پاکستانتازہ ترین

قطری شہزادے کی شہادت کے بغیرجے آئی ٹی رپورٹ قبول نہیں: لیگی وزراء

اسلام آباد(مانیٹرنگ سیل) وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ قطری شہزادے کی شہادت کے بغیر جے آئی ٹی کی رپورٹ قبول نہیں کریں گے،  جےآئی ٹی پرسوالات اٹھ رہے ہیں، ہمیں انصاف ہوتا نظرنہیں آرہا، ارکان کا انتخاب روز اول سے ہی متنازع رہا ہے۔ دھرنوں سےپاکستان کوسی پیک کےمعاملے پربڑانقصان ہوا۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور وزیر پیٹرولیم شاہدخاقان عباسی، احسن اقبال اور خواجہ آصف نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جےآئی ٹی پر مسلم لیگ ن کے وزراء کی تنقیدی پریس کانفرنس میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ منی ٹریل کے شواہد عدالت میں پیش کیے جاچکے تھے۔ جےآئی ٹی نے جوسوالات پوچھےان کابھی جواب دیاگیا، جب سےجےآئی ٹی نےکام شروع کیاسوال اٹھ رہےہیں، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمارےمعاشرے کی روایت ہے خواتین تفتیش میں شامل نہیں ہوتیں۔ وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے تحفظات کے بغیر جے آئی ٹی میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا، کڑے احتساب کے باوجود وزیر اعظم کے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہوئی، عدالتوں کے پاس سوموٹو طاقت ہے لیکن ہم گھبرانے والےنہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ ن بڑی جماعت ہے، ہمارا اثاثہ چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیراعظم نے عدالتی طریقہ کار پرسوال نہ کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن بڑے بھاری دل کے ساتھ یہ باتیں کرنی پڑرہی ہیں کہ جےآئی ٹی کی حیثیت روزاول سے متنازع رہی ہے، یہ ایک عجیب وغریب ملغوبہ بن گیا ہے۔ جےآئی ٹی میں دو اداروں کی شمولیت پروزیراعظم کو اعتراض کا مشورہ دیا گیا لیکن وزیراعظم کا مؤقف تھا کہ جےآئی ٹی پرسوالات نہ اٹھائےجائیں, فاضل ججز کے ریمارکس کو مخالفین نے ہمارےخلاف استعمال کیا۔ سعدرفیق کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کا بیک گراؤنڈ رہاہے، ایک رکن کو مشرف دورمیں نیب میں شریف خاندان کے پیچھے لگایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قانون میں فون ٹیپ کرنےکی اجازت نہیں، جےآئی ٹی نے فون ٹیپ کرنے کا اعتراف کیا، کس قانون کے تحت فون ٹیپ کیےگئے؟ فون ٹیپ سے متعلق کسی ادارےکی تردید یا تصدیق نہیں آئی، تصویرلیک کی ذمہ داری اٹھائی گئی لیکن ذمہ دارکون ہے نہیں پتہ، ہمیں انصاف ہوتانظرنہیں آرہا۔ ان کا کہنا تھا کہ طارق شفیع کے وزیراعظم ہاؤس جانے پراعتراض کیا گیا، جےآئی ٹی کے ایک رکن نے طارق شفیع کے ساتھ غیرمہذب سلوک کیا، جے آئی ٹی میں لوگوں پر بیان بدلنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، ہمارے حساب سے جےآئی ٹی کی سربراہی ایف آئی اے کو کرنا تھی۔ خواجہ سعدرفیق نے بتایا کہ جے آئی ٹی کے رکن بلال رسول میاں اظہر کے بھتیجے ہیں اور ان کی اہلیہ ق لیگ میں تھیں، سیاست میں آنے سے پہلے کا حساب کتاب شروع کرینگے تو ایسے بہت خاندان ہیں۔ ایک اخبارمیں خبر شائع ہوئی کہ حساس ادارے کے پاس جےآئی ٹی کا کنٹرول ہے، خبرکے مطابق یہ کنٹرول عدالتی حکم کےتحت دیاگیا، اس خبر سے متعلق حساس ادارے کی تردید یا تصدیق بھی نہیں آئی، بغیرثبوت ایسے سلوک ہورہا ہے جیسے کوئی چوری کی گئی ہے، چوری کہاں ہوئی ہےکوئی نہیں بتاتا۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ2013کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کو بھرپور مینڈیٹ ملا لیکن ایک سیاسی قوت اورلیڈر نے ہمارامینڈیٹ تسلیم نہیں کیا اور اس نے حکومت اورجمہوریت کےخلاف سازشیں کرنا شروع کردیں۔ دھرنوں سے پاکستان کو سی پیک کےمعاملے پر بڑا نقصان ہوا، مخالفین قبل ازوقت انتخابات کی سازش کررہےہیں، اگر پاکستان کےاستحکام کےخلاف کوئی سازش کرے گا تو وہ منہ کی کھائےگا۔ احسن اقبال نے کہا کہ جوکام سڑک سے نہ ہوسکا تو پھر سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کیا گیا، سیاسی تھیٹر کےنتیجے میں ملک کی ترقی روکی جا رہی ہے، وزیراعظم کی بیٹی اوربیٹوں کی تذلیل کی جارہی ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button