پاکستانتازہ ترین

حکومت طالبان مذاکرات: حکومتی کمیٹی کا ورکنگ پیپرتیار، دونوں کمیٹیوں کی پہلی باضابطہ ملاقات خفیہ مقام پر طے پاگئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کا پہلا باضابطہ اجلاس جمعرات کو نامعلوم مقام پر ہوگاجبکہ حکومتی کمیٹی نے ورکنگ پیپرتیار کرلیا۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل خاصا طویل ہو سکتا ہے ، مایوس نہیں،کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکلے گا۔حکومتی کمیٹی نے طالبان کی طرف سے نامزد کردہ کمیٹی سے رابطہ کیاہے اور دوپہر دو بجے ملاقات کا وقت طے پاگیاہے تاہم مقررہ وقت گزرجانے کے باوجود باضابطہ ملاقات شروع نہیں ہوسکی۔طالبان کمیٹی کے رکن مولانا عبدالعزیز نے بتایاکہ مذاکرات دوبجے ہوں گے تاہم ملاقات کا مقام خفیہ رکھاجائے گا۔ اُنہوں نے بتایاہے کہ طالبان اپنی نمائندہ کمیٹی سے ملاقات کے منتظر ہیں ، سوچ رہے ہیں کہ طالبان سے ملنے جائیں یا اُنہیں پشاور کے قریب کسی مقام پر بلائیں ، حتمی فیصلہ اجلاس کے بعد کریں گے ،مطالبات تحریری طورپر بھی منگواسکتے ہیں ۔طالبان کی نامزدکردہ کمیٹی سے مذاکرات سے قبل حکومتی کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں مذاکرات کے لیے باضابطہ ورکنگ پیپرتیار کرلیاگیاہے اوراجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ پہلے مرحلے میں طالبان کے مطالبات و تجاویز سنی جائیں گی ۔ دوسری طرف نجی ٹی وی چینل کاکہناتھاکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے طالبان کمیٹی کے اراکین کوشمالی وزیرستان لے جانے کے بارے میں فیصلہ نہیں ہوسکا۔ اُدھر طالبان کمیٹی کے سربراہ مولاناسمیع الحق نے ٹیلی فون پر وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان سے رابطہ کیاہے اور امن کے لیے اُن کے کردار کو سراہا۔ چوہدری نثار علی خان کاکہناتھاکہ قوم حکومت اور طالبان کی کمیٹیوں کے درمیان امن کیلئے نتیجہ خیزکوششوں کے لیے دعاگو ہے اور دونوں رہنماﺅں کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر رابطے پر بھی اتفاق کیاگیاہے۔دنیا نیوز کے مطابق حکومتی کمیٹی کے ارکان ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام سے بھی ملاقات کریں گے اور مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔حکومتی کمیٹی کے کوارڈینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ دونوں کمیٹیاں ایک دوسرے کو اپنے خدشات سے بھی آگاہ کریں گی جبکہ رستم شاہ مہمند کا کہنا تھا مذاکراتی عمل خاصا طویل بھی ہو سکتا ہے۔جماعت اسلامی نے مذاکراتی عمل کا حصہ رہنے کا اعلان کیا ہے۔منور حسن کا کہنا تھا کہ ملکی مفادات کے تابع رہنا چاہئے۔پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں،ملک کا امن تباہ کرنے والے غیبی ہاتھ ڈھونڈنے کی کوشش بھی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker