ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

پا کستانی فو ج کو بدنام کر نے کی منظم سا زش

آگ ہے اولا د ابراہیم ہے نمرود ہے                         کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
بحران جھگڑے ، افرا تفری ، بد نظمی ، عدم استحکام ، بد امنی ، اضطرابی کیفیا ت اور عدم اعتما د پاکستان کی ملکی سیاست کا خاصا رہا ہے ۔ سیاسی قیادت کی نا اہل اور غلط پالیسیوں اور آپس کی نا اتفا قیو ں اور نا چا قیوں اور تنا زعوں کو دیکھتے ہو ئے پر امن اور مستحکم ماحول پیدا کر نے کے لیے نا چا ہتے ہو ئے بھی اپنی مرضی اور منشاء کے خلا ف آرمی کو ٹیک آور کرنا پڑتا ہے ۔ بڑی سیاسی جما عتیں اپنے اقتدار کی ہوس میں گم ہو کر ہر وہ منصوبہ بنا تی اور اپنا تی ہیں جو انہیں اقتدار کی کرسی پر جا بیٹھا ئے اس منزل مقصود کے حصول کی خا طر انہیں حد سے بھی گز ر جا نا پڑے تو کوئی مما نعت نہیں ہے ان کا مقصود اور حصول محض اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل اور اقتدار کی کشتی میں سوار ہونا ہے ۔ انہیں اپنے الیکشن میں جیت کی خا طر قتل و غا رت بر پا کرنی پڑے ، بدامنی اور دہشتگردی کی فضاء قائم کرنے پڑے یا کسی بھی ہنگا مے یا شورش کو پروان چڑھانا پڑے تو وہ کسی طور بھی گریز نہیں کرتے ہیں کبھی تو ووٹ خرید ے جا تے ہیں کبھی امن و امان تبا ہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی اپنے مخالف کی سانسیں تک چھین لی جا تی ہیں اقتدا کا نشہ ایسا ہے کہ سیاست دان عمر کے کسی بھی حصے میں ہو اس کی ہوس اور حصول تمنا کی کبھی بھی تکمیل نہیں ہو تی ہے ۔ سیاست دان کو اپنی جیت اور فتح یا بی کا خیال ہمہ وقت رہتا ہے اور ملک و قوم کی کوئی فکر لا حق نہیں ہو تی ۔ آج کل دو اہم ایشو جو ہر زبان زد عام پر سرگو شیا ں کرتے ہو ئے سنائی دیتے ہیں ان میں سے ایک قومی و صوبا ئی انتخابا ت اوردوسرا ئیر مارشل اصغر خان کیس اس کی کڑیا ں حد درجے سیاست سے جڑی ہیں 1996 میں دائر مقدمہ آج 2012 میں تر وتا زہ کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ سپریم کو رٹ آف پاکستان کے اس فیصلے نے نہ صرف 1990دہا ئی میں ہو نے والے عام انتخابا ت کے سیاسی معاملا ت کو دوبا رہ زندہ کردیا ہے بلکہ آئندہ آنے والے جنرل انتخا با ت پر بھی گہرے نقوش چھوڑے ہیں اس فیصلہ نے با الخصوص گہری ضر ب لگا ئی ہے محب وطن اور ہر دلعزیز پاکستانی آرمی پر اگر کسی بھی عما رت کی بنیا د مضبو ط اور پائیدا ر ہو تو اس کی تکمیل کے بعد اس میں کمی بیشی رہ جا نے اور نقصانا ت کے اثرات کافی حد تک زائل ہو جا تے ہیں ۔ میا ں برادران جن کا تعلق اور واسطہ آئی ایس آئی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے وہ اس اہلیت اور حثیت کے مالک نہ ہیں خفیہ اداروں اورپاک فوج کو ہر لمحہ تنقید کا نشانہ بنا نے والے اور ان پر ہر موقع ملنے پر زبان درازی سے باز نہ آنے والے ان کے تعاون کے حقدار کیسے ہو سکتے ہیں ہر لحظہ سی آئی اے اور ایف بی آئی کے ایجنٹو ں اوردلا لو ں کو سپورٹ مہیا کر نے والے اور ہمہ وقت برطا نیہ اور امریکہ بہادر کے قصیدے پڑھنے والے کیو نکر ان محب وطن اداروں کی شفقت، معا ونت اور نظر کرم کے مستحق ٹھہرائے جا سکتے ہیں ۔ مد تو ں بعد موجودہ حالا ت کے تنا ظر میں اس کیس کے فیصلہ کا بغور جا ئزہ لیا جا ئے سیاسی محرکا ت سامنے رکھے جائیں تو خفیہ حقا ئق اور آرمی و آئی ایس آئی کے خلا ف ایک منظم سازش با رے پتا ضرور چل جا ئے گا ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے صا حبزادے اور ملک ریا ض کے مابین کیس پھر وفا قی اور صوبا ئی حکومتوں کا مشکو ک کردار اور پی پی پی اور پی ایم ایل این کی آپس کی لڑائی اور ایک دوسرے پر آئے روز الزامات دونو ں حریفو ں کی جنگ میں پاک آرمی اور آئی ایس آئی کو کھلے عام آئے روز تنقید کا نشانہ بنانا درست بات نہیں ہے کبھی خفیہ داروں کو گمشدہ افرا د کے حوالے سے پکڑ میں لا یا جا تا ہے تو کبھی سیاسی پا رٹیو ں کو مضبوط اور کمزور بنانے میں گھسیٹا جا تا ہے خدارا خفیہ اداروں اور فوج کو سیاسی جنگ کا حصہ نہ بنا یا جا ئے ہما ری فوج دور حا ضر میں پہلے ہی نامسا د حالا ت سے گز ر رہی ہے اسے دہشتگردی وہ خواہ اندرونی ہو یا بیرونی مذا حمت کا سامنا ہے اور بیرونی قوتیں اسلام اور پاکستان دشمن طا قتوں کا خطرہ ہے اس وقت فو ج اور ادروں کو کمزور کرنے اور انہیں سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کرنے میں کس کا فائدہ ہو تا ہے ؟اور نقصا ن کسے پہنچتا ہے؟ یہ ضرور سوچنا چا ہیے ۔ سیاست دانو ں کی آپس کی جنگ میں فو ج اور آئی ایس آئی کو نشانہ بنا نا انتہائی گھٹیا اقدام ہے ۔ پاکستان کے دشمن عنا صر کو عدلیہ ، انتظامیہ ، سیاست دانو ں ،مذ ہبی راہنما ؤ ں یا کسی اورادارے سے کوئی خطرہ نہیں ہے جتنا کہ ہما رے خفیہ اداروں اور فوج سے ڈر اور خوف ہے اپنے وطن کی سیکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کے خلا ف زبان درازی کر نے والے نام نہا د مفکروں ، سکالر وں اور دانشوروں کو یہ سوچنا چا ہیے کہ وہ جس آزاد ، خود مختار اور پر سکو ن جنت ارضی پر زندگی بسر کر رہے ہیں یہ سب کس کے مر ہو ن منت ہے کوئی نہ کوئی خفیہ طا قیتں تو موجودہیں رب کے بعد جو ہما ری سانسوں کی حفاظت کرتی ہیں اور ہما ری بد ترین دشمن دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیو ں با الخصوص سی آئی اے ، موساد اور را کی سازشو ں اور حملو ں سے ہمیں محفوظ رکھتی ہیں ۔ ہما ری محب وطن اور جانبا ز ، بہا در آرمی اور آئی ایس آئی مضبوط رہے گی تو پاکستان مضبوط ہوگا پاکستان مضبوط ہو گا تو ہماری زندگی ، ہمارا جینا مرنا اور ہمارا اقتدار محفو ظ رہے گا ۔

یہ بھی پڑھیں  بی بی سی تحقیقات کے بغیر اسٹوری نہیں کرتی، عمران خان

اے زافسون فر نگی بے خبر                          فتنہ ہا در آستین اونگر

یہ بھی پڑھیں  رینالہ خورد:مسلح ڈاکوؤں نے کیری ڈبہ سوار وں سے لاکھوں روپےلوٹ لیے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker