پاکستانتازہ ترین

این آراوکیس،اٹارنی جنرل آج راجاپرویز اشرف کامؤقف پیش کرینگے

اسلام آباد(بیوروچیف) پانچ رکنی سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ  کے روبرو آج اين آراوعمل درآمد کيس کی اہم سماعت ہوگی۔ اٹارنی جنرل روزيراعظم پرويز اشرف کی جانب سے صدر زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات کھولنے سے متعلق سوئس حکام کوخط لکھنے کے بارے میں جواب ديں گے۔ نيب کی جانب سے عدنان اے خواجہ کی تقرری کے حوالے سے حتمی رپورٹ پيش کی جائيگی۔ عدالت عظمی کا نو رکنی لاجر بینچ  سابق سفير حسين حقانی  کی جانب سے امريکی فوج کے سربراہ مائيک مولن کو لکھے گئے  مراسلے کے مشہور ميمو گيٹ اسکينڈل کيس کی بھی سماعت کريگا۔  بارہ جولائی  کو اين آر او عمل  درآمد  کيس کيلئے پانچ رکنی خصوصی  بینچ تشکيل دياگيا جس کے ارکان ميں جسٹس آصف سعيد کھوسہ، جسٹس اعجازافضل خان ،جسٹس اعجاز احمد چوہدری ،جسٹس گلزار احمد اور جسٹس محمد اطہر سعيد شامل ہيں۔ سماعت دن دوبجے شروع ہونے کا امکان ہے۔  این آر او کیس سے متعلق سپریم کورٹ نے27 جون کو اٹارنی جنرل کو ہدایت کی تھی کہ نئے وزیر اعظم سے این آر او فیصلے کے پیرا گراف 178 پر عمل درآمد سے متعلق جواب حاصل کرکے عدالت کو آگاہ کریں۔ جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنے تحریری حکم میں بطور خاص تذکرہ کیا تھا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اس عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کے باعث توہین عدالت کے جرم میں سزا ملی جس کے نتیجے میں وہ پارلیمنٹ کی رکنیت اور وزارت عظمٰی سے محروم ہوئے ۔  عدالت نے توقع کا اظہار کیا تھا کہ نئے وزیر اعظم عدالتی حکم کا احترام کرینگے۔ چیف جسٹس نے اس کیس کی سماعت کیلئے تین کے بجائے پانچ رکنی بنچ تشکیل دے دیا ہے جس کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کی سزا پر منتج ہونے والی کارروائی بھی اسی بینچ نے شروع کی تھی ۔  اس سے پہلے جسٹس شاکر الله جان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا نو رکنی بینچ میمو کیس کی سماعت بھی کرے گا۔ سپریم کورٹ نے 12 جون کو میمو کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کا حکم دیا تھا جس میں پاکستانی سفیرحسین حقانی کی جانب سے امریکی ایڈمرل مائیک مولن کو لکھے گئے میمو کو ایک حقیقت قرار دیا تھا ۔ عدالت نے آج حسین حقانی کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button