تازہ ترینصابرمغلکالم

پانی

sabir mughalپانی انسانی تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور بنیادی عنصر ہے،دنیا کی عظیم ترین تہذیبیں دریاؤں کے کناروں پر اپنے آثار چھوڑ گئیں،دنیا کے جن بڑے شہروں کو تاریخی شہروں کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے وہ میں سے زیادہ تر کی تعداد دریاؤں کے کناروں پرہی ہے،ایمسٹرڈیم،بغداد،برلن،بگوٹا،کلکتہ،بیونس،کیرو،ڈربن،ہوچی منچ،ہانگ کانگ،جکارتہ،لیما،لندن،ملبورن،مانٹڈیل۔ماسکو،پیرس،پیراگوئے،روم،سینٹ پیٹرسپرگ،سیؤل،ساؤ پوؤلو،شنگھائی،وینا،زیوریچ اور ٹوکیوجیسے دریاؤں کے کنارے ہی آباد ہیں،پاکستان میں میں لاہور سمیت متعدد شہر اسی طرح ہیں،پانی ہوا کے علاوہ واحد ایسی نعمت ہے جس کا ہر شعبہ زندگی میں بنیادی کردار ہے،نبا تات،حشرات کی زندگی سمیت انڈسٹری،ٹرانسپوٹیشن میں جہاں ایندھن بنیادی اہمیت کا حامل ہے وہاں پانی کے بغیر بھی گذارا ممکن نہیں،پانی میں وسیع پیمانے پر تجارتی نقل و حمل ہوتی ہے،پانی مختلف کھیلوں کے لئے بھی مقبول ہے جن میں سوئمنگ ،واٹر اسکنگ،کشتی رانی وغیرہ شامل ہیں،دنیا میں 70فیصد تازہ پانی زراعت میں اور 22فیصد انڈسٹری میں استعمال ہوتا ہے،زندگی میں اس کا بہت بڑا کردار ہے،کسی بھی جانور میں جسامت کے حساب سے پانی کی مقدار to 70 55فیصد ہوتی ہے،،اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں سات ارب سے زائد افراد کو روزانہ پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے جن کی تعداد 2025تک 9ارب تک پہنچ سکتی ہے،تقریباً 2ارب افراد کو پینے کا صاف پانی مسر نہیں،ڈہریا کی وجہ سے سالانہ 1.4ملین بچے ہلاک ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ مضر صحت پانی ہے،تحقیقات کے مطابق ایک مرد کے لئے 3.7اور عورت کے ئلے 2.7لٹر پانی روانہ ضروری ہے،تاہم ہرانسان روانہ 2سے 4لٹا پانی پیتا ہے جس میں خوراک میں موجود پانی شامل ہے،ترقی پذیر ممالک اپنا 90فیصد پانی ضائع کر دیتے ہیں پاکستان بھی دنیا کے پہلے 10ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پہنچ چکا ہے جو پانی کی بدترین قلت کا شکار ہیں،دیگر دس ممالک میں بالترتیب صومالیہ ،موریطانیہ،سوڈان،نائیجر،عراق،ازبکستان،مصر۔ترکمانستان اور سائیبر ہیں،پانی کی کمی کے شکار ممالک میں پہلے چار کا تعلق افریقہ اور باقی کا ایشیا میں ہیں،دنیا میں سب سے بڑا دریا ،دریائے نیل (مصر )ہے جو 6695کلومیٹر طویل ہے تاہم دوسرے نمبر پر آنے والا دریا ۔دریائے امازون اہمیت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے،پاکستان میں پانی کی مقدار اور معیار دونوں مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں،قیام پاکستان کے موقع پر ہر شہری کے لئے 56سو کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا جو گھٹ کر صرف ایک ہزار تک پہنچ چکاہے اور اس میں کمی کا سفر جاری ہے،پاکستان میں صرف 18فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے ان میں وہ طبقہ بھی شامل ہے جو ذاتی اثرورسوخ سے پانی حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر71فیصد آبادی پانی کی قلت کا شکار ہے،تشویش ناک امر یہ ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور آبی ذخائر کی کمی سے آنے والا وقت ہمیں سنگین بحران سے سے ہمکنار کر سکتا ہے،پاکستان کی زراعت،ٹیکسٹائل اور بجلی کی پیداواری صلاحیت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے،پانی اور بجلی کی کمی کی وجہ سے ہم تباہی کے دہانے پر کھڑتے ہیں،کھیت ویران اور صنعت ٹھپ ہے ،بے روزگاری کا طوفان اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے،پاکستان بھر میں آبی گذر گاہوں کی کمی نہیں،دریاؤں میں دریائے سندھ،انڈس،بیاس،چناب،ستلج،جہلم،کابل،سوات،کرم،ٹوچی،چترال،گھکر،کورنگ،دخش،شگر،سواں،ڈوری،گومل،شکسگام،کنہار،توی،جندی، ہیسپر،شنگھو،استور،ٹودی،پونچھ،کیچ،پنجگورہ ،ہنزہ،ژوب،بارو،نیلم،حب،گلگت،بارو،شیوکل اور روپل وغیرہ شامل ہیں درایء سندھ پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے جس کی لمبائی 3180کلومیٹر ہے،پاکستان میں 82کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم ہیں،19بیراج اور 57بڑی نہریں ہیں جبکہ پنجاب کے نہری نظام کو دنیا کا بہترین نظام مانا جا تاہے جو مجموعی طور 3096نہروں پر مشتمل ہے یہ نہریں 23712کلومیٹر طویل ہیں جو 23.35ملین رقبہ کو سیراب کرتی ہیں،ہمارے پاس دنیا کا دوسرا بڑا ڈیم۔تربیلا ڈیم ۔بھی ہے جو 240مربع کلومیٹر رقبہ پر محیط ہے،پاکستان بھی آبی ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے قدرتی طور پر حاصل ہونے والے پانی کا صرف 10فیصد ہی زخیرہ کر پاتا ہے باقی سیلاب کی صورت میں تباہی پھیلاتا ،اجاڑتا اور سب کچھ بہا کر لے جاتے ہوئے سمندر کی نذر ہو جاتا ہے جبکہ دوسری طرف بھارتی آبی جارحیت کی وجہ سے ہماری لاکھوں ایکڑ سونا اگلتی اراضی بنجر پڑی ہے اور آئندہ تین سے چار سالوں میں پاکستان کو بھوک پیاس اور قحط سے کوئی نہیں بچا سکے گا،بھارت جہلم اور چناب پر درجنوں چھوٹے بڑے ڈیم بنا چکا ہے اسی طرح دریائے سندھ پر بھی ہمارا پانی روکنے پر تیزی سے کام جاری ہے،انڈیا نے اپنے ڈیموں کو پانی ذخیرہ کرنے کی وجہ سے آپس میں۔لنک۔کر رکھا ہے،اگر ہم تیس دن کا پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں تو انڈیا300دن کا ،اس کا جب دل چاہے ہمیں ڈبو ڈالے اور جب دل چاہے ہمارے خشک سالی سے دوچار کر دے،ایک رپورٹ کے مطابق بھارت ہمارے چوری شدہ پانی سے 75لاکھ ایکڑ اراضی سیراب کر رہا ہے،بھارت کی یہ آبی دہشت گردی یہودی لابی کے اشتراک سے جاری ہے جس پر 230ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے جو محض شرارت نہیں بلکہ سخت جارحانہ حکمت عملی ہے،دریائے سندھ میں صرف 20فیصد پانی آرہاہے،دنیا کی تمام ترقی یافتہ اقوام نے انہیں بنیادی کاموں پر توجہ دے کر یہترقی حاصل کی،ابھی ایک سال قبل ہی چین نے ۔تھری گورجہ ۔نامی ڈیم بنایا ہے جس کی جھیل 600کلومیٹر لمبی ہے اس ڈیم سے چائنا50 22میگا واٹ بجلی پیدا بن رہی ہے اسے تین گھاٹی بند بھی کہا جاتا ہے ،اسے دنیا کا سب سے بڑا ڈیم ہونے کا اعزاز حاصل ہے،اس کی تعمیر پر 14سال کا طویل عرصہ لگا،13سو کسانوں نے بلا معاوضہ جگہ دی ،ملین سے زائد لوگ بے گھر ہوئے اور 1300آثار قدیمہ اس ڈیم کی نذر ہو گئے لیکن قومی مفاد میں حکومت چین نے یہ ڈیم بنا کے ہی چھوڑا ،اس وقت کے پاس چھوٹے بڑے 8000ڈیم ہیں اور مزید پر کام جاری ہے،جبکہ ہمارے دوسرے پڑوسی اور ازلی دشمن ہندوستان میں 4290ڈیم مکمل ہو چکے ہیں،سوفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے حال ہی میں کہا کہ ۔ہم پانی کے قحط الرجال کی صورتحال کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں،آبی ذخائر کا سوچتے ہیں تو یہ سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں،پانی کی کمی سے نبٹنے کے لئے بھی قومی ایکشن پلان کی ضرورت ہے،ہم من حیث القوم پانی کے ضیاع میں ملوث ہیں،ہر سال بدترین سیلاب آتا ہے مگر ہم پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں ،وزیر موصوف نے ایک سال قبل بھی قوم کو بتایا تھا کہ ۔آئندہ تین سال تک اگر پانی کے لئے بہتر انتظام نہ ہو سکا تو ہم ایتھوپیا کی طرح قحط زدہ ہو جائیں گے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس قدر موجودہ اعلیٰ اقتداری شخصیت کو اس حد تک ادراک ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس جانب توجہ نہیں؟کیا ان کے نزدیک قومی مفادات کی کوئی حیثیت نہیں ؟یہ قومی مفادات پر سیاسی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں تو ملک اس ۔بھنور۔سے کیسے نکلے گا،ماہرین کے مطابق ہر نیا ڈیم پاکستان کی قومی پیداوار میں 5.1فیصد اضافہ کرے گا جس سے قومی پیداوار 115بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی،مگر ہو اس کے بر عکس رہا ہے صرف بھاشا ڈیم کی تعمیر میں تاخیر سے قومی خزانے کو 200ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا رہا ہے بجلی اور پانی کی کمی سے پہنچنے والا نقصان اس سے الگ ہے کیونکہ بھاشا ڈیم کم از کم 3کروڑ 3لاکھ ایکڑ اراضی کی آبپاشی کی ضروریات پوری کرے گا،بتایا جاتا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں مخالف لابی سالانہ 112ارب روپے خرچ کر رہی ہے،ضرورت کے مطابق آبی ذخائر کا نہ ہونے سے ہر سال لاکھوں افراد ۔بے روزگاری۔کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں جس میں تشویش ناک تک اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام تر سیاسی اور لسانی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آبی ذخائر کو ترجیحات میں اولیت دی جائے اسی میں ہماری بقا ہے ورنہ ہم اغیار کے دست نگر ہی رہیں گے اور ایتھوپیا جیسی صورتحال کسی گدھ کی طرح ہمیں نوچ جائے گی ۔پاکستان کے تقریباً تمام شہروں میں ناقص اور مضر صحت پانی ہے ،ان میں سنکھیا کی مقدار خطرناک حد تک ہے ،گردے ناکارہ ،پھپھڑے تباہ ،ہیپاٹائٹس ہر دوسرے شخص کو مگر دعوے کرنے والوں کی من مرضی سے ہی ۔صاف پانیَ۔70روپے لٹر تک پہنچ چکا ہے…..

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button