حکیم کرامت علیکالم

پاکستان کے قوانین1949 سے1973 اور موجودہ صورتِحال

کسی ملک و ریاست کو چلانے کے لیے امن و امان قائم کرنے کے لیے عوام کی فلاح بہبود کے لیے عوامی حقوق کی حفاظت کے کیے آئین کا نفاذ ضروری ہے ۔آئین کے نفاز کے بغیر کوئی حکومت حتیٰ کہ کسی گھر میں بھی امن قائم نہیں ہو سکتا ۔اب دیکھنا ہے کہ سابقہ قوانین کی شقیں کیا تھیں اور موجودہ صورتِ حال کیا ہے
۱۔تمام کائنات پر اقتدار اعلیٰ ﴿حاکمیت ﴾ کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔وہ یہ اختیار پاکستان کے مسلمانوں کو تفویض کرتا ہے جو اسے مقدس امانت کے طور پر اللہ کی مقرر کردہ حدود کے مطابق استعمال کریں گے۔
۲۔ریاست اپنے اختیارات کا استعمال عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے کرے گی۔ جمہوریت ، آزادی،مساوات،رواداری اور معاشرتی انصاف کے اسلامی اصولوں کو ملک میں نافذ کیا جائے گا۔
۳۔مسلمانون کو انفرادی اور اجتماعی شعبون مین اپنی زندگیاں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں گزارنے کے قابل بنایا جائے گا۔
۴۔غیر مسلم اقلیتوں کو اپنے مذہب اور عقائد پر عمل کرنے اور اپنی ثقافت اور روایات کو ترقی دینے کی مکمل آذادی ہوگی۔ اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کے جائزہ حقوق کی حفاظت کا انتظام کیا جائے گا۔
۵۔ملک میں وفاقی نظام حکومت قائم کیا جائے گا جس میں صوبوں کو مقرر آئینی حدود میں خود مختاری حاصل ہوگی۔
۶۔عوام کو تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں گے۔ مزید برآں فکرواظہار اور عقیدے و عبادات کے علاوہ تنظیم سازی کی بھی آزادی ہوگی۔
۷۔عدلیہ اپنے کاموں میں بلکل آزاد ہوگی اور بغیر کسی دباو کے کام کرے گی۔
۲۔دستور پاکستان1956
۱۔اس دستور کے مطابق ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا۔
۲۔دستور کے مطابق ملک کا صدر مسلمان ھو گا۔
۳۔ایسا کوئی قانون نافذ نہیں کیا جائے گا جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہو اور موجودہ قوانین کو اسلام کے مطابق ڈھالا جائے گا۔
۴۔دستور کے مطابق ادارہ تحقیقات اسلامی قائم کیا جائے گا جو اسلامی احکام کی تدوین و نفاذ کے بارے میں تحقیق کرے گا۔
۵۔ملک میں سود کا جلد از جلد خاتمہ کیا جائے گا۔
۶۔پالیسی کے رہنما اصولوں میں کہا گیا کہ پاکستان کے دیگر اسلامی ممالک کیساتھ دوستانہ تعلقات قائم کیے جائیں گے۔
۳۔دستور پاکستان 1962
۱۔دستور میں ملک کا نام جمہوریہ پاکستان تجویز کیا گیا بعد میں ایک ترمیم کے ذریعے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا۔
۲۔کوئی ایسا قانون لاگو نہیں کیا جائے گا جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہو اور تمام موجودہ قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالا جائے گا۔
۳۔قرآن و اسلامیات کی تعلیم مسلمانوں کے لیے لازمی قراردی جائے گی۔
۴۔حکومت زکٰوۃ،اوقات اور مساجد کی تنظیم کے لیے ادارے قائم کرے گی۔
۵۔اسلامی مشاورتی کونسل قائم کی جائے گی جو مرکزی اور صوبائی حکومتوںکو مسلمانان پاکستان کی زندگیوں کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کے سلسلے میں اقدامات تجویز کرے گی۔
۶۔حکومت ادارہ تحقیقات اسلامیہ قائم کرے گی جو اسلامی احکام کے بارے میں اپنی رائے دے گا۔
۴۔داستور پاکستان1973
۱۔ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہو گا۔
۲۔صدر اور وزیراعظم دونوں مسلمان ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کو واحد اور حضرت محمد ö کو اللہ تعالیٰ کا آخری رسول مانتے ہوں۔
