انور عباس انورتازہ ترینکالم

پاکستان کی سلامتی ۔۔۔ سانحات کی زد میں

anwar abasاب وقت آ پہنچا ہے کہ ہمیں پاکستان اور اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ پاکستان کب تک ان سانحات کو برداشت کرنے کا متحمل ہوتا رہے گا۔ہمارے ضمیر کو جنجوڑنے کے لیے کوئیٹہ کے دو سانحات کیا کم تھے۔لیکن ہم نے خود اور اپنے ضمیر کو جگانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اگر ہم جاگتے ہوتے تو سانحہ عباس ٹاؤن اورلاہور کی جوزف کالونی کو جلا کر خاکستر بنانے کی نوبت نہ آتی۔ لیکن شائد ہمارے غیر سنجیدہ حکمرانوں نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ لوگ مرتے ہیں تو مرتے رہیں ۔۔۔تباہی کے بعد انہیں ’’ قائد اعظم ’’ یعنی ایک لاکھ سے لیکر پانچ لاکھ روپے دیکر ان کا منہ بند کر دیا جائیگا۔۔۔ ان چاروں سانحات کے رونما ہو جانے کے بعد تینوں صوبائی وزرا ئے اعلی ،گورنر صاحبان اور وزرا سمیت کسی کو بھی اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ جائے وقوعہ پر جاکر متاثر ین سے اظہار ہمدردی کرتے ۔عوام کی حفا ظت پر مامور سرکاری حکام خصوصا پولیس تو اتنی بے حس ہو چکی ہے ۔جس کے بارے میں کہا جاتا ہے ’’پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی’’ سانحہ عباس ٹاؤن کے وقت وزیر سندھ کی ایک مشیر کی منگنی کی تقریب کے شرکاء کی حفاظت میں اتنی مگن رہی کہ موقعہ پر کوئی پولیس افسر نہ پہنچ سکا۔یہاں بادامی باغ لاہور کی جوزف کالونی جو ڈی ایس پی پولیس اورپولیس تھانے سے محض چند گز کے فاصلے پر ہونے کے باوجود کوئی پولیس اہلکار بے کس و مجبور مسیحی برادری کی مدد کو نہ پہنچا۔۔۔اس قدر جائے وقوعہ کے قریب ہونے کے باوجود پولیس نصف گھنٹے تک موقعہ پر نہ پہنچنا باعث حیرت ہے۔۔۔وہ بھی وزیر اعلی پنجاب کی حکمرانی میں۔۔۔ اخباری رپورٹر کی رپور کے مطابق تھانے کا ایک سب انسپکٹر ڈی ایس پی اور اپنے ایس ایچ او کو اطلاع کرنے کی جدو جہد کرتا رہا مگر ان دونوں پولیس افسران نے کال سننے کی زخمت ہی گوارہ نہ کی ۔۔۔ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں پولیس افسران بھی سانحہ عباس ٹاؤن کی طرح کراچی پولیس بھی کسی وی آئی پی ڈیوٹی پر مامور ہوں۔۔۔ایسے سانحات کو اس وقت تک رونما ہونے سے نہیں روکا جا سکے گا جب تک ہم اور ہمارے حکمران اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات پر پاکستان اور اسکے مفادات کو ترجیح نہیں دیتے۔۔۔دو عملی کو اپنے دماغ سے نکال باہر نہیں کرتے ۔۔۔ذاتی پسند اورت نا پسند کو ترک نہیں کر دیتے ۔۔۔یہ دو عملی نہیں تو اور ایک ہے کہ اگر وزیر اعلی سندھ سانحہ عباس ٹاؤن کے متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان کرتا ہے تو اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جائے اور اس فعل کو عوام کے مرہموں پر نمک چڑکنے کے مترادف قرار دیا جائے اور اگر وزیر اعلی پنجاب جوزف کالونی میں مذہبی انتہا پسندوں کے ظلم اور بربریت کا نشانہ بننے والے مسیحی برادری کو دو دو لاکھ روپے مالی امداد دینے کا اعلان کرتا ہے تو اسے ان کی عوام سے محبت کا نادر نمونہ بنا کر پیش کیا جائے۔۔۔وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ کے عباس ٹاؤن موقعہ پر نہ پہنچنے کی غفلت پر میڈیا طوفان مد تمیزی برپا کر دے لیکن جب وزیر اعلی پنجاب جوزف کالونی نہ جائے تو میڈیا کو سانپ سونگھ جائے ۔۔۔۔ اگر وفاقی حکومت اپنے کسی سرکاری افسر کو او ایس ڈی بنائے تو سپریم کورٹ از خود نوٹس لیکر اسے لائن حاضر کر دے اور جب پنجاب حکومت درجنوں کے حساب سے اپنے افسران کو او ایس ڈی بنائے توسپریم کورٹ اپنی آنکھوں پر سیا ہ پٹی باندھ لے۔۔۔ یہ کہاں کا انصاف ہے۔۔۔ وزیر اعلی پنجاب نے کہا ہے کہ’’ مسیحی برادری کا تحفظ میں خود کروں گااورتوڑ پھوڑ کرنے والوں کو معاف نہیں کیاجائیگا۔’’ سابق وفاقی وزیر علامہ حامد سعید کاظمی اور حاجی حنیف طیب نے مسیحی بستی کا جلانے کے واقعہ کو پنجاب حکومت کی نا اہلی قرار دیا ہے ۔جبکہ ایم پی اے پرویز رفیق نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب حکومت اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوئی۔۔۔ مسیحی برادری کا کہنا ہے کہ پولیس کی غفلت اور لا پرواہی کی وجہ سے گھروں اور چرچ کو آگ لگائی گئی ہے۔وزیر مملکت برائے قومی ہم آہنگی اکرم مسیح گل اور رکن صوبائی اسمبلی انجینئیر شہزاد الہی نے جوزف کالونی میں مسیحی بستی کے گھیراؤ جلاؤکی مذمت کرتے ہوئے اسکی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد کی ہے اور کہا کہ پنجاب حکومت مسیحی برادری کے تحفظ میں ناکام ہو گئی ہے۔انہوں نے الزام لگا یا ہے کہ دو روز سے جاری کشیدگی کے باوجود پنجاب حکومت نے مسیحی آبادی کو بلوئیوں کے رحم و کرم چھوڑ دیا۔وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے واقعہ کی جوڈیشل انکوائیری کروانے حکم قابل تعریف ہے۔ سوال پھر وہی ہے کہ انکوائیری کروانا بڑی بات نہیں انکوائیری کروانے کے بعد انکوائیری رپورٹ کو شائع کرنا اور اس پر عمل درامد کرنا اہم ہوتا ہے۔وزیر اعلی پنجاب کی خدمت میں عرض ہے کہ جناب عالی اس سے قبل گوجرہ میں بھی ایک اسی قسم کا واقعہ رونما ہوا تھا اور ایک انکوائیری کروائی گئی تھی لیکن اس انکوائیری رپورٹ کیا کیا بنا۹ کتنے ذمہ داروں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا گیا؟ سانحہ گوجرہ کے زمہ دار ٹھرائے گئے کتنے افسران کو اعلی عہدوں پر تعینات کیا گیا؟ مجھے قوی امید ہے کہ وزیر اعلی پنجاب متاثرہ مسیحی آبادی کی تعمیر نو اور مسیحی عوام کے کاروبار کی بحالی کے لیے اسی جوش اور جذبے اور تندہی سے کام کریں گے جس جوش ،جذبے اور تندہی سے انہوں نے میٹرو بس پروجیکٹ پر کام کیا ہے۔اگر ایسا کیا گیا تو مسیحی برادری کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا ہے ورنہ ان کے بیانات کو سیاسی سٹنٹ ہی قرار دیا جائیگا اور مخالفین کو باتیں بنانے کا بہانہ بھی۔ اپنے حافظ سعید لشکر طیبہ والے کہتے ہیں کہ اسلام اقلیتوں نے حقوق کا حکم دیا ہے۔جناب حافظ سعید صاحب۱ آپ نے بجا فرمایا ہے کہ اسلام اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا حکم دیا ہے ۔مگر ان کے حقوق کا تحفظ کس نے کرنا ہے ؟یہ ذمہ داری حکومت اور علمائے کرام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ انتہا پسند کی ترویج او ر اسے فروغ دینے کی بجائے اسے روکنے میں اپنے فرائض ادا کریں۔اگر ہمارے علمائے دین نے اپنے اس فرض کی ادائیگی کی ہوتی تو جوزف کالونی میں مسلمان مسیحی برادری کے گھروں میں گھس کر پہلے لوٹ مار نہ کرتے اور نہ ہی انہیں جلاتے۔۔۔میں یہاں پاکستان میں بسنے والی مسیحی برادری کے جذبہ حبالوطنی کی تعریف کیے بنا نہیں رہ سکتا کیونکہ اگر مسیحی برادری بھی پاکستان کو خاکستر بنانے کے لیے دشمن کے منصوبے کا حصہ بنتے ہوئے جوابی کارروائی گھراؤ جلاؤکرنا شروع کر دیتے تو پاکستان میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والی مذہبی خانہ جنگی شروع ہو چکی ہوتی۔۔۔ہم اور ہمارے سیاسی ،مذہبی راہنمایان قوم کب بیدار ہونگے؟ کب ہوش میں آئیں گے؟ ہم کب اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات پر پاکستان کی سلامتی ترجیح دیتے رہیں گے؟سوچیے زرا اے راہنمایان قوم ۔۔۔سوچئیے زرا اے راہنمایا ن مذہب سو چئیے اور اس قدر یاد رکھیے کہ جس آزادی سے ہم آج دندناتے پھر رہے ہیں وہ اس پاکستان کی بدولت ہی ہے اگر خدا نا خواستہ پاکستان کو کچھ ہو گیا تو نہ یہ آپکی حکمرانی رہے گی اور نہ ہی ہذہبی راہنماؤ ں کی یہ مذہبی اجارہ داری رہے گی۔۔۔اس لیے اس پاکستان کی خیر خواہی کو سب چیزوں سے عزیز ہونی چائیے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button