تازہ ترینتجمل محمود جنجوعہکالم

پاکستانی ڈرون…….

tajumalکہتے ہیں پاکستان خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ 1947 سے لے کر اب تک اسے بے شمار مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں دیگر ممالک کی طرف سے اسے غیر مستحکم کرنے کی ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں وہیں اندرونی خلفشار اور بد عنوانی کی دیمک بھی اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگی ہوئی ہے۔لیکن سب کچھ برا بھی نہیں۔بہت سے لوگ، بہت سے ادارے اپنی اس دھرتی کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ان میں سے ایک پاک فوج ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستانی فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے۔دشمن ملک کی طرف سے مسلط کردہ جنگ ہو یا دہشتگردی سے نمٹنے کا چیلنج، زلزلہ ہو یا سیلاب، ہر میدان میں پاک فوج نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
دور جدید میں طاقت کے توازن کو امن کی ضمانت تصور کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیاء میں اسلحے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔جدید سے جدیدتر کی جستجو میں نت نئی ایجادات جنم لے رہی ہیں۔ پاکستان کے "ضرار”اور”الخالد” ٹینک کا کوئی ثانی نہیں ۔ملکی دفاع کو مضبوط تر بنانے کے لئے پاک فضائیہ میں ایک اہم اضافہ کیا گیا۔25نومبر بروز پیر جدید ترین ڈرون طیاروں "براق” اور”شہپر” کو پاک فضائیہ کے حوالے کر دیا گیا ۔ جس سے پا ک فضائیہ کی صلاحیت میںیقیناًکئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پیر کے روز ان طیاروں کی اسکواڈ میں شمولیت کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میںآرمی چیف اشفاق پرویز کیانی، ائیرچیف مارشل طاہر رفیق بٹ کے علاوہ مسلح افواج کے سینئر افسران نے شرکت کی۔جنرل کیانی نے نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائینٹیفک کمیشن کے ماہرین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ "براق” اور "شہپر” ان کی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ طیارے حالیہ فوجی مشقوں کے دوران بھی استعمال کئے گئے۔بتاتا چلوں کہ بغیر پائلٹ کے یہ جاسوس طیارے مکمل طور پر پاکستان میں ہی تیار کئے گئے ہیں جو بلاشبہ قابل فخر اقدام ہے۔
شاہین اور کروز میزائلوں کے خالق ڈاکٹر ثمر مبارک مندکا ڈرون ٹیکنالوجی کے بارے میں کہنا تھا کہ پاکستان نے اس پر آٹھ سال قبل کام شروع کیا جس کی بدولت یہ جدید طیارے بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے اسے ملکی تاریخ کا سنہرا باب قرار دیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ غیر فوجی اور سول انتظام کے تحت چلنے والے ادارے نیسکام کے تیار کردہ ان یو-اے-وی (un-manned aerial vehicle) کی قیمت یورپ اور امریکہ میں بنائے گئے یو-اے-وی کے مقابلے میں ایک تہائی ہے اورپاکستان ان کی تیاری میں خود کفالت حاصل کر چکا ہے۔
اگر بغیر پائلٹ کے ان جاسوس طیاروں کی خصوصیات کا ذکرکیا جائے توسب سے اہم یہ ہے کہ یہ طیارے میزائل ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور اپنے ہدف کو مکمل طور پر نشانہ بنانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ان کو کروز میزائلوں سے بھی لیس کیا جا سکتا ہے۔ یہ طیارے بیس ہزار فٹ بلندی پر پرواز کر سکتے ہیں اور ان کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ انہیں زمینی ریڈار نہیں دیکھ سکیں گے۔اس کے علاوہ اس کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ یہ طیارے نائٹ ویژن ٹیکنالوجی کی مدد سے رات کے وقت بھی اپنے ہدف کوٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بغیر پائلٹ کے یہ طیارے صحیح معانوں میں پاکستان کے لئے باعث فخر ہیں۔
میں پاک فوج کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان نادانوں سے (جو پاک فوج کے خلاف بھولی عوام کے اذہان میں غلط فہمیاں اور نفرت پیدا کر رہے ہیں)یہ کہنا چاہوں گا کہ بہت ہو چکا ، اگر اس ملک کے لئے کچھ اچھا نہیں کر سکتا تو عوام میں فوج کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کر کے کم سے کم دشمن کے عزائم کو تو کامیاب مت کرو۔اللہ سمجھنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button