۳۔1973 کے آئین میں پہلی دفعہ مسلمان کی تعریف شامل کی گئی۔جس کی رو سے توحید،رسالت ، قیامت،اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانے کے علاوہ حضرت محمد ö کو آخری نبیö تسلیم کرنا لازمی ہے۔
۴۔موجودہ قوانین کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالا جائے گا اور کوئی ایسا قانون نہین بنایا جائے گا جو اسلام کی تعلیمات کے متصادم ہو۔
۵۔قرآن اور اسلامیات کی تعلیم سکولوں اور کالجوں میںلازمی ہوگی۔
۶۔سکولوں میں چھٹی سے آٹھویں تک عربی کی تعلیم لازمی ہو گی اور قرآن پاک کی طباعت غلطیوں سے پاک کی جائے گی۔
۷۔اسلامی اقدار یعنی جمہوریت ، انصاف ، رواداری ، آزادی اور مساوات آئین کا ھصہ ہوں گے۔
۸۔ایسے حالات مہیا کیے جائیں گے کہ مسلمان انفرادی طور پر یا اجتماعی پر اپنی زندگیاں اسلام کے مطابق دھال سکیں گے۔
۹۔1973 کے آئین کے مطابق حکومت زکٰوۃو عشر کا نظام قائم کرے گی اور زکٰوۃ کونسلیں بھی قائم کی جائین گی۔
10۔حکومت سود کے نظام کو ختم کرے گی اور ملکی معیشت کو سود سے پاک کیا جائے گا۔
11۔اسلامی نظریاتی کونسل کی جائے گی جو قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنانے میں قانون ساز اداروں کی راہنمائی کری گی اور موجودہ قوانین کو بھی اسلام کے مطابق ڈھالے گی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیایہ ان اسلامی شِقوں میں سے کون کون سی ہمارے ملک نافذ ہیں ۔کن کن پر عمل ہو رہا ہے ۔ہمارے حکمرانوں نے تو اس کا حلیہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ہان ایک اسلامی نام کا سہارا ضرور لیا جا رہا ہے یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان۔باقی جتنی بھی اسلامی دفعات ہر دور میں آئین میں شامل کی جاتی رہی آج ان کا وجود کہاں نظر آتا ہے ۔ہر طرف مغربی تقلید کا دور دورہ ہے ۔کیا ان اسلامی دفعات کے نفاذ کے بغیر امن ممکن ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں کیونکہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا ۔اور ہم نے اپنی بنیاد کو ہی پسِ پشت ڈال دیا ۔کیا ہم نے اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ کو مانا ہے ۔اگر ہم نے صدقِ دل سے خداتعالیٰ کو مانا ہوتا تو آج ہماری سڑکوں پر چھوٹے چھوٹے بچے گندگی کے ڈھیر سے کھانے کی چیزیں نہ تلاش کر رہے ہوتے۔آج لوگ اپنے گھروں میں سوتے کوئی روزی روٹی کو نہ ترستا ۔آج غالب مغلوب پر ظلم نہ کرتا اگر کرتا تو ظالم کو اس کے ظلم کی سزا ملتی اور مظلوم کو انصاف ملتا ۔اگر اسلامی دفعات نافذ العمل ہوں تو ملک میں بد امنی بد نظمی کا باب بند ہو جائے اور امن اور سکون نظم و ضبط کے دروازے کھل جائیں ۔عوام کے چہروں پر بشاشت آجائے لوگ خوشحال ہو جائیں ۔آپس کی سیاسی اور سماجی لڑئیاں ختم ہو جائیں ۔مگر یہاں ہمارے حکمران آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی حملوں میں مصروف ہیں ۔ عوام کا کسی کو کوئی فکر نہیں ۔
نعرے تو بلند ہوگئے ،روٹی کپڑا اور مکان کے ، مگر یہ نعرہ بھی تشریح طلب ہے کہ آیا ہمارے حکمرانوں نے عوام کو یہ اشیا فراہم کرنی ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو اتنا عرصہ گزرنے کے بعد ابھی تک عوام اپنی پہلی روٹیاں بھی لٹارہی ہے ۔اپنے مکانوں سے ہاتھ خالی کروا بیٹھے ہیں ۔ میرے خیال میں تو حکومت کے اس نعرے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ۔ روٹی کپڑا مکان جو چھین سکتا ہے وہ چھین لے ۔جو تلاش کر سکتا ہے کہں سے کر لے۔ورنہ مر جائے ۔جس میں چھیننے کی سکت نہیں اس کا لیٹروں کی اس سلطنت میں رہنے کا بھی حق نہیں ۔میرے نذدیک تو حکومت کے اس نعرے کی یہ ہی تشریح بنتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  آج کا مسلمان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker