اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

پاکستان اور اس کا مفاد!

atharپاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شوال کے مقام پر سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں 19 مسلح شدت پسند اور فوج کے ایک کیپٹن سمیت چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق پاک یہ جھڑپ افغان سرحد کے قریب منگروٹی کے علاقے میں ہوئی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس جھڑپ میں 19 شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اسی دوران فوج کے جیٹ طیاروں نے دتہ خیل میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا مرنے والے 45 دہشت گردوں میں 6 ازبک دہشت گرد تھے، بمباری میں 4 ٹھکانے تباہ ہو ئے۔شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن ضرب جون 2014 میں شروع کیا گیا تھا جس میں فوجی حکام کے مطابق بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اب تک شمالی وزیرستان کے بڑے حصے کو شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔۔آپریشن ضرب عضب میں اب تک 3500 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ شوال پاکستان افغانستان کی سرحد’ڈیونڈر لائین ‘ سے ملقہ علاقہ ہے اور افغانستان کا خوست علاقہ ہے ۔میران شاہ سے خشک پہاڑی نالے سے شوال کی طرف راستہ جاتا ہے۔افغانستان میں روس اور روس نواز افغان حکومت کے دور میں جنوبی وزیر رستان روسی و افغان فوج کے خلاف افغان مزاحمت کے ایک مضبوط گڑھ کے طور پر کام کرتا رہا۔شوال کے پہاڑی سلسلے میں افغان مجاہدین کے علاوہ عرب اورپاکستانی مجاہدین کے کیمپ الگ الگ قائم تھے۔پاکستانی مجاہدین کے کیمپوں میں کشمیری مجاہدین بھی پائے جاتے تھے۔روسی فوج نے کئی مرتبہ اس علاقے پر شدید حملے کئے اور روسی کمانڈوز کو بھی اس علاقے میں اتارا گیا۔اس علاقے میں اتنی گھمسان کی لڑائیاں ہوئیں کہ اکثر مقامات پر زمین کھودنے پر مٹی کم اور گولیوں کے خول زیادہ ملتے ہیں۔اب شمالی وزیر ستان میں دہشت گرد مسلح گروپوں کے خلاف فوجی آپرشن جاری ہے اور اس دوران بڑی تعداد میں شہریوں کو بے گھر ہونا پڑا ۔امریکہ اور روس کے درمیان سمجھوتے اور افغانستان سے روسی فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان کے مختلف علاقے مختلف گروپوں کی ملکیت بن گئے اور سڑکوں پر سفر کرنے والوں کو ہر علاقے کے ’’وار لارڈ‘‘ کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔اس صورتحال میں مدرسوں کے طلبہ نے طالبان کے نام سے امن وامان کے لئے کام شروع کیا۔امریکہ نے طالبان کی مدد کی اور طالبان کے ساتھ شامل ہونے والوں کو اقوام متحدہ کی طرف سے وظیفہ دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔پھر وہ وقت آیا کہ طالبان کابل پر قابض ہوگئے اور افغانستان کے اکثر علاقوں پر ان کی حاکمیت قائم ہوگئی۔شمالی افغانستان میں طالبان مخالف اتحاد کا غلبہ قائم رہا ۔یوں افغانستان میں نسلی تفریق واضح ہوئی۔طالبان حکومت کا اعرب مسلح تنظیم القاعدہ سے مضبوط اتحاد چلتا رہا۔’نائن الیون ‘ کے بعد افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف امریکی حملے شروع ہوئے ۔پاکستان کی طرف سے امریکہ کی دہشت گردی کے خلا ف جنگ کی حمایت اور شمولیت سے افغانستان میں طالبان کے ساتھ شریک پاکستانی طالبان نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان طالبان میں شامل مختلف گروپ پاکستان مخالف مختلف ملکوں کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتے چلے آ رہے ہیں۔
سابق آرمی چیف کے دور میں ہی پاکستانی فوج کا ’’ نیو وار ڈاکٹرائن‘‘ سامنے آیا جس میں افغانستان اور اس سے ملحقہ علاقوں کو پاکستان کے لئے سب سے بڑے خطرے کے طور پر بتایا گیا ۔فوج کے مرکزی ہیڈ کواٹر کے علاوہ،ایئر بیس سمیت کئی اہم ترین فوجی تنصیبات پر حملے ہوئے لیکن دہشت گرد گروپوں کے خلاف کاروائی آرمی پبلک سکول پر حملے کے واقعہ کے بعد ہی شروع ہوئی۔ دہشت گردگروپوں کے خلاف اس جنگ کے لیئے خصوصی آئین و قانون سازی کی گئی اور اسی کے تحت فوجی عدالتوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ملک کی تقدیر سے منسلک خارجہ،دفاع اور دوسرے امور فوج کے ہاتھ میں تھے ہی لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کرتے ہوئے ان سیاسی اقدامات سے فوج کی سیاسی قوت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے جلسوں میں فوج کے سیاسی کردار سے متعلق بیانات اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی کرپشن کے خلاف اور دہشت گردی کی معاونت کے الزامات میں رینجرز کی کاروائی شروع ہوئی۔اسی دوران آصف زرداری ملک سے باہر چلے گئے اور اب تک ان کی وطن واپسی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔چند دن قبل آصف زرداری کے حوالے سے ایک بیان میڈیا کی زینت بنا جس میں مصالحت آمیز انداز میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت عہدہ میں توسیع کی بات کی گئی۔ملک میں موجود پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس بیان کی صداقت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے اس سے انکار کیا۔آصف زرداری کی طرف سے کہا گیا کہ انہوں نے آرمی چیف کے معیاد عہدہ میں توسیع کی بات نہیں کی ،جبکہ یہ جملہ ان کی طرف سے شائع جملے میں شامل تھا۔اس بیان کے اقرار و انکار کے جاری رہنے کے دوران نے میاں منظور وٹو نے پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع کرائی کہ آرمی چیف کے معیاد عہدہ میں توسیع کی جائے۔
ملک میں عوامی نمائندوں اور فوج کے درمیان ملکی حاکمیت کی کشمکش سابق آمر جنرل ایوب خان کے دور اقتدار سے جاری ہے اور اب یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اب سول حکومت کے باوجودفوج کو ملک کے تمام اہم امور میں موثر ترین اختیار حاصل ہو چکا ہے۔ باالفاظ دیگر سابق فوجی حکومتیں جس بات کی خواہش رکھتی تھیں کہ ملک میں حکومت سول ہو لیکن اختیار کل فوج کو حاصل ہو،وہ ٹارگٹ حاصل کر لیا گیا ہے۔ملک میں مسلح گروپوں کی حمایت کسی طور نہیں کی جاسکتی اور ملک کو ان جنونی مسلح گروپوں سے نجات دلانا ناگزیر ہے۔قیام پاکستان کے نظرئیے اور مقاصد کے مطابق حقیقی جمہوری انداز ہی ملک کو چلانے کا واحد راستہ ہے لیکن ملک میں سیاسی قوتوں کو اس قدر کمزور کر دیا گیا ہے کہ اب ملک میں جمہوریت کی حامی سیاسی جماعتیں بھی ملک میں فوجی بالادستی کو قائم رکھنے میں ممود و معاون ثابت ہو رہی ہیں۔ باقی تو خیر ملک میں فوجی حاکمیت کو جاری رکھنے کی سوچ میں ہی محدود ہیں۔دہشت گردوں کے خلاف انتہائی اقدام درست لیکن عوامی سوچ اور اظہار کو پابند اور خوفزدہ رکھنے کی حمایت کسی صورت ملک و عوام کے مفاد میں قرار نہیں پا سکتی۔جس طرح ملک میں فوجی حاکمیت کی حمایت جائز نہیں اسی طرح سیاسی جماعتوں کے نام پر شخصی ،خاندانی،علاقائی اور فرقہ وارانہ گروپوں کا مفاد پرستی پر مبنی طرز بھی ملک میں حقیقی جمہوریت کے تصور کے خلاف ہے۔ سیاسی جماعتوں میں مروجہ سیاسی اصولوں کی سختی سے پیروی ملک کو جمہوری راہ پہ ڈالنے کے لئے ناگزیر ہے ۔
طبقاتی بالادستی اور معاشی عدم مساوات ملک کے لئے سنگین ترین خطرات کا موجب ہے۔عوام کا پاکستان غریب،مسائل اور کم وسائل کا شکار ہے جبکہ طبقاتی اور معاشی بالادستی رکھنے والوں کاپاکستان شاندار اورطاقتور ہے کہ ان کی زندگیاں بھی شاندار ،قابل رشک اوران کا حال ہی نہیں مستقبل بھی محفوظ و تابناک ہونا یقینی بنا دیا گیا ہے۔طبقاتی بالادستی رکھنے والوں کو ملک کی ہر سہولت اعلی معیار کی حاصل ہے ۔طبقات کو اعلی معیار زندگی عطا کرنے کے لئے عوام کو ٹیکسز کے بوجھ تلے مسلسل دبایا جاتاہے ۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ مختلف عناصر کو عوامی لوٹ مار کی کھلی چھٹی ہے۔مختصر یہ کہ ملک میں عوامی مفاد ہی ملکی مفاد ہے۔عوام کو دوسرے درجے کا شہری بنائے رکھنااساس پاکستان کے برعکس طرز عمل ہے اور اسے کسی طور بھی ملک کے مفاد میں قرار نہیں دیا جا سکتا۔عوامی مفاد کو اہمیت دینے سے ہی ملک کو مضبوط اور مستحکم کیا جا سکتا ہے ۔عوام اور ان کی رائے کو پابند رکھنے اور انہیں مشکوک سمجھنے کے طرز عمل کو تبدیل کرناناگزیر ہے،اگر ہم واقعی ملک کو مضبوط اور مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button