شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اطہر مسعودوانی / پاکستان کو درپیش بیرونی اور اندرونی خطرات!

پاکستان کو درپیش بیرونی اور اندرونی خطرات!

جنوبی ایشیاء کی صورتحال نئے اور سنگین تر خطرات کی پیش بندیوں میں نظر آ رہی ہے، جس سے خطے میں جنگ و جدل،مسلح لڑائیوںاور تباہی و بربادی کے امکانات میں اضافہ ہوتاجا رہا ہے۔امریکہ کی طرف سے ہندوستان کے افغانستان میں وسیع کردار کے اعلان سے چین اور پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کے خدو خال واضح ہو رہے ہیں۔چین اقتصادی رابطوں وتعاون میں اضافہ کرتے ہوئے اپنی سفارت کاری کو کامیابی سے آگے بڑہا رہا ہے۔ایک طرف چین شمالی کوریا کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے فیصلے کی حمایت کرتا ہے اور دوسری طرف شمالی کوریا کے قریبی روسی علاقے میں روسی بحریہ کے ساتھ جنگی مشقیںکرتے ہوئے وہ” حدود” واضح کر رہا ہے جسے پار کرنے کی چین اجازت نہیں دے سکتا۔پاکستان میں اقصادی راہداری اور گوادر منصوبے کی تکمیل میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے اور ساتھ ہی چین علاقائی بنیادوں پر اقتصادی تعاون میں اضافے کے نئے معاہدے کرنے میں بھی کامیاب جا رہا ہے۔دوسری طرف پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل کو اپنی معاشی ترقی ہی نہیں بلکہ اپنے دفاع کا سہارا بھی سمجھتا ہے۔چین اپنے قومی اہداف میںہمیشہ واضح رہا ہے لیکن پاکستان اپنے قومی اہداف پر واضح پالیسی اختیار کرنے کی حکمت عملی پر کبھی عمل پیرا نظر نہیں آیا۔ہندوستان کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ ہو یا افغانستان اور دہشت گردی کا  مسئلہ ،قومی اہداف کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی مبہم اور’ خفیہ ایجنڈے’ کے طور پرنظر آتی ہے۔پاکستان کو ہندوستان اور افغانستان کی طرف سے دبائو ،پریشانی کا سامنا ہے لیکن کشمیر اور افغانستان سے متعلق واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں حکمت عملی کے حوالے سے” متفقہ عزم” نظر نہیں آتا۔پاکستان میں سول حکومتوں کے قیام کے باوجود جمہوریت بے اختیار کردار کے طور پر دکھائی دیتی ہے۔پارلیمنٹ کی بالادستی کہیں نظر نہیں آتی۔ملک میں اقتدار و اختیار کی کھینچا تانی مسلسل جاری ہے۔ملکی حاکمیت کی اس داخلی کشمکش نے ملک کو درپیش خطرات کو سنگین سے سنگین تربنا دیا ہے۔قیام پاکستان کے بعد جب گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے انگریز کمانڈر انچیف کو قبائلی علاقوں سے فوج ہٹانے کا حکم دیا تو اس نے جواب دیاکہ برٹش آرمی کو وہاں چوکیاں قائم کرنے میں عشروں لگے ہیں۔اس پر قائد اعظم نے جواب دیا کہ فوج ہٹنے سے ہی قبائلی عوام کو معلوم ہو گا کہ پاکستان بن گیا ہے اور وہ آزاد ہو گئے ہیں۔قبائلی علاقہ جات سے عسکری تنظیموں کا خاتمہ کرتے ہوئے اس خطے پر کنٹرول حاصل کرنا بلا شبہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی اہم پیش رفت ہے لیکن پاکستان سے حقانی گروپ و دیگر عسکری تنظیموں کے خلاف کاروائی کا امریکی مطالبہ مزید سختی سے کیا جا رہا ہے۔ ملک میں موجود عسکری تنظیموں ،ان کی طرف سے سیاسی جماعتیں بنانے سے متعلق امور پر سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر میں فرق واضح طور پر سامنے آ رہا ہے۔حکمت عملی کے اعتبار سے سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلاف رائے کشمیر اور افغانستان کے مسائل و امور سے متعلق بھی ہے۔ نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کی تقریب سے خطاب میں  وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ملک میں عسکری گروپوں کے حوالے سے ایسا بیان دیا ہے جو ہماری اسٹیبلشمنٹ سے مطابقت میں دکھائی نہیں دیتا۔خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں انڈیا کے بارے میں کہا کہ پاکستانی حکومت نے متعدد بار انڈیا سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں اور بشمول مسئلہ کشمیر تنازعات پر مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن انڈیا نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا بلکہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔پاکستان انڈیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ تمام تنازعات کو حل کیا جائے اور خطہ میں امن و استحکام قائم کیا جائے۔ امریکہ کی طرف سے ہندوستان کو افغانستان میں وسیع کردار دینے سے پاکستان کے لئے مشکلات اور خطرات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کرانے کے لئے افغانستان کی سرزمین کو ہندوستان سہولت سے استعمال کر رہا ہے۔پاکستان پر اس عالمی دبائو اور پاکستان کی داخلی سیاسی محاذ آرائی کی صورتحال میں ہندوستانی زیر بد انتظام کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کو کچلنے کی مہم مزید شدت سے جاری ہے۔کشمیریوں کو ہر شعبہ ہائے زندگی میں سزایاب کرتے ہوئے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے ۔گزشتہ کئی ماہ سے بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں آپریشن”آل آئوٹ” کے نام سے کشمیری مجاہدین آزادی کو ہلاک کرنے کی کاروائیوں میں مصروف ہے۔بھارتی فوج روزانہ مختلف آبادیوں کا گھیرائو کرکے ظلم و جبر اور قتل و غارت گری کرتی ہے۔سیاسی کارکنوں کو سنگین الزامات میں گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت ترین کاروائیاں کی جاتی ہیں۔حریت رہنمائوں کے علاوہ تاجروں،وکلاء اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے کشمیریوں کے خلاف ”حوالہ رقوم” کے الزامات میں سخت کاروائیوں کا سلسلہ بھی شروع کیاگیا ہے۔بھارتی تفتیشی ادارے ”این آئی اے” کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں چھاپوں،تلاشیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔گرفتار ہونے والوں کو دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے جہاں ان پر قیدیوں اور انتہا پسند ہندوئوں کی طرف سے تشدد کرانے کی واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔گزشتہ بدھ کوکشمیر یونیورسٹی کے ایک ریسرچ اسکالر اعلی فاضلی کو منی لانڈرنگ کے ایک معاملہ میں تفتیش کے لئے گرفتار کرنے پر کشمیر یونیورسٹی کے طلبہ کے ہڑتال شروع کی ہے۔مقبوضہ کشمیر سے ویزے پر پاکستان جانے والے کشمیریوں سے ایئر پورٹ پر سخت تفتیش کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ان کو بھی ” حوالہ روقوم” کے مقدمات میں ملوث کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس سے مقبوضہ کشمیر کے پاکستانی تعلیمی اداروں میں پڑہنے والے کشمیری نوجوان خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ساتھ ہی جموں وکشمیر کو عارضی بنیادوں پر تقسیم کرنے والی ورکنگ بائونڈری اور سیز فائر لائین پر پاکستان اور بھارت کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جس میں دونوں طرف متعدد سویلین بھی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں عوام بھارت کے سخت ظالمانہ دبائو میں ہیں اور ساتھ ہی بھارتی عہدیداروں کی طرف سے آزاد کشمیر میں” سرجیکل سٹرائکس” کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔افغانستان کی طرف پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر دہشت گردوں کے حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں پاکستانی فوج کے متعدد جوان شہید ہوئے ہیں۔بلوچستان کی صورتحال دہشت گردی کے علاوہ دیگر موضوعات سے متعلق بھی درپیش ہے۔اب امریکہ کی طرف سے افغانستان میں بھارتی کردار میں اضافے اور امریکی مطالبات سے پاکستان کے لئے خطرات کی شدت میں اضافے کا عندیہ ملتا ہے۔یوں بھارت اور افغانستان کی طرف سے پاکستان پر بڑہتے عسکری دبائو اور خطرات کی صورتحال میں پاکستان میں اقتصادی راہداری کے تاریخی نتائج پر مبنی اہم منصوبے پر تیزی سے کام ہو رہا ہے اور اسی تناظر میں چین پاکستان کے دفاع میں ایک اہم اور موثر معاون کے طور پر نظر آتا ہے۔پاکستان کو درپیش خطرات کی شدت اور سنگینی میں اضافے کی بڑی اور بنیادی وجہ ملک میں سیاسی محاذ آرائی اور ملکی حاکمیت کی کشمکش ہے۔ملک میں عوام اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مکمل ہم آہنگی ملک کے مفاد ہی نہیں بلکہ ملک کی سلامتی کے لئے بھی ناگزیر ضرورت کے طور پر درپیش ہے،اب ”ایک پیج ” پر ہونے کی طرح کی اصلاحات سے خود فریبی کے جالے نہیں بنے جا سکتے۔

یہ بھی پڑھیں  جماعت اسلامی پاکستان کے نومنتخب امیرسراج الحق کی استقامت اورکامیابی کیلیے جماعت اسلامی ضلع قصورکی دعائیہ تقریب