تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

بیسویں صدی والا نظریاتی پاکستان کہاگیا؟

تاریخ کے اوراق پر جب نظر جاتی ہے تو دل میں ایک ہوک سی اُٹھتی ہے کہ کیا یہ وہی ملک پاکستان ہے ۔جو بیسویں صدی کا اہم ترین واقعہ تھا ۔جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے شمار خواب اپنی آنکھوں میں سجا رکھے تھے ۔اسلامی ریاست قائم کرنے کے دن رات محنت کی اپنے بچوں کی قربانیاں دیں ۔اپنے وجود کے بوڑھے خون سے زمین کو سیراب کیا صرف اس لیے کہ ہم اپنے ایک اسلامی ملک میں رہ کر اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی زندگی اسلامی طریقوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے گزار یں گے ۔اپنا مذہب ہو گا اپنا ملک ہو گا ہر طرف سکون امن اور خلوص ہو گا ۔یہ وہ خواب تھے جو ہمارے بزرگوں نے اپنی آنکھوں میں سجا رکھے تھے ۔مگر افسوس کہ وہ صرف خواب ہی رہے زندہ و تعبیر نہ ہو سکے ۔جب ہم تاریخ پہ نظر ڈالتے ہیں تو کچھ اور نظر آتا ہے ۔جب موجودہ حالات پر نظر پڑتی ہے تو وہ تاریخ بھی ایک جھوٹ کی مانند لگتی ہے ہالانکہ حقیقت وہ ہی جو تاریخ ہمیں بتاتی ہے ۔مگر ہمارے موجودہ نظام نے ہمیں تباہ برباد کر دیا ۔ہمارے تاریخی نقوش کو مسخ کر دیا ۔ہماری ثقافت تہذیب و تمدن بجائے اس کے کہ ہم الگ کرتے ہم نے ان کے ساتھ ہی ملا دی ۔سارے کا سارا نظام بدل چکا ہے ۔ہمارے بزرگوں کی روحیں تڑپتی ہوں گی ۔جن کے خوابوں کو چکنا چور کیا ۔پاکستان تو ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا تھا اور نظریہ وہ ہی ہے ۔جو ہمارے بچے پہلی کلاس سے پڑھنا شروع کرتے ہیں اور آگے آگے اسی نظریے کی تشریح پڑھتے جاتے ہیں ۔مگر شاید صرف امتحان دینے کی حد تک ۔کیونکہ اس میں عمل کی جھلک نظر نہیں آتی ۔
پاکستان کی بقاء کی ضمانت صرف اور صرف اسلامی نظریہ ہی ہے ۔پاکستان میں بولی جانے والی زبانیں الگ الگ ہیں یہاں دنیاوی لحاظ سے کئی قومیں بھی بن چکیں ہیں ۔کسی نہ کسی حد تک ثقافت و کلچرمیں بھی اختلاف ہے مگر اس قدر نہیں کیوں کہ ہم مذہبی لحاظ سے ایک ہیں یعنی مسلمان اور اس وقت بھی ہمارا نظریہ اسلام اور اسلامی ریاست ہی ہونا چاہیے ۔مگر افسوس ایسا اب کہیں نظر نہیں آتا ۔لسانی یا قومیت کی تفریق اپنی جگہ سہی مگر ہمارا اس وقت نہج و نظریہ کیا تھا اس کو ہمہ وقت یاد رکھنے کی ضرورت ہے ۔اگر ہم اپنا نہج یاد کر لیں تو ہمیں وہ خون بھی نظر آئے گا جو ہمارے بڑوں نے اپنی اس اسلامی ریاست کے حصول کے لیے مختلف جسمانی حصوں سے بہایا تھا ۔وہ چہرے بھی چشمِ تصور میں آ جائیں گے جنہوں نے اپنے جگر پاروں کو کوہایا تھا ۔وہ مائیں بھی یاد آجائیں گی جنہوں کی پاکدامن بیٹیوں کی عصمتیں لٹیں تھیں۔جو گہرے زخم اس وقت لوگوں نے اپنے جسم پر سہے مگر ان میں درد شاید بہت کم تھا اس لیے کہ انہیں ایک امید تھی اور امید کی خوشی تو بہت زیادہ ہوتی ہے ۔امید کی خوشی تمام دکھ غم بھلا دیتی ہے ۔
مگر ان کی روحوں کو جو زخم آج لگ رہے ہیں وہ شایداس وقت سے زیادہ کربناک اور درد ناک ہیں۔جو آج ہم انہیں دے رہے ہیں ۔اس وقت کیا صورتِ حال تھی جب پاکستان ابھی بچپن میں تھا یعنی ابھی نیا نیا بنا تھا ۔اور ابھی بے شمار مسائل میں گرا ہوا تھا ۔مگر اس وقت کے لوگوں کے مثبت اندازِ فکر اور اعلیٰ سوچ اور ایک دوسرے کے خلوص کی وجہ سے یہ مسائل مسائل نہ رہے ۔مہاجرین جو اپنا سب کچھ لٹا کر آ رہے تھے ان کے لیے مقامی لوگ پھولوں کے ہار لیکر کھڑے تھے ۔ہجرتِ مدینہ کا وہ پر خلوص مناظر دیکھنے کو ملے ۔ کہ ایک دوسرے کے لیے لوگ اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار کھڑے تھے ۔آج ہم اس ملک سے اور یہاں کے نظام و قانون سے تنگ آ کر بھاگ رہے ہیں ۔جن کے پاس سرمایہ ہے وہ اپنا سرمایہ باہر کے ملکوں میں لگا کر ان کی معیشت کو مظبوط کر رہے ہیں متوسط طبقہ پاکستان میں ہی اپنے ہاتھ پاوں مار کر گھر کا چولہا جلا رہے ہیں ۔غریب لوگ گندگی کے ڈھیروں سے اپنے پیٹ کا ایندھن تلاش کرتے نظر آتے ہیں ۔اور ہمارے حکمران یورپی ممالک میں اپنے محلات تعمیر کرنے میں مصروف عمل ہیں آج میں اور کل میں کتنا فرق ہے ۔کہاں گئے وہ لوگ جو ایک دوسرے کے لیے جذبہ ایثار سے سرشار تھے کہاں گیا وہ بیسویں صدی والا پاکستان ۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: 6مسلح افراد کی زبردستی محنت کش کی جواں سالہ بیٹی کو اغوا اورزیورات اور نقدی لوٹ کر فرار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker