تازہ ترینصابرمغلکالم

پاکستانی عوام اور ان کے لیڈرز

sabirپاکستان ایشیاء اور مسلم دنیا کی اہم ترین ریاست ہے،بانی پاکستان کی زندگی میں ہی ایک خاص ٹولے نے اس دھرتی کو یرغمال بنانا شروع کر دیاتھا،انگریز ،ہندو اور سکھوں سے آزادی پانے والے اپنی ہی مذہبی نسل مگر نسبی لحاظ سے خود کو اعلیٰ ترین سمجھنے والوں کی غلامی میںآگئے،انہوں نے جغرافیائی لحاظ سے انمول مملکت کی انمول اور خداداد صلاحیتوںں سے مالا مال ۔عوام۔کو اپاہج ،لولا لنگڑا،لاچار ،بے بس ،بھکاری اور جرائم پیشہ بنا دیا ،معاشرتی اور معاشی صورتحال کو اپنی مرضی کے تابع بنا ڈالا،سماجی و معاشی عدم توازن کی وجہ سے خاص طبقہ نے عوام کو یرغمال بنا لیا،عوام کو ایسے نظام کے تابع کر دیا گیا جس کے باعث انہیں اپنی ۔پڑ۔گئی،عوامی لیڈران نے اپنے اقتدار ،اختیار اور ان کے تحفظ کے لئے مختلف ناموں سے سیاسی جماعتیں بنا لیں بعض نے تو سیاست اور مذہب کا حلوہ بنا کر بھی عوام کو پیش کر دیا،دیگر تمام بنیادی ضروریات کو فراموش کر کے صرف روٹی،کپڑا،مکان کے نعرہ پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھنے والی عوام کی ۔حقیقی زندگی۔کیا ہو گی؟،منظم مگر سفاکانہ پالیسییوں نے ان سے وہ سوچ ہی چھین لی جس میں اچھے برے کی تمیز ہو، چوری چکاری،راہزنی ،ڈکیتی،لوٹ مار،رشوت اور نفسا نفسی کا عالم شروع ہو گیا،آج بھی ملک بھر کی جیلوں کا سروے کیا جائے ،جرائم میں ملوث افرادکی شرح نکالی جائے تو اکثریتی تعداد ۔غریب۔کی ہی ہو گی جسے صرف اپنے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنا ہے چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو،یہاں تو محض چند ہزار روپے کی خاطر ۔بندہ ۔مار دیا جاتا ہے،جھونپڑیوں،چھوٹے چھوٹے شکستہ مکانات میں رہنے والی ۔مخلوق۔آپس میں لڑنے جھگڑنے، چھینا جھپٹی ،غلامی، نعرے لگانے،بھنگڑا ڈالنے کے لئے ہی مخصوص ہے اسی طبقہ کے لئے تھانے،مقدمے ،تشدد،کچہریاں ،دفتری پچیدگیاں بنائیں گئیں تا کہ یہ ایسے کاموں میں الجھے رہیں،دوسری جانب ۔اعلیٰ مخلوق۔کو اعلیٰ سے اعلیٰ بنایا جاتا رہا اور یہ سلسلہ رکا نہیں،ان کے لئے سرکاری محلات ،عالی شان دفاتر،سفر کے لئے لگژری گاڑیاں ،ہیلی کاپٹر،ہوائی جہازاور وہ بھی مفت،علاج معالجہ کے لئے بیرون ملک جانے کی بھی سہولت،ان کے بچوں کے لئے سینکڑوں ایکڑ پر مشتمل اور جدید ترین سہولیات سے مزین تعلیمی ادارے،تمام اعلیٰ سرکاری عہدے ،ایگزیکٹو پوسٹوں پر بھی انہیں کا ۔راج ،عوام کئے لئے چنگ چی ،کھٹارا ویگنیں اور بسیں ،بغیر چھت آسماں تلے تعکیمی ادارے،صحت کی سہولت نا پید جس سرکاری ہسپتال کا بھی رخ کرو مریضوں کی طویل لائنین، پاکستان کی عوام اور لیڈران کی سوچ ،رہن سہن میں اتنی تفریق ہے جتنی کسی مسلم یا غیر مسلم میں ہوتی ہے،یہ عوام کو انسان نہیں جانور یا کمی کمین سمجھتے ہیں ،ان لیڈروں اور عوا می خیر خواہوں کے نزدیک اس دھرتی پر عوام بلکہ ۔غلام۔رہتے ہیں جن کی کئی نسلیں اسی غلامی میں ۔مر۔گئیں اورنئی نسل ہوش سنبھالتے ہیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لی جا تی ہے،ان کی سوچ کو ا س ۔نظام بے نام۔نے اس طرح ہپناٹائز یا گرفتار کر رکھا ہے کہ ان کے نزدیک بھی غلامی میں ہی عزت ہے،خدمت کرنا ،ہاتھ جوڑے اور سائیں سائیں کرتے کرتے کھڑے رہنا ان کی گھٹی میں شامل ہو چکا ہے،مقدس ایوان کے مستقل باسیوں کے علاوہ یہاں کسی اور کی گنجائچ نہیں،ان سیاسی و مذہبی لیڈروں،وڈیروں،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے نچلے طبقہ کو بھی تقسیم کر رکھا ہے تا کہ یہ کبھی منظم نہ ہو سکیں اور نہ یکجا ہو کر اپنے حقوق کے لئے اکٹھے ہوں،ان کی فکر،سوچ اور تدبر سب زنگ آلود کر دیا گیا ہے،یہ لوگ روٹی روٹی کو ترس رہے ہیں اور مال سمیٹنے والے سب کچھ سمیٹ کر بیرونی ممالک کے بینک بھر نے ،کاروبار کرنے میں مشغول ہیں،پاکستان کا اور المیہ بھی ہے کہ یہاں کے لیڈران پر لوٹ،مار،کرپشن،اختیارات کا ناجائز استعمال جیسے الزامات عام سی بات ہیں اور ۔جیل کی یاترا۔کرنا ان کے لئے باعث فخر ہے،ایسے مکروہ کاموں پر ۔Victory۔کانشان بنانا ان کے لئے پسندیدہ ترین ۔فعل۔ہے،یہ اپنے مفادات کی خاطر دنیا کی سب سے بڑی ریاست کو دو لخت کر گئے،یہ لوٹتے ہیں،چھینتے ہیں،غورتے ہیں،غراتے ہیں اور کھاتے بھی ہیں۔اس کے باوجود یہ پھر بھی لیڈر اور معزز..عرصہ دراز سے حکمران سیاسی جماعتوں مسل لیگ(ن)،پی پی پی .ایم کیو ایم .جمیعت علمائے اسلام(ف).اے این پی میں کون سی جماعت ہے جس کے لیڈران پر کرپشن کا لیبل نہیں؟ملک کو دہشت گردی نے اپنی لپیٹ میں لیا تو یہ پھر بھی دکانداریاں کھول کر بیٹھ گئے، آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوموں کی ،پھولوں کی،کلیوں کی شہادت جسے سال ہو رہا ہے،وہاں پر بے رحمانہ اور انتہائی سفاکانہ دہشت گردی پر انہیں خیال آیا کہ دہشت گردوں کو پھانسی دی جائے مگر ہوا کیا ہے ،پاک فوج،رینجرز اور پولیس نے ملک میں 20ہزار سے زائد دہشت گردوں کو گرفتار کیامگر سزا کتنوں کو پھانسی ہوئی کتنوں کو سزا ہوئی اس کا جواب دینے کو کوئی تیار نہیں ،پھانسی گھاٹ آباد ہوئے مگر دہشت گردوں سے نہیں عام قاتلوں سے،یہ سب نیتوں کا فتور اور دہشت زدگی ہے جس کا شکار ہمارے حکمران اور لیڈران ہیں،اڑھائی سال قبل روشنیوں کے شہر کراچی میں دہشت گردی،قتل و غارت اور بدامنی کے سد باب کے لئے رینجرز کو تعینات کیا گیا ،سائیں جی ہر 3ماہ بعدایگزیکٹو آرڈر پاس کر دیتے اتنا طویل عرصہ انہیں سندھ اسمبلی سے منظوری کا خیال نہ آیا اب کہتے ہیں اسمبلی سے منظوری ضروری ہے کیونکہ یہ قانونی اور آئینی مسئلہ ہے، سابق صدرْ آصف علی زرداری کے دست راست اور قومی اعزاز یافتہ (ستارہ امتیاز مشرف اورنشان امتیاز زرداری نے دیا)ڈاکٹر عاصم حسین کو جب رینجرز 26اگست کو سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے دفتر سے حراست میں لیااور اتفاق سے اسی دن کراچی میں اینٹی کرپشن کی وفاقی عدالت نے سابق وزیر اعلیٰ سید یوسف رضا گیلانی اور روحانی پیشوا مخدوم امین فہیم(مرحوم)کے خلاف ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں گھپلوں پر ورانٹ گرفتاری جاری کئے تو PPPکے اکابرین چونک گئے،پیپلز پارٹی،ایم کیو ایم اور مسلم لیگ(ن)کے کرتا دھرتاؤں کی آپس میں خفیہ ملاقاتوں کا آغاز ہو گیا،کہیں کوئی ۔خلا۔رہ گیا تورینجرز کے اختیارات پر بلیک میلنگ کا آغازاوران کی تحویل میں ڈاکٹر عاصم کا دہشت گردوں کے علاج کا اعتراف،ان کی مالی مدد جیسے الزامات سندھ حکومت نے ۔چھومنتر۔سے غائب کر دئیے،اب مسئلہ ہے رینجرز کو کراچی میں اختیارات دینے کا،لفظوں کی ایٹمی جنگ شروع ہے ،ان سطور کے شائع ہونے تک یہ مسئلہ حل ہو چکا ہو گا،مگر اس موقع پر جو سب زیادہ تشویشناک باتیں سامنے آئیں ہیں ان میں ایک تو ۔سندھ حکومت کا مطالبہ ہے کہ رینجرز صرف دہشت گردی کی با ت کرے اسے کرپشن پر ہاتھ ڈالنے کا کوئی حق نہیں،دوسرا چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں ان کے پاس بہت سے ثبوت ہیں اگر رینجرز کو اختیارات کا آرڈر جاری نہ کیا گیا تو وہ سب کچھ سامنے لے آئیں گے،جواب میں پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو،سید خورشید شاہ اورشہلا رضا کہا ہے کہ ۔دیکھاؤ اگر ہمت ہے تو،پھر ہم بھی آپ لوگوں کا سب کچھ کھول کر رکھ دیں گے،قارئین کرام اس سے زیادہ بد قسمتی کسی ملک کی اور کیا ہو سکتی ہے؟ اسی ملک کے اقتدار کی بلندیوں پر براجمان ۔اقتداری نشہ میں چور۔لوگ ایک دورسے کی خرافات کو دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں،واقعی ان کی پٹوریوں میں بہت کچھ ہے جو مصلحتوں کے ۔بے حیا لباس۔ میں پوشیدہ ہیں،اسے یہ مرنے تک بھی ظاہر نہیں کریں گے کہ ان پٹاریوں میں کیا ہے؟ہاں ان پٹاریوں میں چھپا گند،پوشیدہ خرافات کا سارا حساب ان کی قبروں میں ان کے ساتھ ضرور جائے گا۔۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker