تازہ ترینکالممیرافسر امان

پاکستان نے۲۰۱۲ء کیا کھویا کیا پایا!

mir afsarمملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سال ۲۰۱۲ء بھی حکمرانوں نے ضائع کر دیا ملک میں اسلامی دستور موجود ہے ملک کی اکثریت مسلمان ہے ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا ملک کی خاموش اکثریت صرف اور صرف اسلام چاہتی ہے مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا قا ئد اعظم ؒ کے پاکستان کا یہ سال بھی اسلام کا قانون نافذ کیے بغیر چلاتے رہے۔قائد اعظم نے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ کے تحت پاکستان حاصل کیا تھا اور ہندوستان کے مسلمانوں نے اس کی تاہید کی تھی قائد ؒ نے تحریک پاکستان کے دوران پاکستان میں اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے ۹۰ تقاریر کیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں مگر ہمیشہ کی طرح ایک تقریر کو سیکولر پاکستان کی دلیل بنانے کی اس سال بھی کوشش کی گئی جو قطعاً غلط ہے اور قائد ؒ پر الزام ہے۔امن کی آشا والوں نے اپنے ۲۰۱۰ء کے ٹی وی ٹاک شو کے اندر زیادہ تعداد میں سیکولر افراد کو بیٹھا کر رائے لی اور ووٹنگ کو چالاکی سے الٹ دیا ۶۰ فی صد پاکستان میں اسلام کے نفاذ کی رائے کوسیکولر کے نفاذ کی رائے میں بدل دیا تھا جس کو سفید جھوٹ ہی کہا جا سکتا ہے اس پورے سال بھی اپنے الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے بھی وہی جھوٹ دہراتے رہے ۔ لوگوں کے ذہنوں کو امریکا کے ایجنڈے کے مطابق اسلام کے خلاف کرتے رہے ،بے حیائی پھیلاتے رہے۔کاش ملک میں اسلامی فلاحی ریاست قائم کی جاتی جس میں بیرونی مداخلت نہ ہوتی، بلیک واٹر کے ایجنٹ ملک میں دہشت گردی نہ کرتے، ملک میں مغربی ملکوں کا جاسوسی کا نٹ ورک نہ ہوتا، ملک محفوظ ہوتا ، سودی نظام نہ ہوتا، عریانی اور بے حیائی نہ ہوتی، ہر شہری کی عزت نفس محفوظ ہوتی،قابلیت کے تحت ہر ایک کو ترقی کے مواقعے ملتے۔عدل کا نظام ہوتا، قرقہ وارانی اختلافات نہ ہوتے، لسانیت اور قومیت نہ ہوتی، ایک دوسرے کی گلے نہ کاٹے جاتے، امن و امان ہوتا،مہنگائی نہ ہوتی، بے روز گاری نہ ہوتی، ملک کے دو تہائی لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزرانے پر مجبور نہ ہوتے، غربت کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو فروخت کے لیے نہ پیش کرتے، گیس بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ ہوتی۔لوگ گاڑیوں میں گیس بھروانے کے لیے پٹرول؍گیس پمپوں پرمیلوں لمبی دو رویا قطاروں میں اپنی گاڑیاں کھڑی نہ کرتے۔ سب سے بڑی بات کہ پاکستان کے معاشی حب کراچی میں امن و امان ہوتا۔ کیا کیا بیان کیا جائے یہاں تو ہر چیزخراب ہے ملک اور غیر ممالک میں کرپشن کی کہانیاں عام ہیں… اتنی مدت گزرنے کے باوجود پاکستان اپنی منزل حاصل نہیں کر سکا لوگوں کے جذبات کی قدر نہیں کی گئی کچھ لوگوں نے تنگ ہو کر بندوق اُٹھا رکھی ہے ملک میں گوریلا جنگ جاری ہے کھربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے ۔ بندوق برداران سے مذاکرات نہیں کئے گئے بلکہ بیرونی ایجنڈے پر ہی عمل کرتے رہے ، مذاکرات کے راستوں میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ کرپشن،لوٹ گھسوٹ، اقراپروری، کرپٹ لوگوں کو عدالتوں سے سزا کے باوجود عہدوں پر فائز کرنے میں سال گزر گیا۔ اپنے ازلی دشمن بھارت کو موسٹ فیورٹ ملک( پسندیدہ ملک) قرار دینے کی سمت تیزی سے پیش رفت کی گئی ملک کی بھاری اکثریت کی مخالفت کے باوجود کل ہی امریکی ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کیا ہے کہ جلد بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دے دیا جائے گا…معیشت کا حال یہ کہ ایک ڈالرسو روپے تک پہنچنے والا ہے۔ بیرونی ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے کمسن بچی ملالہ کی شکل میں ملک کی عزّت داؤ پر لگائی گئی ٹرانس پرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن کے متعلق رپورٹ نے حکمرانوں کو بے نقاب کیا۔حال یہ ہے کہ روزانہ سترہ ارب روپے کی کرپشن کاریکارڈ قائم کر کے دنیا میں کرپٹ ہونے کی شہرت پائی جس کی تصدیق نیپ کے چیئر مین جوحکومت کے آدمی ہیں کے انکشاف پر سامنے آئی یعنی گھر کے بھیدی کی گواہی۔ ملک کی عدلیہ کی حکومتی سطح پر تذلیل کی گئی۔۲۲ سال میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ عدالت کی سپرمیسی قائم رکھنے کے لیے برطانیہ کے شہری الطاف حسین کے خلاف کنٹمنٹ آف کورٹ کا نو ٹس جاری کیااس پر کراچی کو دو دن یرغمال بنایا گیا اور جیف جسٹس کی مذید توہین کروانے کے بعد کورٹ میں وکلا کے ذریعے پیش ہونے پر تیار ہوئے۔ ملک کے تقریباً تمام ادارے کرپشن میں مبتلا پائے گئے ۔ سابقہ وزیر اعظم کے بیٹے کی بی اے کی ڈگری امتحان میں دوسرے لوگوں کے بیٹھنے کی وجہ سے حاصل کی گئی۔ اسلام آباد کے۱۵۰ وکلا کی ڈگریاں جعلی نکلیں توباقی پاکستان کا کیا حال ہو گا دنیا میں قانون کی محافظوں کی قانون شکنی سے وقار کھویا۔بلوچستان حکومت کا غیر قانونی ہونے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اسپیکر کا قانون پر عمل کرنے کے عزم پر غیر قانونی طور پر پارلیمنٹ کے سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پاس کروائی جس سے سیاست دانوں کے جمہوری دنیا میں کے سامنے سر شرم سے جھک گئے۔ حکومت بیڈ گورنس کی وجہ سے بدنام ہوئی اور ساری دنیا نے اسی کو حکومت کی ناکامی کہا۔سپریم کورٹ نے سندھ اور مرکزی حکومت کے فیل ہونے کا فیصلہ سامنے
۲آنے سے مفاہمتی اتحادی حکومت نے حق حکمرانی کااخلاقی جواز کھویا۔تین ماہ سے زیادہ وقت ہو گیا ہے گوگل سے بات کر کے یوٹیب بند نہیں کرائی گئی جبکہ بھارت کی ایک غیر مسل حکومت نے یہ کام پہلے سے کر لیا تھا مسلسل ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی گئی ہے آج یو ٹیب کھولی گئی اس میں اب تک گندھا مواد موجود ہے جس پر دوبارہ بند کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ۔حکومت نے کئی سالوں کی ٹال مٹول کے بعد صدر پاکستان کے سوئس حکومت میں کرپشن کے پیسوں کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق خط لکھ کر اپنی جگ ہنسائی کرائی۔ سپریم کورٹ کے خلاف میڈیا کی سازش پر ایک ٹی وی کے فوٹو گرافر کی جرائت مند دانہ اقدام اپنے ہی لوگوں کی غیر قانونی حرکت اور سازش کوبے نقاب کیا جو ایک اچھا اور انصاف پر مبنی قدم ہے۔ سیکورٹی کی نااہلی کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں ۳۶۰ دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے اس سال بھی غیر ملکی جاسوس اور دہشت گرد ہمارے ملک میں حملے کر رہے ہیں جس کا ثبوت ٹیٹو واے دہشت کے سامنے آنے پر ہوا ۔بلوچستان حکومت کی نااہلی تھی کے گم شدہ افراد کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کا جائزہ وفد آیا جو ہمارے ملک کے خلاف کھلی ہوئی زیادتی اور مداخلت تھی۔ حکومت کی مفاہمت کی پالیسی کی وجہ سے کراچی میں اس سال میں ۲۰۰۰ افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا وزرات داخلہ کے مطابق ملک میں ۳۱۰۰ افراد شہید ہوئے،۸۳۰۰ زخمی ہوئے۔ لا تعداد سزا یافتہ مجرموں کو پیرول پر رہا کر دیا گیا جنہوں نے باہر آ کر مذید جرائم کئے پارلیمنٹ کی قراداد،دفاہی کمیٹی کی سفارشات اورکل پاکستان اے پی سی کے سفارشات کے باوجود خارجہ پالیسی اور امریکا سے تعلقات میں اس سال بھی تبدیلی نہیں لائی گئی ۔ ہاں اس سال سب سے اہم بات تحریک طالبان نے مذاکرات کی بات کی اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تاکہ ملک میں جاری گوریلہ جنگ ختم ہو اور لوگ سکھ کا سانس لیں کھربوں کا نقصان ہو چکا ہے ملک مذید نقصان نہیں اٹھا سکتا قارئین صحیح بات تویہی ہے کہ پاکستان نے سال ۲۰۱۲ء کھویا ہے کچھ پایا نہیں۔ ا للہ ہمارے ملک کا حامی و نگہبان ہو آمین۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker