تازہ ترینخان فہد خانکالم

پاکستان میں وجہ پسماندگی تعلیم

پاکستان ایک ترقی پذیرملک ہے جو ترقی کی راہ پر گا مزن ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے تعلیم اتنی ضروری ہے جتنی انسان کے زندہ رہنے کے لیے سانس ۔شرح خواندگی میںاضافہ کسی ملک کی ترقی کی پہلی شرط ہے اِس لیے 27نومبر1947قائداعظم نے کل پاکستان تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’پاکستان کی ترقی کا انحصارزیادہ تر طرزتعلیم پرہے‘‘ ۔یعنی ہماری ترقی صرف تعلیم کے میدان میں کامیابی سے ممکن ہے۔آج کے دور میںتعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ہمارے مذہب اِسلام میںتعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرداور عورت پر فرض قراردیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ترقی اُن کا مقدر بنی جن قوموںنے علم وتعلیم کی نئی راہیںتلاش کی اور بے شمار علم حاصل کیاتعلیم کو اپنا شواہ بنالیا۔جبکہ دوسری طرف جن قوموں نے تعلیمی راہ میں سُستی سے کام لیا وہ آج تک دنیا کہ ہر میدان میں پیچھے رہ گئی ہیں وہ آج دوسروں کے محتاج ہیں ۔اِس حوالے سے میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ تعلیم پاکستان کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔آج کل پاکستان کو بہت سے مسائل در پیش ہیں ۔ جیسا کہ بم دھماکے ہو رہے ہیں ،ڈکیتی اوراغواکی وارداتوں میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے ۔اِس ہی طرح معصوم بچوںسے زیادتی کے واقعات بھی ہورہے ہیں۔ مجرموں کو اُن کے کیے کی سزا ملنی چاہیے۔ سزا دے کر ہم صرف ایک فرد کو روک سکتے ہیںکہ وہ دوبارہ ایسا نہ کر ے ۔ مگریہ سزائیںاِن مسائل کا حل نہیں۔ اِن جرائم کی روک تھام ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ اِس طرح کے جرائم کو ختم کرنے کا بہت موثر طریقہ شرح خواندگی میں اضافہ ہے۔تعلیم سے محرومی کے بدولت لوگوں کو اچھے بُرے کی تمیز نہیں اور نہ ہی جائزوناجائز کا پتا۔آج کے دور میں ان پڑھ شخص کو کوئی نوکری وغیرہ نہیں ملتی محنت مزدوری سے بامشکل گھر کا چولھا جلتا ہے ۔اگرکسی شخص کو چند پیسوں کا لالچ دیا جائے تو یہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیںمثلاًچوری ،ڈکیتی سے لیکر قتل وغارت تک ۔اِن میں صرف تعلیم کی کمی ہے
حقیقت یہ ہے کہ خودکش بمبار،چور ،ڈکیت زیادہ تر اُن علاقوںسے تعلق رکھتے ہیںجہاں تعلیم جیسی بنیادی ضرورت نہ ہونے کے برابر ہے حکومت کو چاہیے کہ جن علاقوں میں شرح خواندگی بہت کم ہے وہاںکے لوگوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں۔ جیساکہ بانی پاکستان فرمایا ’’تعلیم پاکستا ن کے لیے زندگی اورموت کا مسئلہ ہے۔تعلیم کو عام کرنے میں ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ترقی اُنہیں قوموں کا مقدر بنتی ہے جنہوں نے علم و تعلیم کے حصول کواولین مقصد رکھا۔ جس کی زندہ مثال ہمارے ہمسایہ اور دوست ملک چین کی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین1949 میںوجود میں آیا۔شروع شروع میں اِس ملک کو کو ئی خاص اہمیت نہ دی گئی ۔بائیس سال تک چین کو فراموش کیا جاتا رہااور اِن بائیس سالوں میں چین کی عوام کو کافی حد تک مضبوط کر دیا تھا۔لوگوںمیںانفرادی طورپر تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیداہوا اور تعلیم کے حصول پر زور دیا جسکی بدولت چین ترقی کی راہ میں آگے نکل گیا۔جس کی وجہ سے دنیاچین سے اپنارویہ تبدیل کرنے پر مجبور ہو ئی۔آج چین ایک عظیم ملک بن گیا ہے۔ مگرپاکستان تعلیم کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہے اس لیے حکو مت کو چاہیے کہ تعلیمی اقدام کو مزید بہتر بنائے اورتعلیم کو گھر گھر پہنچائے ۔ بچے بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرے اس کے علاوہ ہمیںبھی ذاتی طور پر تعلیم کو عام کرنے کی مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہیے ۔ جب ہر فرد خوانداہ ہوگا تو خودبہ خود جرائم میں کمی آجائے گیاور پاکستان ترقی کی منازل تیزی سے طے کرے گا۔ ﴿انشااﷲ﴾

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو: ٹرانسفارمر خراب۔ شہریوں کو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker