تازہ ترینجاوید صدیقیکالم

عنوان: پاکستان کس نظام کیلئے بنا تھا۔۔۔!!

javidمعروض پاکستان کی جانب اگر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں مولانا شوکت علی جوہر، مولانا محمد علی جوہر، سرسید احمد خان کی شخصیات کے وہ پہلو سامنے آجاتے ہیں جنھوں نے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں علم و شعور کو بیدار کرنے کیلئے اپنی تمام تر کوششیں صرف کردی تھیں گو کہ اُس وقت کے نام نہاد دینی ملاؤں نے شدید مخالفت کا بازار گرم کردیا تھا لیکن یہ لوگ سیسہ پلائی دیوار کی طرح اللہ اور اس کے حبیب کی رضا کیلئے اس قوم کو تعلیم و شعور سے بہرہ مند کرنا چاہتے تھے وقت اور تاریخ نے بتایا کہ ان کی مسلسل نیک نیتی اور صحیح خطوط پر کام کرنے سے منزل حاصل ہو جاتی ہے۔ سرسید احمد خان نے بھانپ لیا تھا کہ ان انگریز سامراج کے جانے کے بعد اگر قوم کو دنیا میں اپنا مقام بنانا ہے تو اُسے بہتر تعلیم اور اعلیٰ شعور سے مامور ہونا پڑیگا تاکہ بعد کی نسلیں شعور کے فقدان کی بناء پر پھر پستی و غلامی کا شکار نہ ہوجائیں ۔ویسے بھی علم و شعور کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن الحکیم الفرقان المجید میں بار ہا بار امت محمدی کو علم و شعور کو حکم فرمایا خود نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم نے تعلیم کے حصول کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور حکم فرمایا کہ تعلیم حاصل کیلئے کیلئے دور دراز کا سفر کرنے کیلئے بھی اجتناب نہ کرو! سرسید احمد خان نے بھارت کے شہر علی گڑھ میں مسلم یونیورسٹی کا قیام کیا ۔ اس درسگاہ سے لاکھوں مسلم نوجوان اور بچے تعلیم کے زیور سے مستفیض ہوئے۔ سرسید احمد خان نے علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کو اس طرح ڈیزائن کیا تھا کہ کہیں بھی معمولی کی اعلیٰ ترین تعلیم میں کمی نہ رہ جائے یاد رہے تحریک پاکستان میں سب سے زیادہ اس ہی یونیورسٹی کے طالبعلموں نے دوران تعلیم گاؤں گاؤں ، شہر شہر قائد اعظم محمد علی جناح کی سرپرستی میں تحریک پاکستان کو پروان چڑھایا۔ سیاسی و سماجی شعور مولانا شوکت علی جوہر اور مولانا محمد علی جوہر نے اس قوم میں پیدا کیا ۔ در حقیقت تحریک پاکستان اُس وقت سے ہی شروع ہوگئی تھی جب انگریزوں نے مغلیہ بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی سلطنت پر قبضہ کرلیا تھا ۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انگلینڈ نے برصغیر کو سونے کی چڑیا سمجھتے ہوئے اس کے تمام قیمتی ذرات سمیٹ لیئے باقی ایسا سلسلہ پیدا کیا کہ ہمیشہ کیلئے اپنے کارندے بٹھا کر اس خطے کی دولت سمیٹتے رہیں گے۔ جب تقسیم کا وقت آیا تو اسی انگیز نے ہندوؤں سے مل کر ایسے اشو پیدا کیئے کہ جو نہ تو پاکستان کو کبھی بھی مستحکم ہونے کا سبب بنیں گے اور نہ ہی بھارت کیلئے ۔ اکثریتی مسلم خطوں میں اتر پردیش سب سے زیادہ تصور کیا جاتا تھا لیکن پاکستان کو بیابان ، ریگستان، پہاڑوں پر مشتمل حصہ دیا۔ اللہ کی نعمت کو سمجھتے ہوئے صبر سے کام لیا اور اسے قبول کیا یہ جان کر کہ ان خطوں میں ایک اللہ اور ایک رسول ﷺ کی اطباء کی جائیگی اور ایسا وطن عزیز بنایا جائیگا کہ جس مین بھائی چارہ، محبت، اخوت کا عنصر پیوست ہوگا الحمد للہ سب سے زیادہ سندھ کے لوگوں نے خوش آمد کیا جبکہ دیگر علاقوں میں اس قدر پزیرائی نہ ملی بحرحال پاکستان بن گیا ۔پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھا ایک مغربی پاکستان جس میں ہم رہ رہے ہیں دوسرا مشرقی پاکستان جو اب بنگلہ دیش کے نام سے دنیا میں موجود ہے ۔ پاکستان دو لخت کیسے ہوا؟ یہ ایک الگ مفصل بحث ہے لیکن یہاں اس بات کو قطعی رد نہیں کیا جاسکتا ہے جب بھی کسی کا استحصال ہوگا انجام ہمیشہ منفی ہی برآمد ہوگا۔ مانا کہ پاکستان کا پہلا آئین انیس سو چھپن میں بنا لیکن پاکستان کے وجود کی اساس اور کیفیت و حقیقت اسلامی نظام ہی تھا کیونکہ دو قومی نظریہ ہی مسلم اور ہندوتھا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح اپنی تقاریر میں بار ہا بار فرماتے تھے کہ اس خطے میں دو بڑی قومیں ہیں ایک ہندو مذہب پر دوسری دین اسلام پر ۔ ہم پاکستان اس لیئے چاہتے ہیں کہ وہاں ہم آزادی کے ساتھ دین اسلام کے اصولوں اور قانون کو نافذ کرسکیں مخالفین اس بات کو ہدف کرکے قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت پر نقسان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ بھول گئے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے کارکنانوں کی اولادیں ابھی زندہ ہیں وہ کبھی بھی قائد اعظم محمد علی جناح اور شہدائے تحریک پاکستان کی جانثاری کو برباد نہیں ہونے دیں گے اس سے پہلے دشمنان پاکستان کو نیست و نابود کردیں گے۔ اسلام نے سیاسی نظام دیا ہے لیکن پاکستان میں نظر نہیں آتا اس کی سب سے بڑی وجہ قائد اعظم محمد علی جناح کا جلد انتقال ہوا ہے اگر اللہ تبارک و تعالیٰ قائد اعظم محمد علی جناح کو پانچ سال مزید عطا کردیتا تو پاکستان دنیا میں آج امتیاز نظر آتا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح جانتے تھے کہ دنیا میں سب سے اعلیٰ ترین سیاسی نظام صرف اسلام نے دیا ہے جسے اپنانے سے کامیابیاں قدموں کو چومیں گی۔ اسلام کے سیاسی نظام کو تین اصولوں پر دیکھا جاتا ہے یعنی توحید (خدا کی وحدانیت)، رسالت(نبوت) اور خلافت (خلافت) پر مبنی ہے۔ یہ مکمل طور پر ان تین اصولوں کو سمجھنے کے بغیر اسلامی کی پالیسی کے مختلف پہلوؤں کی تعریف مشکل ہے۔(وحدانیت) توحید کا مطلب ہے کہ ایک اکیلے خدا اس کائنات کا اور جو کچھ اس میں موجود ہے خالق پروردگار ہے۔اسلامی ریاست کی خود مختاری صرف اللہ ہی کو زیب ہے۔ وہ واحد کمانڈ ہیاور تمام حق ،عبادات و اطاعت اسی اکیلے ہے۔ اکیلا خدا، خداہی ہے اور اس کے احکام اسلام کے قانون ہیں اور بنی پاک اللہ تبارک و تعالیٰ کے آخری رسول و نبی ہیں اور آپ کی سنت کی تکمیل ہی ا

یہ بھی پڑھیں  ملت کا پاسباں و اسلام کا نشاں محمد علی جناح

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker