلچسپی بلکہ انتہا پسندی، تعصب،قوم پرستی،گھمنڈ سے دیکھتے ہیں اب بھی دنیا بھر میں پہلے جہاں ان دو حریف ممالک کے شہری ورلڈ کپ کے سب سے بڑے ٹاکرے اور اہم ترین میچ جو ورلڈ کپ سے فائنل سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل بن جاتا ہے کو دیکھنے کے لئے بے چین،بے تاب،جیت و شکست کی پشین گوئیوں کے ساتھ لمحہ لمحہ انتظار میں ہیں،یہ وہ میچ ہے جس میں باالخصوص پاک بھارت کی سڑکیں سنسان اور بازار ویران ہو جاتے ہیں،اس میچ کو عالمی طع پر کرکٹ کی جان کہا جاتا ہے، ان دونوں ٹیموں کے درمیان میچ پردنیا بھر میں سٹہ باز اربوں روپے کماتے ہیں کئی کے اربوں ہی ڈوب جاتے ہیں،شائقین کرکٹ شکست پر دلبرداشتہ ہو کرالیکٹرانک سامان توڑنے کے علاوہ خود کشی تک کر لیتے ہیں، دو راز قبل قومی ٹیم مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ اور دنیا بھر سے لوگ میں میچ دیکھنے کے لئے وہاں پہنچ چکے ہیں ٹکٹ بلیک میں انتہائی مہنگے داموں بھی نایاب ہیں،کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے بڑے برساتی ایونٹ کے اس اہم ترین میچ کے حوالے سے بھی برطانوی محکمہ موسمیات نے پشین گوئی کی ہے کہ صبع10سے بارش کے50فیصد امکانات ہیں اس بات نے شائقین کرکٹ کے دوں کو کافی حد تک مرجھا دیا ہے کیونکہ اس میچ کو دیکھنے کے لئے دنیا بے تاب ہے،اب تک دونوں ٹییموں کے درمیان 131میچ کھیلے جا چکے ہیں جن میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا پاکستان نے73جبکہ انڈیا نے54 میں کامیابی حاصل کی 4میچ بے نتیجہ رہے البتہ ورلڈ کپ کی تا ریخ میں ان کے درمیان 6 بار ٹاکرا ہوا جن میں انڈیا ناقابل شکست رہا،ان چھ میچوں میں سے 5مرتبہ پاکستان نے ہدف کے تعاقب میں شکست کامزہ چکھا ورلڈ کپ میں پاکستان کا انڈیا کے خلاف بڑا ٹوٹل 273رنز ہے 1999میں اسی گراؤنڈ میں ورلڈ کپ کے دوران ہی پاک بھارت کے درمیان میچ کھیلا گیا جسے انڈیا نے47رنز سے اپنے نام کیا تھادیکھو اس بار پاکستان شکست کی روایت کو توڑنے میں کامیاب ہوتا ہے کہ نہیں،پاکستان کو انڈیا کے خلاف آخری 18میچوں میں صرف7 میں کامیابی نصیب ہوئی بھارت فی الحال تو اس ایونٹ میں ناقابل شکست اوراس کا شمار بہترین ٹیموں میں ہوتا ہے اس نے جنوبی افریقہ کی مسلسل تیسری اور شکست اور اپنی پہلی فتح سے اپنا آغاز کامیابی سے کیااس میچ میں روہت شرما نے122 رنز ناقابل شکست بنائے،پاکستانی ٹیم سرفرازاحمد کی قیادت اور مخصوص سلیکشن کمیٹی کی وجہ سے بدترین صورتحال کا شکا ہے،لگتا ہے 4سال بعد انعقاد ہونے والے ورلڈ کپ کے لئے پاکستانی ٹیم کے لئے تیاری کی ہی نہیں گی بس تجربات اور دعائیں،قوم اب دعاؤں سہارے ہی ٹیم کی جیت پر امید لگائے بیٹھی ہے،دو سیریز میں وائٹ واش،ورلڈ کپ کے پہلے ہی میچ میں اب تک کا واحد میچ جیتنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے ہاتھوں ہزیمت ناک شکست،ایک میچ بارش کی نذر،ایک میچ میں آسٹریلیا نے میچ نہیں جیتا بلکہ ہم نے خود ہاراصرف ایک میچ میں ٹورنامنٹ کی ہائی فیورٹ ٹیم کو شکست دے کر ایک بار تھر تھلی مچا دی ہماری قوم ایسی ہے صرف ایک میچ میں ہی ٹیم کی کامیابی پر ماضی کی تمام عبرتناک شکستوں کو فراموش کر جاتی ہے مگر یہ من موجی بیٹنگ، باؤلنگ او رفیلڈنگ میں وہ شرمناک کردار ادا کر جاتے ہیں جس کے باعث کوئی بھی حریف ٹیم بآسانی میچ جیت جاتی ہے،سمجھ سے باہر سے پی سی بی کے نزدیک کھلاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے کا معیار کیا ہے؟انگلینڈ کو زبردست شکست دینے کے بعداگر قومی ٹیم آسٹریلیا کو بھی زیر کر لیتی تو روایتی حریف کے خلاف اہم ترین میچ سے پہلے ٹیم کو مورال بلند ہو جاتا،حوصلے بڑھ جاتے بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا یہ میچ پاکستان کے لئے بہت بڑا اور اہم امتحان تھا جس میں وہ بری طرح ناکام رہا جس کا ذمہ دار وہ خود ہے جیتا ہوا میچ ہار میں بدل گیافیلڈروں، بلے بازوں نے انتہائی مایوس کیا یہی غلطیاں دہرائی گئیں تو کبھی روایتی حریف کو نہیں ہرا سکیں گے،آسٹریلیا کے اوپنر126رنز بغیر نقصان کے بنا گئے شاداب کو شامل نہ کیا گیاقوم کا کبھی فخر ہونے والے دھوکہ دینے میں شہرت پا چکے ہیں وہ اورتجربہ کارشعیب ملک صفر پر،کپتان نہ صرف بیٹنگ میں بلکہ قیادت میں بھی ناکام رہے مؤثر پالیسی بنانے اور فائٹ کرنے میں وہ یکسر ناکام رہے محمد حفیظ اور شعیب ملک کے11اوورز میں 86رنز پڑے مگر کپتان کو سمجھ نہ آئی ایرون فینچ سمیت تین کیچ ایک رن آؤٹ ضائع کیا قومی ٹیم اس میگا ایونٹ میں اب تک8کیچ ڈراپ کر چکی ہے،ایک طرف محمد عامر نے اپنے کیرئیر کی بہترین باؤلنگ 5/3oکی(محمد عامر اس وقت 3میچوں میں 10وکٹوں کے ساتھ میگا ایونٹ میں سر فہرست ہیں اس سے قبل انہوں نے53میچوں میں ان کی بہترین باؤلنگ4/28تھی جو انہوں نے کولمبو میں سری لنکا کے خلاف کی تھی) وہاب ریاض نے بھی ان کا ساتھ دیتے ہوئے کینگروز کو بہت بڑے سکور بنانے سے محدود کر دیا اس کے بعد بیٹسمینوں کی جانب سے فیصلہ کن وار کرنے کی ضرورت تھی شاید یہ کھلاڑی فیصلہ کن وار کرنے کی صلاحیت سے ہی عاری ہیں سابق کپتان وقار یونس کے مطابق آسٹریلیا کے خلاف میچ میں شکست کے بعد بھارت کے خلاف فتح کے لئے پاکستان کو بہترین کھیل پیش کرنا ہو گااب پاکستان کو کم و بیش ہر میچ میں کامیابی درکار ہے،کیا عجب بات ہے آسٹریلیا سے ہم نے شکست کھائی جسے انگلینڈ نے ہرا کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا،بھارت نے بھی اس کی خوب درگت بنائی،اب شاہینوں کے پاس کسی نوعیت کی غلطی کی گنجائش نہیں تمام گر اور حربے آزمانے ہوں گے کپتانی میں مشاورت سے کام لینا ہو گاجان لڑانا پڑے گی باہر جاتی گیندوں سے پنگا لینے سے جان چھڑاناہو گی،غیر معیاری شارٹس کھیل کر شکست کو گلے لگانے سے بچنا ہو گا،فخر زمان کی کمزوری کو مخالف ٹیمیں بھانپ چکی ہیں مگر وہ خود کو بدل نہیں پائے انہیں سٹیمپ کے باہر جاتی گیندوں پرآؤٹ کیا جاتا ہے وہ مجموعی طور پر ایسی ہی گیندوں پر پویلین لوٹتے ہیں اس ایونٹ میں ایسا دو دفعہ ہو چکا ہے،امام الحق کا سست ترین کھیل بھی شدید تنقید کی زد میں ہے انہیں نہ ٹیم اور نہ اپنے لئے بہتر سٹرائیک ریٹ کی ضروت ہوتی ہے ان بارے ایسا لگتا ہے جیسے وہ قومی ٹیم کے لئے نہیں بلکہ اپنے لئے کھیل رہے ہیں ان کی انوکھی حکمت عملی پر پوری قوم تفکر میں ہے،وہ کسی بڑے ہدف تک ٹیم کو پہنچانے کی صلاحیت سے عاری لگتے ہیں انہیں حکمت عملی کو یکسر بدلنا ہو گا جب بھی ٹیم کو ان کے کی جانب سے اٹیک کی ضرورت ہوتی ہے وہ باہر جاتی گیندوں سے پنگا لے کر ٹیم کو مشکلات اور قوم کو صدمے میں ڈال دیتے ہیں،حریف ٹیم کے کپتان اور دنیا کے نمبر ون بیٹسمین ویرات کوہلی بھی بائیں بازو کے گیند کرانے والے تیز رفتار باؤلرز سے ہمیشہ خائف رہتے ہیں،ان کے مقابل بابر اعظم کو آسٹریلیا کے سابق کپتان مائیکل کلارک نیپاکستان کا ویرات کاوہلی کا لقب دیا تھا اس میچ میں ان پر بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے،ان فارم بھارتی بیٹسمین شیکھر دھون گیند لگنے سے انجری کا شکا ر ہو کر ٹیم سے باہر ہو گئے ہیں یہ پاکستانی ٹیم کے لئے اچھا شگون ہے شیکھر دھون اور روہت شرما کی جوڑی نے بھارتی جیت میں ہمیشہ اہم ترین کردار ادا کیااب شیکھر کی جگہ لوکیٹس راہل کے اوپننگ کا چانس ہے راہل کا پاکستان کے خلاف یہ پہلا میچ ہو گااس نے کبھی روہت شرما کے ساتھ کسی میچ کا آغاز نہیں کیا،البتہ وہ ایک بڑے باصلاحیت بلے باز ہیں مگر ان کی نا تجربہ کاری سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے،ان دونوں ٹیموں میں ایسے ایسے با صلاحیت کھلاڑی موجود ہیں جو انفرادی طور پر بھی میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں، روہت اور کوہلی کو جلد آؤٹ کرنا ہو گا،اس میچ میں ٹاس بھی اہم کردار ادا کرے گاکیونکہ پاکستان مجموعی طور پر ہدف تک رسائی میں مجموعی طور پر ناکام رہا ہے،اس وقت میگا ایونٹ میں آسٹریلیا۔سری لنکا،جنوبی افریقہ اور افغانستان کے میچوں سے قبل نیوزی لینڈ پہلے،انگلینڈ دوسرے،آسٹریلیا تیسرے اورانڈیا چوتھے نمبر پر ہے پاکستان کو 4میچوں میں سے2میں شکست ایک جیتا اور ایک بارش کی نذر ہو جانے پر 8ویں نمبر پر ہے تاحال بیٹنگ میں انگلش بیٹسمین جان روٹ 4میچوں،یں 279رنز بنا کر سر فہرست جن میں دو دفعہ سینچری اور ایک ففٹی شامل ہے جبکہ بنگلہ دیش کے شکیب الحسن 3میچوں میں 260رنز بنا کر دوسرے نمبر پر ہیں باؤلنگ میں محمد عامر10وکٹوں کے ساتھ پہلے اورجوفر آرچر9وکٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں،وقت آن پہنچا فائنل سے پہلے فائنل کون جیتتا ہے یہ تو آج فیصلہ ہو ہی جائے گا اگر بیٹنگ چل گئی فیلڈنگ میں کوتاہی نہ ہوئی تو باؤلر قوم کو مایوس نہیں کریں گے، اس میگا ایونٹ میں پاکستانی ٹیم کی ایک طرف کارکردگی مناسب نہیں دوسری جانب آئی سی سی کی جانب سے بھی بے حد تعصب کا شکارنظر آتی ہے۔ورلڈ کپ میں بارشوں سے متاثر ہونے والے میچوں سے متعلق شائقئن کرکٹ بے حد مایوس ہیں اس حوالے سےICCکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ویو رچرڈسن کے مطابق اگر بارش سے متاثرہ میچوں کا دوبارہ انعقاد کیا جائے تو کم از کم دس دن اور درکار ہوں گے ورلڈ کپ راؤنڈ رومین کی بنیاد پر کھیلا جا رہا ہے اس میں کسی بھی راؤنڈ میچ کے لئے متبادل دن نہیں رکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں  2017ء ’’تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی، شام نئی‘‘

error: Content is Protected!!