بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

پانی اور زندگانی

اسلام آباد ،راولپنڈی،فیصل آباد،لاہور،ملتان ،کراچی،حیدرآباد اور سوات سمیت ملک کے دیگر شہروں میں پانی کی قلت کے حوالے سے اطلاعات میں کسی حد تک صداقت ہو سکتی ہے مگر آذادکشمیر میں پانی کی کمی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔گزشتہ چند ہفتوں سے تواتر کے ساتھ یہ خبریں آرہی ہیں کہ آذادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں پانی کی شدید قلت شروع ہو چکی ہے۔بالخصوص رمضان المبارک شروع ہوتے ہی پانی کی غیر معمولی کمی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ اسلام آباد اور راولپینڈی میں راول ڈیم اور خان پور ڈیم سے پانی سپلائی کیا جاتا ہے
فیصل آباد میں ٹیوپ ویلز اور نہری نظام کے ذریعہ شہریوں کو پانی مہیا کیا جاتا ہے ۔لاہور دریا راوی ،ملتان ،حیدر آباد اور کراچی میں دریائے سندھ کے علاوہ ٹیوٹ ویلز اور سمندر سے پانی کی بڑی مقدار عوام کی ضروریات کے لئے مہیا کی جاتی ہے۔سوات میں آپریشن کے بعد پانی کی قلت کو دور کرنے کے لئے درجنوں ٹیوٹ ویلز فنگشنل ہو چکے ہیں جبکہ آذادکشمیر میں پانی کی کمی کا سوال کیوں پیدا ہوا؟ اس کا مدلل جواب حکمرانوں کے کانوں تک پہنچانا از بس ضروری ہے۔پہلی بات یہ ہے کہ ملک بھر سیمت آذادکشمیر میں اللہ کے بے شمار انعامات ہیں کہ ہزاروں چشمے اور صاف پانی کے ندی نالوں کی بہتات ہے۔اگر ان سے استفادہ حاصل کیا جائے تو پاکستان کے بڑے بڑے شہروں کو بھی صاف پانی بآسانی فراہم کیا جا سکتا ہے۔منصوبہ بندی نہ ہونے سے پانی کی بڑی مقدار ضائع ہو رہی ہے ۔2005ئ کے زلزلے کے بعد بحالی و آباد کاری کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر سے امدادی کارروائیوں کے نتیجے میں واٹر سپلائی کے پہلے سے چار گنا زیادہ منصوبے بنائے گئے اور پائپ بھی سائز میں دو سے چار گنا بڑے نصب کئے گئے۔ہر گائوں سے شہر تک جہاں جہاں آبادی نظر آرہی ہے ہر جگہ واٹر سپلائی کا منظم سیٹ اپ موجود ہے۔
اللہ کے فضل و کرم سے آذادکشمیر میں بے شمار پانی کے ذخائر موجود ہیں۔جہاں زلزلے سے قبل ایک انچ کی پائپ لائن گزرتی تھی وہاں اب دو سے چار انچ کی لائینں گزر رہی ہیں۔ہر آبادی کے قریب بڑے بڑے واٹر ٹینک تعمیر کیئے گئے ہیںتاکہ وافر مقدار میں پانی کا ذخیرہ رہے۔اتنا کچھ ہونے کے باوجود پانی کی کمی کیوں ہو رہی ہے؟ اس پر اربابِ اختیار کو متوجہ کرنا ضروری ہے۔پانی کی ہر شہری تک فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے جس کے لئے ہر شہر میں واٹر سپلائی کا نظام موجود ہے۔ آذاد کشمیر میںباقاعدہ ایک محکمہ ’’پبلک ہیلتھ‘‘ کے نام سے قائم ہے۔جو پانی کی قلت کا بنیادی سبب ہے۔ہو ٹلوں ،حماموں اور من پسند گھروں میں ہمہ وقت پانی کی فراہمی کی جاتی ہے اور بے شمار غیر قانونی کنکشن بھی ہر جگہ موجود ہیں۔پانی کی ترسیل کا نظام کسی ترتیب سے نہیں بلکہ جیب گرم کرنے کے طریقوں سے چلایا جا رہا ہے۔ایسے بے شمار کنکشنز ہیں جن سے باقاعدگی کے ساتھ’’ بھتہ‘‘ وصول کیا جاتا ہے۔ایک اور کمائی کا نیا دھندہ بھی درپردہ شروع کیا گیا ہے کہ واٹر ٹینکرز کے ساتھ مل کر پانی کی جان بوجھ کر کمی پیدا کر کے ان کے کاروبار کو حصہ داری پر فروغ دیا جا تا ہے۔اس طرح فی ٹینکر 2000ہزار روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔
دراصل ہمارے تمام اداروں میں عوام کو لوٹنے کے زرائع پیدا کیئے گئے ہیں۔پوچھنے والے بھی اس معاملے میں ’’ڈنگ ٹپائو‘‘ پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔اعدادو شمار کے گورکھ دھندے سے حکمرانوں کو طفل تسلیاں دی جاتی ہیں اور ایسے ایسے جواز پیدا کئے جاتے ہیں کہ سننے والا دھنگ رہ جاتا ہے۔پبلک ہیلتھ کی آفسر شاہی نے پورے نظام کو ہائی جیک کر رکھا ہے ،ماتحت عملہ شیر بن کر صارفین کو دن کے اوقات میں تارے دکھانے میں ماہر ہو چکا ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ عام شہری پانی کے لئے ترستا ہے جبکہ بڑے لوگوں کے گھروں میں وی وی آئی پی پائپ لائنز لگی ہوئی ہیں۔اگر اچانک چھاپہ مارا جائے تو مذکورہ محکمہ کے کسی بھی ملازم کے گھر میں پانی کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ،ہر وقت ان کے گھروں میں پانی اس طرح چلتا ہے جیسے گھر کے اندر ہی چشمہ ہو۔
اس درد ناک کہانی کا ڈراپ سین یہ ہے کہ اگر مذکورہ محکمہ کی اصلاح احوال نہ کی گئی تو آئندہ بجلی کے بحران سے بھی ذیادہ تکلیف دہ صورت حال رونما ہو سکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہر کہ حکومت سب سے پہلے انتظامی بگاڑ کو دور کرنے کے لئے موثر اقدامات اٹھائے ۔ایسے ملازمین پر کڑی نظر رکھی جائے جو احساس ذمہ داری سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔یہاں تو ’’چور مچائے شور‘‘ والی صورت حال ہے ۔جب تک گرینڈ آپریشن نہیں کیا جاتا تب تک اس پر سوچنا اپنے آپ پر ظلم کے مترادف ہے۔ماشائ اللہ ہمارے قومی اداروں میں بے شمار فرض شناس،دیانت دار،انسان دوست اوصاف کے حامل افراد موجود ہیں ۔حکومت کو چاہئے کہ وہ پبلک ہیلتھ کی از سرِ نو تنظیم سازی کرئے ،محکمہ جاتی تطہیر کی جائے۔برسوں سے ایک علاقے میں تعینات ملازمین کے تبادلے کر کے نئے آنے والوں کو ٹارگٹ دیا جائے کہ وہ موجودہ وسائل میں رہ کر کاکردگی کو بہتر بنا کر پیش کریں۔جب تک ہر ملازم کو اس کی ذمہ داری کا احساس نہیں دلایا جائے گا تب تک نظام ٹھیک نہیں ہو سکے گا۔اس بے مہار ہجوم کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔یقینی طور پر جب نظام ِ کا ربہتر ہو جائے گا تو ایسے مسائل نہیں رہیں گئے۔انتظامیہ کی لاپروائی سے ایسے حالات جنم لیتے ہیں۔اگر انتظامی سربراہ ہوشمند ہو تو عوام کو کبھی بھی مشکلات کا سامنا نہیں اٹھانا پڑے گا۔حکومت کو چاہئے کہ وہ جملہ سرکاری ملازمین پر واضح کر ے کہ تمام ملازمین عوام کے خدمت گار ہیں لہٰذا انہیں عوامی مفادات کا ہر صورت دفاع کرنا چاہئے۔بہرحال یہ الگ موضوع ہے کہ ملازمین کی اصلاح کیوں،کیسے اور کب ہونی چاہئے؟آج صرف پانی کے حوالے سے گزارشات پیش خدمت ہیں اس سمت اصلاح کا آغاز ہوا تو پھر دیگر مسائل بھی سامنے لائے جائیں گے۔جب تک جذبہ اور فرائض سے لگن پیدا نہیں کی جاتی تب تک ہماری مغز ماری بے سود اور اندھے کے سامنے ناچنے کے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ہم نے بلوچستان کےعوام سے براسلوک کرکے انہیں باغی بنادیا،نوازشریف

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker