شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / پر دہ کے رو حانی و جسما نی اہمیت

پر دہ کے رو حانی و جسما نی اہمیت

اللہ تعا لیٰ نے قر آن پاک میں فر ما یا ائے نبی کی بیو یوں جب گھر سے با ہر نکلو اپنے چہر ے اور جسم کو مکمل دھا نپ کر نکلو نبی اکرمö نے بھی پردے کا حکم بڑی سختی سے دیا ہے ۔ ایک مشہور کہاوت ہے ۔ننگی عورت اور ننگی دولت دیکھ کر کسی کا بھی ایمان ڈگمگا سکتا ہے ۔ اور اس بات مصدقہ ہے کہ ننگی کوئی بھی چیز ہو وہ ہمیشہ یا اپنا نقصان کرے گی یا کسی دوسرے کا ۔ننگا برتن صحت کے لیے مضر ہے ۔ننگی دولت کو چور ضرور چرا کر لے جائے گا ۔اسی طرح بے پردہ عورت پر کئی نا محرموں کی نظر اٹھے گی اور پھر معاشرے میں بیگاڑ پیدا ہو گا ہمارے معاشرے کی صورتِ حال انتہائی گھمبیر شکل اختیار کر چکی ہے بازار میں نکلو تو عورتوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر آپ کو نظر آئے گا ۔وہ بھی میک اپ سے سجی ہوئی ننگے چہرے کے ساتھ ۔چہرہ تو دور کی بات مگر افسو س کہ ان کا چہرہ ہی نہیں بلکہ ان کے جسم کے کئی اعضا ئ بھی نظر آ تے ہیں ۔ اسی لیے اللہ نے خو بصو رت چیزوں کو پر دے میں رکھا جیسا کہ قر آ ن مجید اورکعبہ کو پر دے میں رکھا اور عو ر ت کو پر دے کی تلقین کی ۔ آج کی بنت ہوا با زار میں ننگی نظر آتی ہے ۔ وہ اپنے لبا س کو اس طر یقے سے بنا تی ہے کہ اس کا ایک ایک اعضا ئ صا ف نظر آتا ہے ۔ اگر کسی بہن کو کہا جا ئے کہ پر دہ ہی کر لو تو آگے سے جو اب ملتا ہے پر دہ دل کا ہو تا ہے۔ کیا امہا ت المو منین اور صحا بہ اکرام رضوان اللہ اجمین کی اذدواج کے دل کے پر دے نہیں تھے؟نبی علیہ السلام نے عو ر توں کو تلقین ہی نہیں کی بلکہ حکم دیا کہ نما ز پڑ ھ کر جب گھر وں میں وا پس جا نے لگو تو دیواروں کے سا تھ لگ کر جا ئو یعنی با زار کے بیچ میں نہ جا ئیں بلکہ سا ئید پر چلیں پر دہ عو رت چا ر دیواری کے اند ر کی زنیت مگر افسو س کہ آ ج ہو ا کی بیٹی زنیت با زار بنی ہو ئی ہے ۔ حیا ختم ہو تا جا ر ہا ہے بر ائیا ں بڑھتی جا رہی ہیں۔ حیا ئ ایسے جذبے کو کہتے ہیں جو دل کے اس احسا س سے کر و ٹ لیتا ہے کہ اللہ تعا لیٰ اس کے ظاہر و با طن کو دیکھ رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ انسان نیک کا مو ں کی جا نب را غب ہو تا اور بر ے کا موں سے نفر ت کر تا ہے۔ حیا ئ کے جا مع اور ہمہ گیر فو ا ئد کے پیش نظر آپö نے فر ما یا ۔
کہ حیا ئ کا حکم سا بقہ شر یعتوں میں مو جو د تھا ہر شر یعت میں اس پر بڑا زور دیا گیا تھا ۔ حیا ئ انسا ن کو مجبو ر کر تی ہے کہ وہ دین و اخلا ق کی سب پا بند یو ں کو قبو ل کر ے اور ان پر عمل پیر ا ہو۔
اس حد یث کا مطلب یہ ہے کہ تہذیب و شر ا فت اور انسا نیت کا تقا ضا یہ ہے کہ ہر مسلما ن حیا ئ دار بن جا ئے شر م و حیا ئ بر ا ئیوں سے رو کتی ہے بے حیا ئ اور بے شر م آدمی معا شر ے میں کسی قا نو نی بند ش کو تسلیم نہیں کر تا ۔ اسی لیے فر ما یا کہ بے حیا ئی سے اجتنا ب کر نا چا ہیے۔ تا کہ معا شر ے میں بگا ڑ اور فسا د پیدا نہ ہو ۔ حیا ئ کو اخلا ق میں بنیا دی حیثیت حاصل ہے اسی لیے حضو ر öنے اسے ایما ن کا حصہ قر ار دیا ۔ جب انسان میں شر م و حیا ئ کا جذبہ با قی نہ رہے تو اس سے کسی نیکی اور بھلا ئی کی اُمید نہیں کی جا سکتی ۔
فرما ن نبوی ہے جب تو شر م محسو س نہ کر ے تو جو تیرا جی چا ہیے کر ، اس حد یث میں حیا ئ کی تلقین کی گئی ہے۔ آ ج کی نو جو ان نسل بے پر د گی کی تما م حدیں عیور کر تی جا ر ہی ہیں۔ جہا ں عو رت کا لبا س 5 یا 6 میٹر میں بنتا تھا اب کم ہو تے ہو ئے اگر آج ہی عو ر تیں با پر دہ ہو جا ئیں آ دھی معا شر تی برا ئیا ں ختم ہو جا ئیں گی۔ با پر دہ عو رت کے لیے آ خر ت میں بھی بڑا اجر ہے۔ بے پر دہ کے لیے عذاب ، با پر دہ عو رت غیر مر د کی نگا ہو ں سے بچی رہتی ہے۔ بے پر دہ عو رت ہر نگا ہ کا نشا نہ بنتی ہے۔ پر دہ کے جہا ں روحا نی فو ا ئد و نقصا نا ت ہیں وہا ں جسما نی فو ا ئد نقصا نا ت بھی ہیں۔ عام دیکھنے میں آیا ہے کہ جسم کا جو حصہ ڈھکا ہوا ہوتا ہے دوسرے جسمانی حصوں کی بانسبت اس کی رنگت میں فرق ہوتا ہے ۔ان لوگوں کے ہاتھوں کی رنگت جو مکمل آستین والے کپڑے پہنتے ہیں بازو کی بانسبت کچھ سیاہ ہوتی ہے ۔اس سے ثابت ہوا کہ پردہ انسانی جلد کا محافظ ہے ۔سورج سے آنے والی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بھی حفاظت کرتا ہے ۔اور آج کل بڑھتی ہوئی آلودگی کے اثرات سے بھی بچاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  ڈیرہ غازیخان:عاشورہ محرم کےدوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقراررکھی جائےگی،DCO