تازہ ترینکالم

پاکستانی سیاست کی اخلاقی پستی

bilall جب کمینے عروج پاتے ہیں
اپنی اوقات بھول جاتے ہیں
اور کتنے کم ظرف ہیں یہ غبارے
چند پھونکوں سے پھول جاتے ہیں
سیاست کے بغیر ریاست کو تصور باقی نہیں رہتا لیکن اگر سیاست کوفریضہ سمجھ کر ادا نہ کیا جائے اور اسے اپنی خاندانی عزت و وقار کو بلند کرنے اور لوٹ کھسوٹ کیلے استعمال کیا جائے تو یہ کوڑے کے ڈھیر سے بھی بد تر ہو جاتی ہے۔ پاکستانی سیاسی جماعتیں اس کوڑے کے ڈھیر جیسی ہیں۔ پاکستانی اخلاقی حدود و قیود سے مبرا نظر آئی ہے۔ہمارے سیاستدانوں کی زبان قینچی کی طرح چلنے والی اور تلوار جیسی دھار رکھتی ہے۔ الزامات کی بھر مار کرتے ہیں اور ثبوت مانگنے پر اخلاقی حد تک پار کر جاتے ہیں۔ ہمارے تمام سیاستدان تالاب میں ننگے ہیں۔ اگر کسی ایک پر الزام ثابت ہو جائے تو بجائے وہ اس پر معافی مانگنے کے الٹا کہتا ہے کہ فلاں جماعت کے فلاں شخص نے بھی تو یہی کیا ہے۔ بہرحال کرپشن کے کیسز دنیا کے اور ممالک میں بھی منظرِ عام پر آتے ہیں لیکن وہاں کے سیاستدان ہمارے سیاستدانوں کے طرح ڈھٹائی سے کام نہیں لیتے۔
اگر چہ سیاست میں ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنا بھی ایک غیر اخلاقی فعل ہے لیکن ہمارے سیاستدان تو زبان کا استعمال بھی خوب کرتے ہیں۔ سیاستدان توشاید اتنے محظوظ نہ ہوتے ہوں لیکن عوام بہت محظوظ ہوتی ہے۔ من پسند سیاستدان پر جب کوئی دوسرا سیاستدان طعنہ کستا ہے تو غصے کی شدت ہمارے چہرے سے عیاں ہوتی ہے اور کبھی کبھی تو ہماری زبان بھی کھل جاتی ہے اور اس سیاستدان پر اپنا غصہ ایسے نکالتے ہیں جیسے وہ ٹی وی سکرین پر نظر نہ آ رہا ہو بلکہ ہمارے سامنے کھڑا ہو۔ اور پھر جب ہمارا من پسند سیاستدان دوسرے ساستدان کو جواب دیتے ہوئے زبردست غیر اخلاقی زبان استعمال کرتا ہے تو من پسند سیاستدان سے زیادہ ہمیں خوشی نصیب ہوتی ہے۔ اب شاید آپ کو سمجھ آ گئی ہو گئی کہ پاکستانی تھرڈ گریڈ (گجروں، جٹوں والی )فلمیں اور غیر اخلاقی سٹیج ڈرامے کس لئے زوال پذیر ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ تمام اداکار سیاست میں آ چکے ہیں۔
غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے میں کوئی زیادہ ریٹنگ کا حامل ہے تو کوئی کم ریٹنگ کا۔ بہرحال سارے ہی اس دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ اس دوڑمیں سبقت لے جانے والی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ جس میں اداکاروں کی تعداد ان گنت ہے۔ پیپلز پارٹی کی رکن فردوس عاشق اور شازیہ مری نے یکے بعد دیگرے کشمالہ طارق کے بارے میں جو زبان استعمال کی عوام وہ دیکھ کر بھی محظوظ ہوئی تھی اور شاید ہی کسی کے دل میں خیال آیا ہو کہ انہوں نے غلط کیا ، کیونکہ ہمارے اندر غلط کو غلط کہنے کی طاقت تو درکنار ایسا سوچنے کی صلاحیت بھی نہیں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان جھرپیں ہوتی رہتی ہیں۔ مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے درمیان جھڑپیں ہوئیں لیکن اس وقت سب سے محظوظ کرنے والی پارٹیاں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی ہیں۔ مسلم لیگ ن عمران خان پر یہ الزام لگاتی ہے کہ وہ کینسر ہسپتال میں لوگوں سے رقم بٹور کر سٹے بازی میں ہار گئے تو پی ٹی آئی کہتی ہے کہ شریف برادران نے لیپ ٹاپ سکیم میں غبن کیا اور تو اور جن دنوں لیپ ٹاپ کی تقسیم کی جارہی تھی ان دنوں میں نہ جانے کس کی طرف سے یہ افواہ بھی عروج پر تھی کہ لیپ ٹاپ میں نرگس کا ڈانس رکھا گیا ہے ۔مسلم لیگ ن والے بعض حضرات کو اس بات سے اختلاف ہے کہ عمران خان کے چہرے پر اتنے وٹ کیوں پڑے ہیں تو پی ٹی آئی والوں کو یہ اختلاف ہے کہ اللہ نے شریف برادران کو ٹند دی اور انہوں نے بال کیوں لگوائے۔ مسلم لیگ ن والوں نے عمران خان کو سونامی خان کے لقب سے نوازا ہے تو پی ٹی آئی نے شریف برادران کو ڈینگی برادران کا لقب دیا۔ اگرچہ میں جماعتِ اسلامی سے پوری طرح متفق نہیں لیکن قاضی حسین احمد مرحوم کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں جن کی سیاست اخلاقی حدود سے باہر نہ گئی اورجب ان کی وفات ہوئی تو ہر شخص چاہے وہ کسی بھی طبقے یا کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا تھا ان کیلئے اپنے دل میں عزت و احترام کا جذبہ رکھتا تھا۔
یہ سیاسی سیٹج ڈرامے لگے رہیں گے جب تک عوام کو عقل نہیں آئے گی۔ پاکستان میں شرحِ خواندگی 48% ہے۔ ان پڑھ اور جاہل عوام سے یہی توقع کی جا سکتی ہے لیکن ہمارے پڑھے لکھے حضرات بھی ان ڈراموں سے بھرپور لطف اٹھاتے ہیں۔ان پڑھ لوگوں میں تو جہالت سمجھ آتی ہے لیکن خواندہ حضرات بھی سیاستدانوں سے ایسی والہانہ عقیدت کررکھتے ہیں کہ جیسے سیاستدان نہ ہو خداہو۔ کیونکہ ان کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرسکتے۔ خواندہ حضرات کوچاہئے کہ وہ بجائے سیاستدانوں کو سرپر چڑھانے کے ان کے اچھے کاموں کو اچھا کہیں خواہ وہ کسی بھی پارٹی سے ہو اور برے کام کو برے کہیں خواہ وہ من پسند پارٹی سے ہی کیوں نہ ہو۔ انقلاب کی راہ تب ہموار ہو گی جب مملکت میں شرحِ خواندگی 90% سے 95% ہوگئی اور خواندہ حضرات اپنے خواندہ ہونے کا مظاہرہ کریں گے ورنہ اس ملک میں سب کچھ آ سکتا ہے لیکن انقلاب نہیں۔ note

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ:عورت کو معاشرے میں با عزت مقام دیے بغیر ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا،صبااصغر

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker