تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

پانامہ لیکس کامعاملہ اور جوڈیشل کمیشن

zafarاس میں کوئی شک نہیں کہ آف شورکمپنیوں سے متعلق پانامہ لیکس پیپر نے وطن عزیز سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ہلچل مچادی ہے اور اس کا حکمرانوں پرعوامی اور سیاسی دباؤ کااندازہ اس بات سے بآسانی لگایاجاسکتاہے کہ آئس لینڈ کے وزیراعظم سگمنڈرڈیوڈ عوام کے شدید احتجاج کے پیش نظر گھٹنے ٹیک کرنہ صرف وزارت عظمیٰ کے منصب سے مستعفی ہونے پر مجبورہوئے بلکہ ملک کے صدر کو اسمبلی توڑنے کی بھی سفارش کردی ہے اور موصولہ اطلاع یہ ہے کہ آئس لینڈ کی اسمبلی تحلیل کردی گئی ہے۔پانامہ لیکس میں آف شورکمپنیوں سے متعلق وزیراعظم نوازشریف کے خاندان پربھی خفیہ کمپنیاں رکھنے کاذکرآیااورالزام لگے توانہوں نے وزارت عظمیٰ کے منصب سے دستبرداری میں پہل کی نہ آئس لینڈکے وزیراعظم کی تقلید۔البتہ 5اپریل کوقوم سے خطاب ضرورکیاجس میں انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈجج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کااعلان کردیا۔مختصر خطاب میں وزیراعظم نے اپنے خاندان اور کاروبارکے پس منظرکااحاطہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ پہلی بارذاتی زندگی کے حوالے سے قوم سے مخاطب ہیں اور یہ اس لئے کہ ایک بارپھر کچھ لوگ ان پر اور ان کے خاندان پر الزامات عائد کرنے پر اتر آئے ہیں جنہیں میڈیامیں اچھالاجارہاہے ۔وزیراعظم نواز شریف کے مطابق ان کے والد نے قیام پاکستان سے قبل اتفاق فاؤنڈری کی بنیادرکھی تھی جس کی ایک شاخ مشرقی پاکستان میں بھی قائم ہوچکی تھی اور اس صنعتی ادارہ سے سینکڑوں خاندانوں کو روزگارملاتھالیکن مشرقی پاکستان کی شاخ تو1971ء میں سقوط ڈھاکہ کی نذر ہوگئی جبکہ لاہورکی اتفاق فاؤنڈری پر 2جنوری 1972ء کو ذوالفقارعلی بھٹونے شب وخون مارایوں 1936ء سے جاری ان کی کاروباری محنت ان سے چھین لی گئی مگر ان کے والد نے ہمت نہیں ہاری اورمحض چھ ماہ کے قلیل عرصے میں چھ نئی فیکٹریاں قائم کیں جبکہ جولائی 1979ء میں دوباہ اتفاق فاؤنڈری کی صنعتیں قائم کی گئیں۔وزیر اعظم کے مطابق جب ان کے خاندان کا سیاست سے دورکابھی کوئی تعلق نہیں تھااس دورمیں وہ کروڑوں روپے کاٹیکس اداکرتے رہے تاہم سیاست میں آنے سے قبل اور سیاست میں آنے کے بعد ان کے خاندان کو سیاسی انتقام کانشانہ بنایاگیا۔1989ء میں انہیں 50 کروڑ روپے کانقصان اٹھاناپڑاجبکہ پیپلزپارٹی کے دوسرے دوراقتدارمیں اتفاق فاؤنڈری کے صنعتوں کی چھنیوں کو ٹھنڈاکیاگیااور1999ء میں نہ صرف ان کی حکومت ختم اور انہیں ملک بدر کیاگیابلکہ ماڈل ٹاؤن لاہورمیں ان کے آبائی گھرپر بھی قبضہ کیاگیا مگر اس کے باوجودکبھی ان کے قدم ڈگمگائے نہ کسی عدالت میں ان کے خلاف الزامات ثابت کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے والد نے سعودی عرب میں سٹیل ملز قائم کی تھی جس کے لئے سعودی بنکوں سے قرضے لئے گئے تھے۔اپنے بیٹوں کاذکرکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ حسن نواز1994ء سے لندن جبکہ حسین نواز2000 سے سعودی عرب میں کاروبارکی غرض سے مقیم ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ملک میں محنت کریں توتنقید اورملک سے باہر روزگارکریں تو الزامات لگائے جاتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیاکہ کسی بنک سے انہیں اور ان کے خاندان کوایک روپے کابھی قرضہ معاف نہیں ہوااورانہوں نے نہ صرف پونے چھ ارب روپے کے قرضے بنکوں کو اداکئے بلکہ وہ قرضے بھی اتارے جوان پر واجب نہیں تھے۔ان کے مطابق انہوں نے اقتدارکوکبھی بھی روزگارسے منسلک نہیں کیااپنے خطاب کے آخرمیں وزیراعظم نے پانامہ لیکس کی روشنی میں آف شورکمپنی کے لگے الزامات کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈجج کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن بنانے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ کمیشن تحقیقات کرکے اپنی سفارشات پیش کرے گا۔ ان کے مطابق ان کے پاس آئے روزلگنے والے الزامات کے جواب دینے کاوقت ہے نہ ہی وہ اپنی توانیاں اس قسم کے کاموں پر خرچ کرنا چاہتے ہیں البتہ روز الزامات کاتماشہ لگانے والوں سے کہتاہوں کہ وہ کمیشن کے سامنے الزامات ثابت کریں۔یہ تو تھیں وزیراعظم نواز شریف کی وہ لب کشائی جوانہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کی ۔اس سے قبل جب پانامہ لیکس کے الزامات سامنے آئے تو سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے وزیراعظم کوآڑے ہاتھوں لیااور ان سے وزرات عظمیٰ کاعہدہ چھوڑنے اور الزامات کی تحقیقات کامطالبہ کرتے رہے اور اب جبکہ وزیراعظم نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے معاملے کی تحقیقات کااعلان کیاتواس پربھی تحفظات کااظہارکیاجارہاہے۔پی ٹی آئی ،پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی نے وزیراعظم کے اعلان کردہ جوڈیشل کمیشن کوقوم کی آنکھوں دھول جھونکنے کے مترادف قراردیتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکارکیاہے ان جماعتوں کامؤقف ہے کہ جوڈیشل کمیشن حاضرسروس ججزپر مشتمل ہوناچاہئے اور اس کے سربراہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہو۔اگرچہ اظہاررائے جمہوری حق ہوتاہے اور گوکہ پی ٹی آئی سمیت کوئی بھی سیاسی جماعت ہویاعام شہری وہ وزیراعظم کے کردارپرتنقید سمیت کسی بھی حوالے سے الزامات لگانے اور تحفظات ظاہرکرنے کاحق ضروررکھتے ہیں مگرجمہوری نظام کے اندر آئین وقانون بناء ثبوتوں اور شواہد کے کسی کی پگڑی اچھالنے کی بھی کسی کواجازت نہیں دیتے۔وزیراعظم اور ان کاخاندان اگر غیرقانونی سرمایہ کاری میں ملوث ہے توالزام لگانے والے کمیشن کے سامنے شواہد پیش کریں البتہ آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کے لئے وزیراعظم کی جانب سے کسی ریٹائرڈجج کی سربراہی میں اعلان کردہ جوڈیشل کمیشن پرپی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کااعتراض بجاہے مگرسوال یہ اٹھتاہے کہ اگر ریٹائرڈجج کی جگہ اس کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر کئے جاتے ہیں تو کیاپی ٹی آئی اور الزام لگانے والے دیگر لوگ وہاں ثبوت پیش کرپائیں گے حالانکہ ذکرہومحض الزامات کا تووہ توانتخابی دھاندلی سے متعلق بھی لگائے گئے اورمحض الزامات کی بنیادپر منتخب وزیراعظم سے مستعفی ہونے کامطالبہ کیاجارہاتھا مگر جب تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بناتوالزام لگانے والے ثبوت اور شواہد پیش کرنے سے قاصررہے لہٰذاضرورت اس امر کی ہے وجورکھتے حقائق پر مبنی ٹھوس ثبوتوں اور شواہد کوسامنے لایاجائے نہ کہ کسی کی ذاتی اورسیاسی ساکھ بدنام کرنے کے درپے لوگ محض بے بنیاد پروپیگنڈہ کاسہارہ لیںیاد رہے کہ کسی پر الزام لگنے سے اس کی ساکھ متاثرضرورہوتی ہے لیکن اگرالزام جھوٹااور بے بنیادہوتو اس کانقصان لگانے والے ہی اٹھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  متحدہ کی جانب سے دھرنوں کے شرکاء کیلئے کھانا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker