تازہ ترینکالممیرافسر امان

پاکستان کے خلاف امریکی عزاہم

امریکا کی پاکستان میں دلچسپی اس کاسنٹرل ایشیا کا مین گیٹ ہوناہے ۔چین جو اُبھرتی ہوئی فوجی معاشی طاقت ہے جو امریکہ کو مستقبل قریب میں چیلنج کرنے والا ہے کو ملانے والی شاہر اہ ریشم موجود ہے اس سے پاکستان کی اہمیت مذید بڑھ جاتی ہے۔ بلوچستان کا گرم پانیوں والاطویل ساحل اورگوادر کی ڈیپ سی پورٹ جو چین کی مدد سے بنائی گئی ہے جسے چین پاکستان سے حاصل کرنا بھی چاہتا ہے جو وسط ایشیا ئی ریاستوں تک رسائی کا قریب ترین راستہ ہے۔ دنیا کودیکھنے والی دوسری اونچی آنکھ یعنی’’ کے ٹو‘‘ چوٹی ہے جسے دنیا ورلڈ روف کہتی ہیں جس پر میزائل سسٹم لگا کر دنیا کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے بھی پاکستان کی حدود میں ہے۔یہ المیہ بھی ہے کہ پاکستان میں حکومتیں ہمیشہ امریکہ کی مرضی سے بنتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی این آر او زدہ اور امریکی حمایت یافتہ اتحادی حکومت ایک طرف اور پاکستان کی ساری قوم دوسری طرف ہے۔پاکستان کی ساری قوم، پارلیمنٹ، دفاعی کمیٹی ا وراے پی سی ناٹو سپلائی کے خلاف تھی اس کے باوجود کچھ حاصل کئے بغیر امریکی خشنودی کے لیے حکومت نے ناٹو سپلائی کھول دی… عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت نے امریکا سے دوستی نباتے ہوئے ناٹو سپلائی کی حفاظت کا ذمہ بھی لے لیا ہے۔امریکی کنٹینرز/ آئل ٹینکر کو عوامی رد عمل سے بچانے کے لیے فوری طور پر سیکورٹی میں محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اور اس کے وزیر خارجہ نے اعلان بھی کر دیا کے دنیا کے48 ملکوں سے دشمنی مول نہیں لے سکتے اگر دشمنی مول نہیں لے سکتے تھے تو اس سے پہلے کیوں خیال نہیں آیا تھا۔ ادھر کراچی کی لِسانی حکمران جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے امریکی اشارے پر کراچی پاکستان کے معاشی حب کا امن وامان تباہ کر دیا ہے سرمایا دار ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش ، ملائیشا اور دوسرے ملکوں میں سرمایا اور فیکٹریاں شفٹ کر چکے ہیں اب پاکستان کی بحری سرحدوں کے قریب امریکی بحری بیٹرے کی آمد کو ہوا بنا کر پاکستانی قوم کو ڈرایا جا رہا ہے۔ امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اور اے پی سی منعقد کرنے کی بھی کوشش کی جو پاکستانی محب وطن پارٹیوں نے نا منظور کر دی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کی اجازت سے امریکی سفارت کار گلگت بلتستان کے حساس علاقہ جہاں شیعہ سنی فسادات کروائے جا رہے ہیں کا دورہ کیا ہے مقامی این جی اوز،قوم پرستوں، صحافیوں اور تاجروں سے ملاقاتیں کیں اور امریکی وفد چین کااثر رسوخ معلوم کرنے میں مصروف رہا۔ اخباری خبر کے مطابق امریکی سفارخانے کی گلگت بلتستان میں بڑھتی دلچسپی پر پاکستان کی جماعت اسلامی اور جمعیت اسلام﴿ف﴾ سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے امریکی حکام کے دورے پر تشویش کا اظہار کیا ہے سفارتخانے نے محکمہ داخلہ کو نظر انداز کر کے گلگت بلتستان کا دورہ کرنے والے امریکی وفد کی سیکورٹی کے لیے براہ راست آئی جی گلگت بلتستان حسین اصغر سے رابطہ کیا ہے ۔بھاشا ڈیم کی تعمیر رکوانے کے لیے امریکی سفارت کاروں نے سرگرم قوم پرستوں کو اُکسایا۔ بالاورستان نیشنل فرنٹ کے رہنمائوں سے ملا قاتیں کیںاور کچھ یقین دہانیاں لے لیں۔انہوں نے حکومت پاکستان کے خلاف شکایت کے انبار لگ دئیے اور کہا کہ چترال، کوہستان اور لداخ کو سازش کے تحت اس علاقے سے الگ کیا گیا۔ گلگت،بلتستان کا سارا بجٹ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔یہاں سے جانے والے پانیوں سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کے باجود خطے میں بیس بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔اس موقع پر فرنٹ کے رہنمائوں نے دیا میر بھاشا ڈیم نہ بننے دینے اور گلگت بلتستان کو متنازعہ خطہ قرار دیکر پاکستان کا حصہ نہ ماننے کا اعلان کیا گیا۔ گو کہ اس کے رد عمل میں گلگت بلتستان قومی موومنٹ کے جنرل سیکٹری ہارون خالد نے کہا ہے کہ امریکی وفد کا دورہ گلگت بلتستان خطے میں جاری گریٹ گیم کا حصہ ہے۔امریکی اہلکار یہاں معلوم کرنے آئے ہیں کہ انہوں نے فرقہ وارانہ فسادات کے لیے اپنے ایجنٹوں کو جو رقم دی تھی وہ صحیح معنوں میں درکار مقاصدکے لیے خرچ ہو رہی ہیںیا نہیں۔ اس علاقعے میں سی آئی اے اور موساد ملوث ہے۔حالیہ فرقہ وارانہ فسادات کے بعد امریکی وفد کا صوبائی انتظامیہ کو اعتماد میں لینے کے بغیر پر اسرار دورہ یشویش ناک ہے انہوں نے کہا پاکستان کا مستقبل گلگت بلتستان سے وابستہ ہے معلوم نہیں امریکی پٹھو پاکستانی حکمرانوں نے امریکیوں کو ایسے نازک موقعے پر اس علاقعے کاد ورہ کرنے سے منع کیوں نہیں کیا؟۔کیا یہ امریکی غلامی نہیں تو کیا ہے؟ ادھر بلاول بھٹو زرداری نے نیوز ویک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے پر پل کا کردار ادا کر سکتا ہوںدنیا بھر میں دوست ممالک کے لیے جاسوسی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔افغانستان کی جنگ جو امریکا نے شروع کی ہے جس میں اس کی شکست یقینی ہے جس سے اب وہ جان چھڑانا چاہتا ہے مگر اس سے قبل جو اس کے پاکستان کے خلاف عزاہم ہیں ان کوپورا کرنے کے لیے افغانستان کی جنگ کو پاکستان میں منتقل کرنا چاہتا ہے ۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکہ لارنس آف عریبیہ طرز کی کاروائی کر رہا ہے۔کچھ سال پہلے ایک امریکی نے اپنی کتاب کے اندر انکشاف کیا تھا کہ سی آئی اے نے پاکستان کے اندر دس ہزار خفیہ اہلکار داخل کئے ہیں جو مسلمانوں کی طرح داڑھی اور لباس میں ملبوس ہوتے ہیں جو پاکستان کے اندر کاروائیاں کرتے ہیں۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور
پر قومی میڈیا نے کچھ عرصہ قبل اپنی ایک خبر میں ایک حکومتی مراسلے کے حوالے سے جو وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کے نام لکھا تھا اس میں ایک امریکی اسٹیو داڈی نامی شخص کا انکشاف کیا تھا کہ اس نے داڑھی بڑائی ہوئی ہے اور شوار اور قمیض پہن رہا ہے اور یہ گورادر میں دلچسپی لے رہا ہے اور ایٹمی امور کا ماہر بھی ہے۔کیا یہ ان ہی لوگوں میں سے ہے جس کی نشان دہی مذکورہ کتاب میں کی گئی ہے؟دوامریکی مصنفین ڈی پی گریڈاور مارک امینڈر نے اپنی نئی کتاب ای بک﴿دی کمانڈ،صدر کی خفیہ فوج﴾میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی وزرات دفاع نے آزاد کشمیر میں2005ئ زلزلے کے فوری بعد جوئنٹ اسپیشل آپریشز کمنڈ ﴿جے ایس پی﴾ کے ارکان کو امدادی کاروائیوں کی آڑ میں آزاد کشمیر میں داخل کر دیا تھا۔اس موقع پر جے ایس او سی وی آئی اے کے متعدد اہل کار پاکستان میں غائب ہو گئے اس کا مقصد پاک فوج اور خفیہ اداروںمیں دراندازی کرنا اور پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں اطلاعات جمع کرنا تھا۔ دوسرا مقصد پاکستان میں مخبروں کا جال بچھانا تھاکہ اس حوالے سے القائدہ کی نشان دہی بھی کر سکیں ۔2011ئ میں پاکستان امریکہ شدید کشیدگی کے دنوں میں ان تمام افراد کو واپس بلا لیا گیا۔ میڈیا میں رپورٹ آئی ہے کہ محمد رشید نامی بھارتی مصنف نے اپنی کتاب ’’پاکستان آن دی برنک۔امریکہ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل‘‘ میں کہا ہے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے مقابل اوراوجھل ایک خفیہ ایجنسی قائم کرنے کی پلائنگ کا منصوبہ تھا۔تاہم دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عمل نہ ہو سکا۔اس منصوبے کو صدر اوباما کو پیش کیا گیا تھا جسے قبول بھی کر لیا گیا تھا۔امریکی فوج40 ہزار یا 8 ہزار فوجیوں کو بھجنے کی منظوری چاہتی تھی ۔ مقامی اخبار کے ایک تجزیہ نگار کے مطابق امریکا نے سائبر ہتھیار کا استعمال شروع کیا ہے۔امریکہ نے مسلمانوں کے مذہب سے لگائو کو ختم کرنے کے لیے سائبر ہتھیار کے نام سے ایک ایسی ویکسین تیار کی ہے جو انسانی دماغ کے اس حصے کو ناکارہ بناہ دیتی ہے جس میں مذہبی روحجانات کی آبیاری ہوتی ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ پولیو،ہپاٹئٹس یا کسی اور موذی مرض کی ویکسی نیشن کی آڑ میں اسلامی دنیا کی یوتھ کو نشانہ بنایا جائے اس کا م کے لیے ان کے پروردہ این جی اوئز کی خدمات حاصل کی جائیں گی جیسے پاکستان کے غدار ڈاکٹر شکیل آفریدی نے سیودی چلڈرن نامی بین الاقوامی این جی او کو ملا کر اُسامہ بن لادن کی جاسوسی کے لیے کیا تھا۔کیا پاکستان کے قبائل کے اندر حالیہ و یکسین مہم اس سلسلے کی کوئی کوشش تو نہیں ہے؟ مغربی دنیا اور خصوصاًمریکا کی پروپگنڈا مہم نے مسلمانوں کو زیر کرنے کے لیے اپنا مدمقابل بنا لیا ہے اور اس پر گرفت حاصل کرنے کے لیے ایسے طریقے ایجاد کئے جس کی کوئی بھی مہذب معاشرہ اجازت نہیں دیتا۔مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے انتہاپسند،دہشتگرد،مذہبی جنونی،غیر مہذب اور خونخوار وغیرہ کی اصطلاحات گھڑی گئیں جبکہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے۔ امریکہ سب سے بڑا خونخوار ہے اس نے جاپان پر دنیا کا پہلا اور آخری ایٹم بم برسایا۔ ویت نام کمبوڈیا،سوڈان ،لیبیااور اب تازہ عراق اور افغانستان میں مسلمانوں کے خلاف خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا کو فنڈئنگ کے ذریعے یوتھ کو اسلام سے دور کرنے کے لیے فحاشی،عریانی اور ناچ گانے کو فروغ دے رہا ہے ۔مسلم ممالک میں اپنے زر خرید سیاسی رہنمائوں کو استعمال کرکے ایک مسلم حکومت کو دوسری مسلم حکومت سے لڑا دیا اس کا تجربہ وہ ایران عراق کو دس سالہ جنگ میں جھونک کر چکے ہیں ۔انہوں نے کویت اور عراق کے اندر جنگ شروع کروائی اور دونوں کی معیشت کو تباہ کیا ۔عراق کا ہوا کھڑا کر کے سعودی عرب کے اندر اپنی افواج کے لیے جگہ بنائی آج وہاں امریکہ کی فوج موجود ہے۔ کیا یہ امریکی عزائم کہ مکہ اور مدینہ پر ایٹم بم گرا دیا جائے کی پلائنگ تو نہیں ہے؟ اُسامہ بن لادن کا یہی قصورتھا کہ وہ اپنے ملک سے اور دوسرے اسلامی ملکوں سے امریکی فوجوں کو نکالنے کی بات کرتا تھا اس لیے امریکہ کا دشمن نمبر ون ٹھہر ا۔امریکہ نے سازش کے ذریعے خلیج کے اندر اپنے فوجوں کو رکھا ہوا ہے تاکہ دنیا کو تیل کے ترسیل کے راستے پراس کا کنٹرول قائم رہے۔ خود پاکستان اورکو افغانستان کو لڑانے کے منصوبے بنا رہا ہے ۔افغانستان کے صوبے نورستان میں سوات سے بھاگے ہوئے مولوی فضل اللہ نے 20 کلومیٹر کی دشوار پٹی پر اپنا قبضہ مستحکم کر لیا ہے آئے دن وہاں سے پاکستان کی سرحدی سیکورٹی فورسز پر حملے کیے جا رہے ہیں وہاں امریکی فوج بھی موجود ہے مگر وہ ان کو پاکستان کے سرحدی فورسز پر حملوں سے نہیں روک رہی وہ آئے دن ہماری سیکورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ چند دن پہلے ناٹو کمانڈر سے پاکستان کی شکایت کہ افغانستان سے پاکستان کی سرحدوں پر حملے ہو رہے ہیں ان کو روکا جائے ناٹو کے کمانڈر جواب میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ کے خلاف کاروائی کرے تب ہم یہ حملے روکیں گے؟ یہ ہے فرنٹ لین ملک / نان نیٹو اتحادی کے ساتھ نیٹو اتحادیوں کا معاملہ…امریکیوں نے مسلم ملکوں کو پرامن استعمال کے لیے ایٹمی قوت حاصل کی ہر کوشش کو سازشیوں کے ذریعے روکا تاکہ وہ کسی بھی وقت ایٹمی قوت نہ بن جائیں۔ عراق کی ایٹمی قوت پر اپنے بغل بچے اسرائیل سے حملہ کرواکے اسے تباہ کیا۔ اسی طرح لیبیا کے ایٹمی پروگرام کے پیچھے پڑ ا رہا اور اسے ختم کرنے کے لیے اتنا مجبور کیا کہ اس نے سارا ایٹمی سامان رول پیک کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا۔اسی طرح اب ایران کے پیچھے لگا ہوا ہے اس کو پرامن مقصد کے لیے ای
ٹمی قوت حاصل نہیںکرنے دے رہا۔ اس پر پابندیاں لگائی ہوئیں ہیں پاکستان کو قدرتی گیس فراہمی میں رکارٹ بنا ہوا ہے اور اپنی طفیلی ریاست پاکستان کے ذریعے طرح طرح کے روڑے اٹکا رہا ہے خود پاکستان جو اللہ کے فضل سے دنیا کی ساتویں اور پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن چکا ہے اس کے خلاف پوری عیسائی دنیا کو لا کھڑا کیا ہوا ہے اور اس کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ ہمارے سپہ سالار اس سلسلے میںامریکا کے صدر سے لکھ کرشکایت کر چکے ہیں جس کی تفصیل مقامی/ بین الاقوامی پریس میں بھی آچکی ہے دنیا کے تجزئیے نگار کہہ رہے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ختم نہیں تو کم از کم بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کے پروگرام پر عمل کررہا ہے ۔پورے پاکستان اور خصوصی طور پر دفاعی انسٹالیشن پر حملے ملک میں افراتفری امریکا کی پھیلائی ہوئی ہے۔ بلیک واٹر جو عراق اور افغانستان کے اندر تبائی پھیلانے کے لیے مشہور ہے اسے امریکہ پاکستان کے اندر استعمال کر رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سرکاری اداروںنے دبئی کے راستے بلیک واٹر ایجنٹوں کی آمد پر احتجاج کیا ہے تھااور وزیر اعظم کو خط بھی لکھا تھا کہ دبئی کے سفارتی مشن نے ان لوگوں کو پاکستان کے ویزے جاری کئے ہیں جن کو امریکہ میں پاکستان سفارت خانے نے منع کر دیا تھا اس کے باوجود پاکستان کے وزیر داخلہ صاحب کہتے ہیں پاکستان میں بلیک واٹر کا کوئی وجود نہیں ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق سی آئی اے کی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین کارل لیون نے محکمہ قانون سے کہا ہے کہ اس امر کا جائزہ لے کہ بلیک واٹر نے سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے ذیلی کمپنیوں کے ذریعے حکومت کو گمراہ تو نہیں کیا؟اخبار لکھتا ہے بلیک واٹر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے عراق اور افغانستان میں کئی پر تشدد واقعات میں ملوث بتائی جاتی ہے۔ بلوچستان میں حالیہ مزاحمت کے حوالے سے پاکستانی میڈیا میں رپورٹ آئی ہے کہ افغان خفیہ ایجنسی ’’خاد‘‘ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے اشتراق کر لیا ہے اور ایک نئی خفیہ ایجنسی ’’رام ‘‘ بنا لی ہے ۔اس نئی خفیہ ایجنسی کے ساتھ امریکہ کا الحاق ہے ذرائع کے مطابق بلوچستان میں بھی امریکا بھارت کے ساتھ مل کر مداخلت کر رہا ہے۔ جلال آباد میں بھارتی ایجنسی کا ہیڈ کواٹر ایک ہسپتال میں ہے۔یہاں اکثر قبائل سے لڑکوں کو گھیر کر لے جایا جاتا ہے۔ کوئٹہ اور ساحلی شہر گوادر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق افغانستان کے امریکی تسلط کے علاقوںمیں قائم10 سے زائد تربیت گاہوں پر بھارتی کمانڈوز کے علاوہ خطرناک امریکی ورلڈوائڈ نے جدید ترین اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے کی علمی تربیت فراہم کی ہے اطلاعات کے مطابق تربیت سے فارغ ہونے کے لیے بھی ’’ را‘‘ کے زیر انتظام اجلاس منعقد کئے جاتے ہیں جن میں انہیں باور کرایا جاتا کہ پاکستان سے علیحدگی کے بعد آزاد بلوچستان ملک بنایا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق بلوچستان میں اثر و نفوز بڑھانے کے لیے ’’رام ‘‘ نے بڑی تعدادمیں بلوچی ،افغانی ا ور بھارتی ایجنٹوں کو بلو چ قوم پرستوں کی صفوں میں داخل کر دیا ہے۔یہ ایجنٹ علیحدگی پسند عناصر کے درمیان رابطے تیز تر اور تربیت بھی فراہم کرتے ہیں ۔ جیسا کے اوپر بیان کیا گیا ہے کہ سابقہ افغان خفیہ ایجنسی ’’خاد‘‘ کی جگہ’’رام‘‘ نے لے لی ہے جس کے ایجنٹ40 ہزا ریکروٹس کو تربیت فراہم کر رہے ہیں’’ رام ‘‘کو امریکہ کی حکومت2014 ئ میںغیر ملکی افواج کے انخلا سے پہلے ایک طاقت ور اور تربیت یافتہ ایجنسی دیکھنا چاہتی ہے اور اس کو امریکی حکومت فنڈز فراہم کر رہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے امریکا کی سینیٹ کی ایک رکن نے ایک قراداد امریکی سینٹ میں پیش کی تھی کہ امریکی سینیٹ کا وفد بلوچستان کے حالات معلوم کر نے کے لیے بھیجا جائے اب مغرب کی لونڈی اقوام متحدہ کا وفد بلوچستان کے اندر معلومات کے آ رہا ہے جو ہمارے ملک کے اندر مداخلت کے زمرے میں آتا ہے اقوام متحدہ اس آڑ میں امن فوج بھی بھیج سکتی اور پاکستان کچھ نہ کر سکے گا ۔ پاکستان کو ان سے کوئی خیر کی توقع نہیں رکھنے چاہیے۔کچھ عرصہ پہلے پاکستانی یڈیا کے ذرائع نے انکشاف کیاتھا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کی نئی وارداتیں شروع ہوئی ہیں سندھ میں ریل ٹریک کی تباہی اورخیبر پختون میں ریموٹ کنٹرول بموں کے استعمال کا طریقہ کار بتاتا ہے کہ دہشت گردی کی ان وارداتوں میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں ۔پانچ ملکوں کے سات ادار ے پاکستان میںانتشارپھیلارہے ہیں۔این جی اوز کی بڑی تعداد ان کے پے رول پر ہے۔امریکی اور دیگر ممالک کے ترقیاتی ادارے بھی پیش پیش ہیں اس کی مثال چند ماہ قبل پشاور میںجرمن ترقیاتی ادرارہ کی آڑ میںجرمن انٹیلی جنس کے لوگوں کی گرفتاری تھی۔جس پر خود جرمن حکومت میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور انٹیلی حکام سے باز پرس کی گئی کی انہوں ترقیاتی ارارے کو کیوں استعمال کیا۔اسی طرح ناروے کی حکومت کا بھی معاملہ ہے جس پر اس کی رکن پارلیمنٹ کو پاکستان میں ناروے فوج کے خفیہ ادارے کے حکام جاسوسی کا کام کر رہے ہیں کے بیان کو غلطی سے بیان کر دینے پر پارلیمنٹ کی رکنیت سے استفیٰ دینا پڑا۔ آج کی میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے بچوں کی امداد کی عالمی تنظیم ’’سیودی چلڈرن‘‘ کے غدار وطن ڈاکٹر شکیل آفریدی سے رابطے ثابت ہونے پر ملک بدری کا حکم دے گیا ہے اس تنظیم نے غدار وطن سے مل کر پاکستان کے خلاف جاسوسی کی ہے جو ثابت ہو گئی ہے۔ دس سے زائد ایسے لوگ پکڑے جا چکے ہیں یا مارے جانے کے بعد ان کی لاشیں ملی ہیں جو کہ نہ پاکستانی،نہ افغان تھ
ے بلکہ وہ بھارتی تھے۔ ان سے سیٹلائٹ فون پکڑے گئے جو بھارتی انٹیلی جنس کے افسروں کے نام حاصل کئے گئے ہیں ایجنٹوں کی بھرتی کے لیے خوست اور جلال آباد میں اسٹیشن قائم کیا گیا ہے سی آئی اے ،موساد اور را نے مشترکہ حکمت عملی اپنا رکھی ہے۔امریکی فورسز کی خطے سے روانگی سے قبل دشمن ایجنسیاں پاکستان پر بھرپور وار کرنا چاہتی ہیں دو ماہ میں پانچ کے قریب غیر ملکی تعلقات رکھنے والے دہشت گرد گرفتار ہوئے ہیں۔لندن میں ایک سندھی نوجوان کے فلیٹ کے اندر دہشت گرد حیر بیار اور دیگر بلوچ دہشت فردکی را کے افسروں سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں بعد میں کراچی میں ان کا ہیڈ کواٹرپکڑا گیا تھا جس کے سبب دہشت گردی کی کا ایک منصوبہ ناکا بنا دیا گیا تھا۔اسی طرح حیدر آباد سے پکڑے گئے را کے بھارتی ایجنٹ نے بھی اہم معلومات فراہم کی ہیں۔دریں اثنا ایک امریکی تھنک ٹینک مڈل ایسٹ میصیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ پاکستان تصادم ہو سکتا ہے اس مقصد کی خاطر امریکی پاکستان کو اندرونی طور پر انتشار کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں2009 ئ میں پاکستان کے خفیہ ادرارہ آئی ایس آئی کے سربراہ احمد شجاع پاشا نے سی آئی اے کے سربراہ لیون پینٹا کے سامنے متعدد ایسے ثبوت پیش کئے تھے جن میں سی آئی اے کی پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت ثابت ہوتی ہے سال2009ئ کے آخر میں اردن سے تعلق رکھنے والے ایک باشندے نے جو سی آئی اے کے لیے کام کرتا تھا خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا اور اپنے ساتھ کئی امریکیوں کی ہلاکت کا سبب بنا۔اس واردات سے ثابت ہوا تھا کہ امریکی کس طرح دنیا بھر سے اپنے اہلکاروں کو پاکستان کے اندر کاروائیوں کے لیے اکٹھا کرتے تھے۔یہی پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی کا ایک محرک بھی ہے۔ ڈرون حملوں کے بار ے میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف اپنے دور میں ہونے والے ہر ڈرون حملے کی پیشگی منظوری دیتا تھا مگر۔این آر او زدہ جمہوری حکومت آنے پر پیشکی اطلاع کا سلسلہ ختم کر دیا گیا اب یہ اختیار سی آئی اے کے ہاتھ میں ہے زرداری صاحب سے کوئی پیشکی اجازت نہیں لی جاتی ۔یہ صرف سخت زبان استعمال کرتے ہیں نجی طور پر خاموش ہیں بلکہ کچھ عرصہ پہلے یہ خبر بھی اخبارات کی زینت بنی تھی کہ ڈرون حملوں کے پاکستانی رد عمل پر امریکی پریشان ہوتے ہیں مجھے تو اس پر کوئی پریشانی نہیں۔میڈیا میں تازہ خبر آئی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے پاکستان کے غدار ڈکٹر شکیل آفریدی کے تبادلہ اورڈروں حملے بند کرنے کی بات ہو رہی ہے ۔ پاکستانی میڈیا کو امریکی فنڈنگ کے ذریعے پاکستان میں فحاشی عریانی اور بے حیائی پھیلانے کے لیے استعمال کے جا رہا ہے میڈیا کے لوگوں کو سفارت خانوں میں مادر پدر آزاد مخلوط دعوتوں کے ذ ریعے جس کی قابل اعتراض تصاویرں میڈیا میں شائع ہو چکی ہیں اور ان کو بیرونی دوروں اور نقد انعامات کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے۔ان سارے کاموں میں حکومت کی رضامندی شامل ہوتی ہے۔ روسی ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ نے پاکستانی میڈیا کو 50 ملین ڈالر دئیے جو پاکستانی میڈیا میں تقسیم کئے گئے۔ این جی او ز کو امریکی فنڈئنگ تو ساری دنیا پر عیاں ہے کہ کس طرح بیرونی آقائوں کے لیے کام کرتی ہیں۔ این جی اوزپاکستان میں انسانی حقوق کے خلاف نت نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔ کبھی حدود آڑینس کی مخالفت، میراتھن ریس کی حمایت، کبھی اقلیتوں کے حقوق اور کبھی چائلڈ لیبر پر پروپگنڈہ کیا جاتا ہے تاکہ پاکستان پر پرئشیر ڈال کر اس کو مغرب کی طرح مادر پدر آزاد معاشرے میں تبدیل کر دیا جائے جس میں ہم جنسوں کی شادیاں ، ولیننٹن ڈے اورمغربی طرز کا سیکسی معاشرہ قائم کی جائے ۔ مغرب میں40فی صد بچے بغیر جائز نکاح کے آزادانہ مرد عورت کے ملاپ سے پیدا ہوتے ہیں ان کو اپنے پاپوں کی تلاش رہتی ہے۔ امریکیوں کی پاکستان میں آزا دانہ چلت پھرت نے پاکستان کی سیکورٹی اداروں کو پریشان کر رکھا ہے ۔ خبریں پاکستانی میڈیا میں آتی رہی ہیں کہ لاہور میں امریکی بغیر پلیٹ نمبر اور بعض دفعہ جعلی نمبر پلیٹ گاڑی چلاتے ہوئے ہماری پولیس نے کئی دفعہ گرفتار کئے بعد میں سفارت خانے کی مداخلت پر چھوڑ دئیے گئے۔ حال ہی میںپشاور میں ایئر پورٹ سے مسلح امریکی گرفتار کیا گیا جو پی آئی اے کی پرواز پی کے28 کے ذریعے اسلام آباد جا رہا تھا جس کے پا س بیگ میں نائن ایم ایم کی۷۱ انتہائی زہریلی گولیاں برآمد ہوئیں پشاور کے غربی پولیس نے تفتیش کی ۔اس نے کہا میں سفارت کار ہوں بعد میں چند گھنٹوںکے اندر اندر رہا کر دیا جو زمینی راستے سے اسلام کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس سے قبل بھی پشاور میں کئی امریکی گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ معمولی تفتیش کے بعد ان کو رہا کر دیا جاتا ہے۔ کیا کوئی ہے جو اس سے معلوم کرے کہ ممنوعہ گولیاں آپ نے کیوں رکھی ہوئی ہیں؟ اس جیسی ممنوعہ زہریلی گولیا ں ر یمنڈ ڈیوس امریکی سی آئی کے جاسوس سے بھی برآمد ہوئیں تھیں جن کو استعمال کر کے 2پاکستانیوں کو شہید کیاگیاتھا۔گمان ہے ایسی ہی زہر آلود گولیوں سے ہی امریکی قونصلیٹ پر تعینات محمد صدیق نامی ایف سی اہلکار گولی لگنے سے جان بحق ہو گیا اسی طرح 9 جنوری کو کراچی میں قونصلیٹ کے باہر سیکورٹی چیک پوسٹ پر تعینات سب انسپکٹر انور علی شیخ بھی پر اسرار گولی لکھنے سے ہلاک ہو چکا ہے کیا کوئی ادراہ ہے جو ان بے گنائوں کی موت کی تحقیق کرے کہ ان کی موت کیسے واقع ہوئی؟5 جون امت رپورٹ کے مطابق امریکی سفارتخانے کی 2 گاڑیوں سے ناجائز اسلحہ برآمد ہواجوملا کنڈ ایجنسی سے پشاور آرہے تھے تلاشی پر
6 آٹومیٹک رائفلز،۴ پستو(رح)ل ، درجنوں میگزین اور گولیاں برآمد ہوئیں۔امریکیوں کے پاس پشاور داخلے کا این او سی بھی نہیں تھا ان کے ساتھی پاکستانی ہلکاروں کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا بعد میں پاکستانیوں کو شخصی ضمانت پر رہائی مل گئی اور امریکیوںکو بھی سفارتی اسثنیٰ پر رہائی مل گئی۔ دوسرے واقعے میں دوگاڑیوں میں سوار تین سفارتی اہلکاروں اور پاکستانی ملازمین کو پشاور ٹول پلازہ پر روکا گیا پولیس نے 4نائن ایم ایم پسٹل 4 سیمی گنوں سمیت بڑی تعداد میں میگزین تحویل میں لے لیے وزرات داخلہ کہ ہدایت پر امریکیوں کو چھوڑ دیا گیا ۔ ان دنوں باوجود کہ ناٹو سپلائی کا جھگڑا چل رہا تھا امریکی سفارت کار اتنے خودسرہو گئے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین سفارتی کشیدگی کے باوجود امریکی سفارتی اسٹاف کوئی نہ کوئی نیا ایڈونچر کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اسلام آباد سے پشاور آئی ہوئی سفارت کار ونسنٹ کیپوڈ،ٹموتھی ڈینل اور نائب قونصل جنرل پشاور سٹیسی لیون کارٹر دو گاڑیوں پر ڈرائیور احسان خان اور آصف خان کے ساتھ سیکورٹی انچارج منظور علی کے ہمراہ مالاکنڈ گئیں۔وائس چانسلر مالا کنڈ یونیورسٹی سے ملیں اور مزید لوگوں سے بھی ملاقاتیں کی جسے راز میں رکھا گیا۔ یہ واپس پشاور آرہیں تھیں تو راستے میں تیز رفتاری کی وجہ سے موٹر وے پولیس کی اشارے پر نہیںرکیں تو پشاور ٹول پلازا پر انہیں روک لیا گیااور انٹیلی جنس والوں کو بلایا گیا تلاشی کے دروران 4 نائن ایم ایم پستول ان کے 29 میگزین ۴ سیمی مشن گنز﴿ ایس ایم جی﴾ اس کے ساتھ36 میگزین اور بڑی تعداد میں مختلف بورز کے میگزین برآمد ہوئے اور یہ اسلحہ ان کے پاس موجود این اوسی سے کہیں زیادہ تھا انہوں نے چلنے کے وقت نہ این اوسی حاصل کیا ۔ڈرائیوروں کو تھانے میں پوچھ گچھ کے لیے روک لیا گیا۔اسلحہ پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا پشاور کی امریکی قونصلیٹ میری رچرڈ صاحبہ کی معذرت پر سفارت کاروں کو چھوڑ دیا گیا لیکن 3 پاکستانیوں کو روک لیا گیا اور جس پر امریکی ناظم الامور نے فوری طور پر ایوان صدر سے رابطہ کیا ور صدر مملکت سے مداخلت کی رخواست کی۔کچھ عرصہ پہلے میڈیا میں رپورٹ آئی تھی کہ پشاور سے اسلحہ سے بھرا ٹرک اسلام م آباد میں آیا اور پولیس نے پکڑ لیا ٹرک ڈرئیور نے بتایا حیات آباد سے ایک امریکی نے یہ ٹرک اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے کے لیے بھیجا ہے اس کے بعد اس معاملے کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ہم نے صرف چند واقعات درج کئے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق جب پاکستان کے قومی سلامتی ادروں کی طرف سے امریکیوں کو قانوں کا پابند بنانے پر وائٹ ہائوس چراغ پا ہو گیا ہے۔پاکستانی ادراروں کا کہنا ہے امریکیوں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ امریکی سفارت کاروں کی اکثریت سی آئی اے کے لیے کام کرتی ہے بغیر تصدیق کے ویزے جاری نہیں کر سکتے آمد کا مقصد بتانا ہو گا۔ ہر صورت اپنے مفادات کا تحفظ کرینگے۔ اس پرامریکی حکام نے82 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں امریکی سفارت کاروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے ان کو ویزے نہیں دئیے جا رہے۔مختلف منصوبوں کے لیے ان کی شپ منٹس کلیئر نہیں کی جا رہیں اور انہیں پاکستان بھر میں نقل و حرکت کی کھلی چھٹی نہیں دی جا رہی۔ قومی سلامتی کے ذرائع کے مطابق معا ہدے کے مطابق امریکی اپنے بندوں کے بارے میں تفصیل فراہم کرے گی مگر وہ اب بھی دھوکہ بازی کر رہے ہیں اور بے شمار سی آئی کے ایجنٹ سفارت کاروں کے کور میں پاکستان آ رہے ہیں۔امریکہ کی جانب سے پاکستان میں اپنے مخالفین خصوصاً حقانی نیٹ ورک وٰغیرہ کے خلاف حملوں کی خفیہ منصوبہ بندی کی اطلاعات کے بعد حالات میں بہتری کی کوئی امید دکھائی نہیںدیتی۔ان ناجائز سرگرمیوں کی وجہ سے امریکی سابق سفیر کیمرون منٹر کی سی آئی اے کے ساتھ اختلافات سامنے آئے تھے گو کہ وہ بظاہر منٹر اپنی لڑائی میں ہار چکے ہیں اورگو کہ ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس کو اکثر کیمرون منٹر کا حمایت یافتہ پایا گیا مگر امریکی حکومت کے فیصلے کے مطابق سفیر اور سی آئی اے کے اختلافات کی صورت میں آخری فیصلہ امریکی صدر اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر کو ہی ہو گا کیمرون منٹر صاحب اب امریکہ واپس جا چکے ہیں۔ 18 ماہ پاک امریکہ تعلقات ناٹو سپلائی بحالی کے بعد گو کہ کچھ صحیح ہو ئے ہیں مگر پھر بھی ڈرون حملوں کی وجہ سے کشیدگی بھی موجود ہے امریکہ میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔معروف امریکی جریدے کرسچن سائنس مانیٹر کا ایک رپورٹ میں کہنا ہے ذرائع ابلاغ کی کوششوں سے نیویارک پولیس ڈپارنمنٹ کی اس حرکت کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے کہ وہ امریکہ میں موجود مسلمانوں کی نگرانی کر رہا ہے ۔اس امر کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ،ایف بی آئی اور نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ کے افسران مقامی جاسوسوں اور پولیس کے ساتھ ساتھ مسلمان نوجوانوں کو بھی اس جاسوسی کے عمل میں ہم نوا بنائے ہوئے ہیں جو مساجد میں آنے جانے والوں اور بلخصوص قرآن کا درس سننے کے لیے آنے والوں کے بارے میں مکمل معلومات پولیس کے متعلقہ انٹیلی جنس ڈپا ر ٹمنٹ کو فراہم کرتے ہیں۔نیویارک پوسٹ کا کہنا ہے کہ امریکی مسلمانوں نے نیویارک پولیس کے خلاف نیو جرسی کی ایک مرکزی عدالت میں مقدمہ کر دیاکہ نائن الیون کے بعد سے جاسوسی کی جا ری ر ہے۔مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک امریکی آئین کے منافی ہے۔ خوف اورجاسوسی کی وجہ سے نوجوان مساجد،مدارس اور کمیونٹی اسکولوں میں نہیں آتے۔ نگرانی بند کرائی جائے عدالت سے اسدعا۔اس مقدمے کی وکالت امریکی مسلمانوں کی نمائندہ تنظ
یم ،مسلم ایڈوکیٹس کے وکلا کر رہے ہیں۔جو مسلمانوں کو قانونی امداد فراہم کرتی ہے نیویارک پولیس ڈپارنمنٹ کا اصرار ہے کہ مسلمانوں کی جاسوسی جاری رہنی چاہیے۔ان کے ترجمان پال برائون کا استدلال ہے امریکہ کیا پوری دنیا میں مسلمانوں کی نگرانی جاری رہنا چاہیے تاکہ نائن الیون جیسا واقعہ دوبارا نہ ہو۔قارئین !یہ بات تو صحیح ہے ہر ملک اپنے اپنے مفادات کے لیے کام کرتاہے اور اسے کرنا بھی چاہیے مگر کچھ بین الاقوامی اصول بھی ہیں جن کی پاس داری بھی قوموں کے تعلقات میں ضروری ہیں۔ امریکہ کے لیے تو مشہور ہے اس کی دوستی اس کی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے….ہم امریکہ کے پاکستان بننے کے فوراً بعد دوست بنے امریکہ اور پاکستان کی دوستی میں امریکہ پاکستان سے تو اپنے کام کرواتا رہا مثلاً روس کے خلاف یو ٹو کی پشاور سے اڑان ،افغانستان میں روس کو شکست دینے کے لیے لڑائی میں شرکت وغیرہ مگر خود سوائے اسلحہ فروخت کرنے کے کسی بھی کام نہیں آیا۔ اور اس میں امریکی کی طرف سے طوطا چشمی ، دغہ اور فریب کے علاوہ ہمیں کچھ نہیں ملا۔ 1965ئ کی پاک بھارت جنگ میں ہمیں فالتوں پرزوں کی ترسیل روک کر ہماری پیٹھ میں چھرا کھونپا۔1971 ئ کی پاک بھارت جنگ میں اس کا بحری بیڑا پاکستان کے کام نہ آیا کیا کسی اتحادی سے ایسا سلوک جائز ہے جبکہ اس جنگ میں روس نے اپنے اتحادی بھارت کی ایٹمی آبد وزوں/کشتیوں پاکستان کی سمندری حدود میں رکھ کر مدد کی ۔ ایف سولہ طیاروں کی نقد رقم لینے کے باوجود وقت پر سپلائی نہیں کی اور رقم بھی واپس نہیںکی بعد میں کچھ جہاز دئیے۔ایٹمی مسئلہ پر ہماری ناک میں دم کئے رکھا اور اقتصادی پابندیاں لگائیں اب بھی ہمارے خلاف سازشیں کر رہا ہے ہمارے ملک کو اپنی جنگ میں دکھیل رہا ہے ہمیں پہلے ہی اس جنگ میں90 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے کیا کیا بیان کیا جائے۔ہم اپنے کالموں میں بار بار مقتدر حلقوں سے درخواست کرتے رہے ہیں کہ قرآنی ہدایات کے مطابق یہود و نصارا مسلمانوں کے ہر گز دوست نہیں ہو سکتے مگر ہمارے مغرب زردہ حکمرانوں کی سمجھ میں نہیں آرہا… ہم پھر مقتدر حلقوں سے گذارش کرتے ہیں کی امریکی جنگ سے باہر نکل آئیں اپنے لوگوں کی 80 فی صد ر ائے جو امریکہ کے خلاف ہے کا احترام کریں ورنہ ملک مذید دلدل میں پھنس جائے گا اور پاکستانی عوام تحریر چوک بنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے آمین۔

یہ بھی پڑھیں  زائد المعیاد شناختی کارڈ رکھنے والے شہریوں کوووٹ کی سہولت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker